صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس -…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

پھر ان کے بعد ایوب السختیانی؛ عبد اللہ بن عون؛ یونس بن عبید ؛ جعفر بن محمد ؛ الزہری ؛ عمرو بن دینار؛ یحیی بن سعید الأنصاری ؛ ربیعہ بن ابی عبد الرحمن ؛ ابو الزناد؛ یحي بن ابی کثیر؛ قتادہ ؛ منصور ابن المعتمر ؛ اعمش؛ حماد بن ابی سلیمان ؛ ہشام الدستوائی ؛ سعید بن ابی عروبہ رحمہم اللہ ۔

پھر ان کے بعد : مالک بن انس؛ حماد بن زید؛ حماد بن سلمہ ؛ لیث بن سعد ؛ اوزاعی؛ ابو حنیفہ ؛ ابن ابی لیلی؛

شریک ؛ ابن ابی ذئب ؛ ابن الماجشون رحمہم اللہ ؛ اور ان کے بعد جیسے : یحی بن سعید القطان ؛ عبد الرحمن بن مہدی ؛

وکیع ابن الجراح؛ عبد الرحمن بن القاسم ؛ اشہب بن عبد العزیز ؛ ابو یوسف ؛ محمد بن الحسن ؛ شافعی ؛ أحمد بن حنبل؛ اسحق بن راہویہ؛ ابی عبید ؛ ابو ثور رحمہم اللہ ؛ ان کے علاوہ اتنی بڑی تعداد جن کو صحیح طور پر اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جن کو غیر فاضل کو مقدم کرنے سے کوئی غرض نہیں ۔نہ ہی جاہ ومال کی غرض سے اور نہ ہی کسی لالچ کی بنا پر ۔ یہ وہ لوگ تھے جو سب سے بڑے علماء اور حقائق کی چھان بین کرنے والے تھے۔ یہ تمام حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکی تقدیم پر متفق ہیں ۔ بلکہ پہلے کے شیعہ جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں تھے ؛ وہ بھی جناب ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکی تقدیم پر متفق ہیں ۔علامہ ابن [امام عبدالرحمن بن قاسم المتوفی ( ۱۳۲۔۱۹۱)مقام الفسطاط کے مشہور علماء میں سے تھے، یہ امام مالک بن انس المتوفی ( ۱۸۱) کے شاگرد تھے اور ان کے علم و فضل کے مبلغ و ناشر تھے، اسد بن الفرات المتوفی (۱۴۲۔۲۱۳) نے ابن القاسم سے المدونہ کی تعلیم حاصل کی اور ۱۸۱ھ میں یہ کتاب لے کر قیروان پہنچے، ابن القاسم سے متعلق دیکھئے :مقالہ ’’ مع الرعیل الاول ‘‘ مجلہ الازہر، م: ۲۵ ج ۹ص ۹۹۶،۹۹۷، رمضان: ۱۳۷۳ھ)] القاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ امام مالک رحمہ اللہ سے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

’’جن اکابر سے میں نے ہدایت پائی ہے، ان میں سے کوئی بھی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی ۔حضرت عثمان وعلی رضی اللہ عنہما۔پرتقدیم میں شک نہیں رکھتا تھا۔‘‘

حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکی تقدیم پراہل مدینہ سے اجماع نقل کیا گیاہے۔

[یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ] اہل مدینہ کا بنو امیہ کی طرف کوئی میلان نہیں تھا؛ جیسا کہ اہل شام کرتے تھے۔ بلکہ اس کے برعکس انہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا ۔ واقعہ حرہ والے سال یزید سے جنگ کی ؛ اس کی وجہ سے مدینہ میں جو خونریزی ہوئی ؛ وہ سب کو معلوم ہے؛ نیز اہل مدینہ میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کسی ایک کو بھی ایسے قتل نہیں کیا جیسے اہل بصرہ و کوفہ اوراہل شام کو قتل کیا۔ بلکہ آپ کا شمار مدینہ کے علماء میں ہوتا تھا۔یہاں تک کہ آپ مدینہ سے باہر نکل گئے اورلوگ آپ پر ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو مقدم سمجھتے تھے۔

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی سند سے امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کیاہے ؛ آپ فرماتے ہیں :

’’ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کاحضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکو [باقی صحابہ پر] مقدم سمجھنے میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔‘‘

شریک بن ابی نمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ایک سائل نے آپ سے پوچھاکہ ابو بکر وعلی رضی اللہ عنہما میں سے کون افضل ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: ابو بکر رضی اللہ عنہ ۔ سائل نے آپ سے کہا : ’’آپ شیعہ ہوکر بھی یہ بات کہتے ہیں ؟

تو آپ نے فرمایا: ’’ ہاں شیعہ وہی ہو سکتا ہے جو اس قسم کا عقیدہ رکھتا ہو۔ اللہ کی قسم ! حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سیڑھیوں پرچڑھے؛ اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

(( خَیْرُ ہَذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ )) [سنن ابن ماجہ۔ المقدمۃ۔ باب فضل عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۱۰۶) ، مسند احمد(۱؍۱۰۶)۔]

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اس امت میں سب سے افضل ہیں ۔‘‘

کیا ہم آپ کی بات کو رد کریں ‘ یاپھر آپ کو جھٹلائیں ؟ اللہ کی قسم آپ ہر گز جھوٹے نہ تھے۔‘‘

قاضی عبد الجبار نے اپنی کتاب ’’ تثبیت النبوۃ ‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے‘اور اسے ابو القاسم بلخی کی کتاب کی طرف منسوب کیا ہے۔بلخی نے یہ کتاب راوندی کے رد پر لکھی ہے جو کہ اس نے جاحظ پر اعتراضات میں لکھی تھی۔ اس میں لکھا ہے :

’’ یہ کیسے کہا جاسکتا ہے : جن لوگوں نے [حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی] بیعت کی وہ دنیا کے طلبگار یا جاہل تھے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان صحابہ کرام کی شان میں طعن کرنے والا ان اوصاف سے متصف ہے۔ اس لیے کہ آپ اہل قبلہ کے طوائف میں سے کسی کو رافضیوں سے بڑھ کر جاہل نہیں پاؤ گے۔اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی دنیا کا حریص ہے۔ غور و فکر کرنے والا جان سکتا ہے رافضی جو عیب بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب کرتے ہیں ؛ وہ خود سب لوگوں سے بڑھ کر اس عیب کا شکار ہوتے ہیں ۔اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس عیب سے کوسوں دور ہوتے ہیں ۔ اس بنا پر رافضی بغیر شک و شبہ کے لوگوں میں سب سے بڑھ کر جھوٹے ہیں ۔ جیسے مسیلمہ کذاب اپنے اس دعوی میں جھوٹا تھا کہ : میں سچا نبی ہوں ۔‘‘اسی لیے یہ لوگ اپنے آپ کو اہل ایمان سے موصوف کرتے ہیں [خود کو مؤمن کہتے ہیں ]؛ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو منافق کہتے ہیں ۔ جب کہ خودرافضی لوگوں میں سب سے بڑے منافق ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو سب سے بڑے مومن تھے ۔‘‘

خلافت علی رضی اللہ عنہ اور بیعت:

صفحہ 3 از 4