کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی…

کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمررضی اللہ عنہ و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرار ہوئے تھے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا احد کے دن کیا کردار رہا؟

  علیان

صفحہ 4 از 6

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابوعوانہ نے کہا ہم سے سیدنا عثمانؓ بن موہب نے بیان کیا کہ مصر والوں میں سے ایک نام نامعلوم آدمی آیا اور حج بیت اللہ کیا پھر کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو اس نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کسی نے کہا کہ یہ قریشی ہیں اس نے پوچھا کہ ان میں بزرگ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ ہیں اس نے پوچھا اے سیدنا ابنِ عمرؓ! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں امید ہے کہ آپؓ مجھے بتائیں گے کیا آپؓ کو معلوم ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے احد کی لڑائی سے راہِ فرار اختیار کی تھی؟ سیدنا ابنِ عمرؓ نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہوا تھا پھر انہوں نے پوچھا: کیا آپؓ کو معلوم ہے کہ وہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے؟ جواب دیا کہ ہاں ایسا ہوا تھا اس نے پوچھا کیا آپؓ کو معلوم ہے کہ وہ بیعتِ رضوان میں بھی شریک نہیں تھے جواب دیا کہ ہاں یہ بھی صحیح ہے یہ سن کر اس کی زبان سے نکلا اللہ اکبر تو سیدنا ابنِ عمرؓ نے کہا کہ قریب آ جاؤ اب میں تمہیں ان واقعات کی تفصیل سمجھاؤں گا احد کی لڑائی سے فرار کے متعلق میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نکاح میں رسول اللہﷺ کی صاحبزادی تھیں اور اس وقت وہ بیمار تھیں اور نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ تمہیں (مریضہ کے پاس ٹھہرنے کا) اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو گا اور اسی کے مطابق مالِ غنیمت سے حصہ بھی ملے گا اور بیعتِ رضوان میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر وادی مکہ میں کوئی بھی شخص (مسلمانوں میں سے) سیدنا عثمانؓ سے زیادہ عزت والا اور با اثر ہوتا تو نبی کریمﷺ اسی کو ان کی جگہ وہاں بھیجتے یہی وجہ ہوئی تھی کہ آپﷺ نے انہیں (قریش سے باتیں کرنے کے لیے) مکہ بھیج دیا تھا اور جب بیعتِ رضوان ہو رہی تھی تو سیدنا عثمانؓ مکہ جا چکے تھے اس موقع پر نبی کریمﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ سیدنا عثمانؓ کا ہاتھ ہے اور پھر اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ یہ بیعت سیدنا عثمانؓ کی طرف سے ہے اس کے بعد سیدنا ابنِ عمرؓ نے سوال کرنے والے شخص سے فرمایا کہ جا ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ 

(بخاری: جلد 5 روایت نمبر 3688)۔

سیدنا ابنِ عمرؓ نے ان الفاظ کے ذریعہ گویا اس آیت کی طرف اشارہ کیا:

اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّ يْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ  

(سورۃ آلعمران آیت 155)۔

ترجمہ: یقیناً تم میں جن لوگوں نے پشت پھیر دی تھی جس روز کہ دونوں جماعتیں باہم مقابل ہوئیں اس کے سوا اور کوئی اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ ان کو شیطان نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے سبب سے اور یقین سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا واقعی اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے ہیں بڑے حلم والے ہیں ۔

دراصل ہوا یہ تھا کہ جنگِ احد کے دن آنحضرتﷺ نے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک دستہ کو جن میں سیدنا عثمانؓ بھی تھے ایک بہت اہم اور نازک مورچہ پر کھڑا کر دیا تھا اور ان کو حکم دیا تھا کہ اس مورچہ کو کسی حالت میں خالی نہ چھوڑا جائے اور ہر شخص اپنی جگہ پر جما رہے مگر جب دشمن کو شکست ہو گئی اور دشمن بھاگنے لگا تو مجاہدین نے ان کا تعاقب شروع کیا دشمن کے فرار اور مجاہدین اسلام کے تعاقب کو دیکھ کر اس مورچہ پر متعین دستہ یہ سمجھا کہ جنگ ختم ہو گئی ہے اور دشمن پوری طرح بھاگ کھڑا ہوا ہے اور پھر اس دستہ کے اکثر مجاہد بھی مورچہ کو چھوڑ کر بھاگتے ہوئے دشمن کا تعاقب کرنے اور اس کا مالِ غنیمت اکٹھا کرنے میں مشغول ہوگئے بھاگتے ہوئے دشمن کے ہوشیار کمانڈر جو اس مورچہ کی اہمیت کو پہلے ہی نظر میں رکھے ہوئے تھے اب انہوں نے اس کو خالی دیکھا تو اپنے فوجیوں کے ساتھ تقریباً ایک میل کا چکر کاٹ کر پیچھے سے اس مورچہ پر پہنچ گئے اور وہاں مجاہدین اسلام پر گھات لگا کر ٹوٹ پڑے عقب سے دشمن کے اس اچانک حملہ نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا اور فتح مسلمانوں کے ہاتھ آ کر بظاہر چھن گئی مورچہ چھوڑ کر ہٹ جانا چونکہ رسول برحقﷺ کے حکم کی بظاہر خلاف ورزی تھی اور ان مجاہدین کی کمزوری اور کوتاہی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ وتہدید فرمائی لیکن اپنے فضل وکرم سے اس کوتاہی کو معاف بھی فرمادیا۔ 

پس سیدنا عثمانؓ سے عناد رکھنے والوں نے اس واقعہ کو سیدنا عثمانؓ کی تحقیر و تنقیص کا ذریعہ بنایا حالانکہ اول تو جب اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے درگزر فرما دیا تو اب دوسروں کو مواخذہ یا طعن کرنے کا کیا حق رہ گیا۔

 دوسرے اس واقعہ میں صرف سیدنا عثمانؓ ہی کی ذات تو ماخوذ تھے نہیں مورچہ چھوڑنے والے سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس میں شامل تھے جب کوتاہی ہوئی تو سب سے ہوئی اور پھر معافی ملی تو سب کو ملی۔

 لہٰذا تنہا سیدنا عثمانؓ کو نشانہ بنانا ویسے بھی غیر منصفانہ بات ہے۔

تمہیں بھی وہی ثواب اور حصہ ملے گا:

 آنحضرتﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جنگِ بدر میں تمہارا شریک نہ ہونا چونکہ عذر اور میرے حکم کے تحت ہے اس لئے تم دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے ان لوگوں کے حکم میں سمجھے جاؤ گے جو اس جنگ میں شریک ہوں گے پس سیدنا عثمانؓ کا جنگِ بدر میں شریک نہ ہونا ان کے حق میں نقصان کا موجب ہرگز نہ ہوا اور نہ اس بنیاد پر ان کی تنقیص کرنے کا حق کسی کو پہنچتا ہے اس جنگ میں ان کی عدم شرکت ایسی ہی ہے جیسے غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرتﷺ نے سیدنا علیؓ کو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا تھا اور وہ اسلامی لشکر کے ساتھ تبوک نہیں گئے تھے۔ 

تاہم یہ بات تحقیقی طور پر معلوم نہیں ہوئی کہ آنحضرتﷺ نے جنگِ بدر کے مالِ غنیمت میں سیدنا عثمانؓ کا حصہ لگا یا تھا یا نہیں؟

صفحہ 4 از 6