کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی…

کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمررضی اللہ عنہ و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرار ہوئے تھے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا احد کے دن کیا کردار رہا؟

  علیان

صفحہ 1 از 6

کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ فرار ہوئے تھے؟ سیدنا علیؓ کا احد کے دن کیا کردار رہا؟

جہاں ایک طرف مودوی لعنتی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی مقدس جماعت کے بارے میں بکواس بکتا ہے کہ: 

سود خوری جس معاشرے میں ہوتی ہے وہاں سے غلطیاں ہوتی ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کی کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں غرور تھا نفرت والے تھے کنجوس اور بخیل تھے اور سیدنا عثمانؓ ڈرپوک تھے ان سب پیٹوں میں شراب تھی اور اسی وجہ سے مسلمانوں کو غزوہ احد میں شکست ہوئی۔

(تفہیم القرآن: جلد 1 صفحہ 288)۔

سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حوالے سے جو بات پیش کی جاتی ہے کہ وہ جنگِ احد سے فرار ہوئے اسکی حقیقت ملاحظہ فرمائیں:

پہلی روایت: حدثنا أبو بكر بن أبی دارم الحافظ بالكوفة حدثنا محمد بن عثمان بن أبی شيبة ثنا منجاب بن الحارث حدثنی علی بن أبی بكر الرازی ثنا محمد بن إسحاق بن يحيىٰ بن طلحة عن موسىٰ بن طلحة عن عائشة رضی الله عنها قالت: قال أبوبكر الصديق رضي الله عنه: لما جال الناس على رسول اللهﷺ يوم أحد كنت أول من فاء إلى رسول اللهﷺ الخ۔

ترجمہ: سیدہ اماں عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ جب لوگ رسول اللہﷺ کے پاس احد کے دن آئے تو سب سے پہلے میں آپﷺ کے پاس آیا۔

(مستدرک للحاکم: جلد 3 روایت 4374)۔

سب پہلی بات تو روایت سے ہی واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اسکے علاوہ احد کے دن جنگ سے بھاگ جانے یا فرار ہونے کا ہرگز ذکر نہیں کیا جبکہ اس روایت کو لیکر پیش ہی یوں کیا جاتا ہے کہ بھاگنے کے بعد یا فرار ہونے کے بعد سب سے پہلے سیدنا ابوبکرؓ حضورﷺ سے ملے جبکہ اس روایت سمیت جتنی روایات اس مضمون سے متعلق ہیں جتنی کتب میں آئی ہیں کسی روایت میں جنگ سے بھاگنے کے الفاظ ہی موجود نہیں وہ بقیہ تمام روایاتِ مع سند کے درج ذیل پیش کی جا رہی ہیں لیکن اس روایت کو لیکر شیعہ تو نام نہاد اہلِ سنت کے شیعت سے متاثر حضرات بھی بڑے زور و شور سے ان روایات کی بنیاد پر صحابہ کرامؓ کے بھاگ جانے کا ذکر کرتے ہیں 

اسکے باوجود اگر یہی مطلب لیا جاتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ جنگ سے بھاگ چکے تھے اسکے بعد ملنے والوں میں سب سے پہلے تھے تو ہم اس مطلب کو فرض کرتے ہیں تو بھی ہمیں یہ مطلب قبول نہیں کیونکہ یہ روایت اور اسی مضمون کی تمام روایات ضعیف ہیں۔

مذکورہ روایت کی سند کو دیکھا جائے:

سند کا پہلا راوی ابوبکر بن ابی دارم ہے جس کا اصل نام محمد بن احمد بن ابی دارم ہے۔

یہ راوی رافضی ہے خود حاکم نے اسے رافضی لکھا ہے حاشیہ اسی روایت کا دیکھا جا سکتا ہے۔

یہی بات میزان میں امام ذہبی نے بیان کی ہے کہ یہ رافضی ہے جس کی توثیق ثابت نہیں۔

(میزان الاعتدال: جلد 1 صفحہ 297)۔

اس روایت کا دوسرا راوی محمد بن عثمان بن ابی شیبہ ہے جسے امام احمد بن حنبل نے کذاب کہا۔

ابنِ خراش نے کہا حدیثیں گھڑتا تھا۔ 

(میزان الاعتدال: جلد 6 صفحہ 254)۔

اگلا راوی محمد بن اسحاق ہے جسے مذکورہ سند میں یوں بیان کیا گیا ہے:

محمد بن اسحاق بن یحییٰ جبکہ محمد بن اسحاق بن یسار ہے اور روایت کر رہا ہے یحییٰ سے اسکی وضاحت مذکورہ روایت کے حاشیئے میں مذکور ہے۔

محمد بن اسحاق کے احوال ملاحظہ فرمائیں:

امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ہے امام ابوحاتم فرماتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں کہ یہ قابلِ احتجاج نہیں محدث سلیمان تمیی فرماتے ہیں کہ یہ کذاب تھا۔امام ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ یہ کذاب تھا۔

امام یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا یہ کہ وہ کذاب ہے امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ یہ دجالوں میں سے ایک دجال تھا امام مالکؒ نے اس کو کذاب بھی فرمایا ہے اس پر شیعہ اور قدری ہونے کا الزام بھی ہے۔

امام خطیب بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ ابنِ اسحاق کے بارے میں امام مالکؒ کا کلام مشہور ہے اور حدیث کا علم رکھنے والوں میں سے کسی پر مخفی نہیں ہے علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ حلال و حرام کے بارے میں اس سے احتجاج صحیح نہیں ہے۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 569 تا 575)۔

اگلا راوی یحییٰ بن طلحہ ہے جو کہ کذاب ہے اور خطاء کرتا ہے۔

(تہذیب التہذیب: جلد 7 صفحہ 60)۔

ان راویوں کی وجہ سے یہ روایت ضعیف من گھڑت قرار پاتی ہے گویا مذکورہ روایت مردود ہے۔

دوسری روایت: أخبرنا أبوبكر محمد بن الحسن بن فورك رحمه الله قال: أخبرنا عبد الله بن جعفر بن أحمد قال: حدثنا يونس بن حبيب قال: حدثنا أبو داؤد الطيالسی قال: حدثنا ابن المبارك عن اسحاق بن يحيىٰ بن طلحة بن عبيد الله قال: أخبرنی عيسىٰ بن طلحة عن أم المؤمنين عائشةؓ قالت: كان أبوبكر إذا ذكر يوم أحد بكى ثم قال: كان ذاك يوماً كان كله يوم طلحة ثم أنشأ يُحدث قالت: قال كنت أول من فاء يوم أحد (إلى رسول اللهﷺ) رجلاً يقاتل مع رسول اللهﷺ دونه۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی: جلد 3 صفحہ 263)۔

مذکورہ روایت کی سند میں بھی پہلی روایت کے راوی موجود ہیں محمد بن اسحاق یحییٰ بن طلحہ یہ روایت بھی ان راویان کی وجہ سے مردود قرار پاتی ہے۔

تیسری روایت: حدثنا محمد بن سعد حدثنا سعيد بن سليمان سعدويه حدثنا إسحاق بن يحيىٰ حدثنا عيسىٰ بن طلحة عن عائشةؓ أم المؤمنين عن أبی بكر رضی الله تعالى عنهما قال: كنت أول من فاء إلى رسول اللهﷺ يوم أحد۔

(جمل من انساب الاشراف للبلاذری: جلد 11 صفحہ 4645)۔

مذکورہ روایت میں بھی محمد بن اسحاق اور یحییٰ موجود ہیں اس وجہ سے یہ روایت بھی مردود ہو جاتی ہے۔

چوتھی روایت: حدثنا ابو داؤد قال حدثنا ابن المبارك عن اسحاق بن يحيىٰ بن طلحة بن عبيد الله قال اخبر فی عيسى بن طلحة عن ام المؤمنين عائشةؓ قالت كان ابو بكر رضی الله عنه إذا ذكر يوم احد بكی ثم قال ذلك كله يوم طلحة ثم انشأ يحدث قال كنت اول من فاء يوم احد۔

(مسند ابی داؤد طیالسی: جلد 1 صفحہ 3)۔

یہ روایت بھی محمد بن اسحاق اور یحییٰ کی وجہ سے باطل ٹہرتی ہے۔

صفحہ 1 از 6