کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی…

کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمررضی اللہ عنہ و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرار ہوئے تھے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا احد کے دن کیا کردار رہا؟

  علیان

صفحہ 2 از 6

پانچویں روایت: حدثنا الفضل بن سهل قال: نا شبابة بن سوار قال: نا إسحاق بن يحيىٰ بن طلحة قال: حدثنی عيسىٰ بن طلحة عن عائشة رحمة الله عليها قالت: حدث أبی قال: لما انصرف الناس عن النبیﷺ يوم أحد كنت أول من فاء إلى رسول اللهﷺ۔

(مسند البزار: جلد 1 روایت 63)۔

مذکورہ روایت میں بھی محمد بن اسحاق اور یحییٰ موجود ہیں لیکن محمد بن اسحاق سے شبابہ بن سوار روایت بیان کر رہا ہے جو کی مرجئہ میں سے تھا اور عجائب بیان کرتا تھا امام احمد بن حنبلؒ نے اسے ترک کیا ہوا تھا مرجئہ ہونے کی وجہ سے ابوحاتم کہتے ہیں یہ قابلِ احتجاج نہیں۔

(تہذیب التہذیب: جلد 3 صفحہ 129 تا 132)۔

مذکورہ روایت بھی مردود ٹہرتی ہے۔

ان مذکورہ اسناد کے ساتھ ہی دیگر کتب میں یہ روایت موجود ہے جو کہ ہر صورت اپنی اسناد کی وجہ سے مردود ہے۔

جبکہ اوپر تفصیل بتادی گئی کہ اس روایت کو لیکر جو دجل کیا جاتا ہے وہ بات اس مضمون میں پائی ہی نہیں جاتی سرے سے کہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ سمیت دیگر اصحابِ جنگ سے بھاگے ہوں۔

اسی طرح سیدنا عمر بن خطابؓ پر یہی الزام عائد کیا جاتا ہے جن روایات کی بنیاد پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے وہ روایت ملاحظہ فرمائیں:

پہلی روایت: حدثنا أبو هشام الرفاعی قال: ثنا أبو بكر بن عياشی قال: ثنا عاصم بن كليب عن أبيه قال: خطب عمر يوم الجمعة فقرأ ( آلِ عمران ) وكان يُعجبه إذا خطب أن يقرأها فلما انتهى إلى قوله: (إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الجمعان له قال: لما كان يوم أحد هزمناهم ففررْتُ حتىٰ صعدت/ الجبل فلقد رأيتنی أنزو كأننی أروى) والناس يقولون: قبل محمد فقلت: لا أجد أحدًا يقول: قبل محمد إلا قتلته حتىٰ اجتمعنا على الجبل فنزلت: (إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ الآية كلها)۔

اس روایت میں سیدنا عمرؓ کا اپنا بیان روایوں کی طرف سے بیان کیا جا رہا ہے کہ ہم نے احد کے دن انہیں (دشمنوں) کو شکست دی تو میں بھاگ کھڑا ہوا پہاڑی کی طرف۔

(تفسیر طبری: جلد 6 صفحہ 172)۔

یہی روایت اسی سند سے کنز العمال میں موجود ہے

(کنز العمال: جلد 1 روایت 4288)۔

دیگر تفاسیر میں یہی روایت مذکور ہے۔

مذکورہ روایت بھی باطل ہے۔

مذکورہ روایت کی سند میں دو راوی ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ روایت مردود قرار پاتی ہے۔

پہلا راوی ابو ھشام الرفاعی جس کا نام محمد بن یزید ہے یہ بالاتفاق ضعیف ہے کثرت سے خطاء کرتا ہے اور مخالفت کرتا ہے۔

(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ 120۔121)۔

دوسرا راوی ابو بکر بن عیاش یہ غریب روایات بیان کرتا ہے۔

(تہذیب التہذیب: جلد 7 صفحہ 311)۔

اور یہ شیعہ راوی ہے جس کے احوال تشیع اسماء الرجال میں پائے جاتے ہیں اور یہ اصحابِ صادق میں سے تھا۔ 

(معجم الرجال للخوئی: جلد 22 صفحہ 71)۔

ان راویان کی وجہ سے یہ روایت بھی مردود قرار پاتی ہے۔

دوسری روایت: حدثنی عباس بن عبد الله الباكسائی ثنا الفيض بن اسحاق عن الفضيل بن عياض أنه قال: أتدرون من الذی يتكلم بفمه كله عمر بن الخطاب كان يكسوهم اللين ويلبس الخشن ويطعمهم الطيب ويأكل خبزاً مغلوثاً وأعطى رجلاً عطاء وزاده ألفاً فقيل له: لو زدت عبدالله بن عمر فإنه ابنك وهو لذلك مستحق فقال: هذا ثبت أبوه يوم أحد ولم يثبت أبو هذا۔

سیدنا عمرؓ نے جب اپنی خلافت کے زمانے میں لوگوں کے روزینے مقرر کئے تو ایک شخص کے روزینے کی نسبت لوگوں نے کہا اس سے زیادہ مستحق آپ کے فرزند سیدنا عبداللہؓ ہیں سیدنا عمرؓ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس کا باپ احد کی لڑائی میں ثابت قدم رہا تھا اور سیدنا عبداللہؓ کا باپ (یعنی سیدنا عمرؓ) نہیں رہا تھا۔

(جمل من انساب الاشراف:ملاحظہ جلد 10 صفحہ 304)۔

یہ روایت بھی کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے 

کیونکہ اس روایت کی سند میں دو راوی مجہول الحال ہیں پہلا راوی عبداللہ الباکسائی دوسرا راوی فیض بن اسحاق یہ دونوں راوی مجہول ہیں اس وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔

جبکہ اسکے برعکس سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی احد کے دن موجودگی ثابت ہے ہر طرح سے جو بھاگنے والی روایات کے خلاف ہے۔

ملاحظہ فرمائیں:

حدثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن ابی إسحاق عن البراء رضی الله عنه قال: لقينا المشركين يومئذ واجلس النبیﷺ جيشا من الرماة وامر عليهم عبد الله وقال: لا تبرحوا إن رايتمونا ظهرنا عليهم فلا تبرحوا وإن رايتموهم ظهروا علينا فلا تعينونا فلما لقينا هربوا حتٰى رايت النساء يشتددن فی الجبل رفعن عن سوقهن قد بدت خلاخلهن فاخذوا يقولون: الغنيمة الغنيمة فقال عبد الله: عهد إلي النبیﷺ ان لا تبرحوا فابوا فلما ابوا صرف وجوههم فاصيب سبعون قتيلا واشرف ابو سفيان فقال: افی القوم محمد؟ فقال لا تجيبوه فقال: افی القوم ابن ابی قحافة؟ قال: لا تجيبوه فقال: افی القوم ابن الخطاب؟ فقال: إن هؤلاء قتلوا فلو كانوا احياء لاجابوا فلم يملك عمر نفسه فقال: كذبت يا عدو الله ابقى الله عليك ما يخزيك قال ابو سفيان: اعل هبل فقال النبیﷺ: "اجيبوه" قالوا ما نقول؟ قال:"قولوا الله اعلى واجل" قال ابو سفيان: لنا العزى ولا عزى لكم فقال النبیﷺ : "اجيبوه" قالوا: ما نقول؟ قال: "قولوا الله مولانا ولا مولى لكم" قال ابو سفيان: يوم بيوم بدر والحرب سجال وتجدون مثلة لم آمر بها ولم تسؤنی۔

صفحہ 2 از 6