کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی…

کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمررضی اللہ عنہ و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرار ہوئے تھے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا احد کے دن کیا کردار رہا؟

  علیان

صفحہ 3 از 6

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ان سے اسرائیل نے بیان کیا ان سے ابنِ اسحاق (عمرو بن عبیداللہ سبیعی) نے اور ان سے سیدنا براء بن عازبؓ نے بیان کیا کہ جنگِ احد کے موقع پر جب مشرکین سے مقابلہ کے لیے ہم پہنچے تو نبی کریمﷺ نے تیر اندازوں کا ایک دستہ سیدنا عبداللہ بن جبیرؓ کی ماتحتی میں (پہاڑی پر) مقرر فرمایا تھا اور انہیں یہ حکم دیا تھا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اس وقت بھی جب تم لوگ دیکھ لو کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں پھر بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور اس وقت بھی جب دیکھ لو کہ وہ ہم پر غالب آ گئے تم لوگ ہماری مدد کے لیے نہ آنا پھر جب ہماری مڈبھیڑ کفار سے ہوئی تو ان میں بھگدڑ مچ گئی میں نے دیکھا کہ ان کی عورتیں پہاڑیوں پر بڑی تیزی کے ساتھ بھاگی جا رہی تھیں پنڈلیوں سے اوپر کپڑے اٹھائے ہوئے جس سے ان کے پازیب دکھائی دے رہے تھے سیدنا عبداللہ بن جبیرؓ کے (تیرانداز) ساتھی کہنے لگے کہ غنیمت غنیمت اس پر سیدنا عبداللہؓ نے ان سے کہا کہ مجھے نبی کریمﷺ نے تاکید کی تھی کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا (اس لیے تم لوگ مالِ غنیمت لوٹنے نہ جاؤ) لیکن ان کے ساتھیوں نے ان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ان کی اس حکم عدولی کے نتیجے میں مسلمانوں کو ہار ہوئی اور ستر مسلمان شہید ہو گئے اس کے بعد ابوسفیان نے پہاڑی پر سے آواز دی کیا تمہارے ساتھ محمدﷺ موجود ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ کوئی جواب نہ دے پھر انہوں نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ ابنِ ابی قحافہ موجود ہیں؟ آپﷺ نے اس کے جواب کی بھی ممانعت فرما دی انہوں نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ ابنِ خطاب موجود ہیں؟ اس کے بعد وہ کہنے لگے کہ یہ سب قتل کر دیئے گئے اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے اس پر سیدنا عمرؓ بے قابو ہو گئے اور فرمایا: اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے اللہ نے ابھی انہیں تمہیں ذلیل کرنے لیے باقی رکھا ہے ابوسفیان نے کہا، ہبل (ایک بت) بلند رہے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اس کا جواب دو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ کہو اللہ سب سے بلند اور بزرگ و برتر ہے ابوسفیان نے کہا ہمارے پاس عزیٰ (بت) ہے اور تمہارے پاس کوئی عزیٰ نہیں آپﷺ نے فرمایا کہ اس کا جواب دو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کیا جواب دیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ کہو اللہ ہمارا حامی اور مددگار ہے اور تمہارا کوئی حامی نہیں ابوسفیان نے کہا آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی کی مثال ڈول کی ہوتی ہے (کبھی ہمارے ہاتھ میں اور کبھی تمہارے ہاتھ میں) تم اپنے مقتولین میں کچھ لاشوں کا مثلہ کیا ہوا پاؤ گے میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن مجھے برا نہیں معلوم ہوا۔

(بخاری: جلد 8 روایت نمبر 4043)۔

یہی مضمون دیگر کُتب میں موجود ہے بسند صحیح مزید ملاحظہ فرمائیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس کون کون ثابت قدم رہا۔ 

البدایہ:

فلما عرف المسلمون رسول اللهﷺ نهضوا به ونهض معهم نحو الشعب معه أبو بكر الصديقؓ وعمر بن الخطابؓ وعلیؓ بن أبی طالب وطلحة بن عبيد اللهؓ والزبير بن العوامؓ والحارث بن الصمةؓ ورهط من المسلمين۔

حضورﷺ کے پاس سیدنا ابو بکر صدیقؓ سیدنا عمر بن خطابؓ سیدنا علیؓ بن ابی طالب سیدنا طلحہ بن عبید اللہؓ سیدنا زبیر بن عوامؓ سیدنا حارث بن صمۃؓ

(البدایہ والنہایہ: جلد 4 صفحہ 35)۔

اس مضمون جیسی روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہرگز ہرگز احد کے دن جنگ سے نہیں بھاگے تھے بلکہ حضورﷺ کے پاس ہی موجود تھے۔

اسی طرح کا الزام سیدنا عثمانؓ پر لگایا جاتا ہے کہ وہ احد کے دن جنگ سے بھاگ گئے تھے۔

سب سے پہلے بخاری کی وہ روایت جسے پڑھ کر اکثر لوگوں کو دھوکہ لگتا ہے اسکی حقیقت ملاحظہ فرمائیں:

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ‏‏حَدَّثَنَا عُثْمَانُؓ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟ ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَؓ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ عُمَرَؓ إِنِّی سَائِلُكَ عَنْ شَیءٍ فَحَدِّثْنِی هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَؓ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ قَالَ:‏‏‏‏ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عُمَرَؓ:‏‏‏‏ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ،‏‏‏ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِﷺ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ،‏‏‏ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَؓ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُفَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِﷺ عُثْمَانَؓ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُؓ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏ بِيَدِهِ الْيُمْنَى هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَؓ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ ‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ لِعُثْمَانَؓ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَؓ: اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ۔

صفحہ 3 از 6