کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی…

کیا غزوہ احد میں کوئی بھی صحابی بالخصوص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمررضی اللہ عنہ و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرار ہوئے تھے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا احد کے دن کیا کردار رہا؟

  علیان

صفحہ 5 از 6

سیدہ رقیہؓ آنحضرتﷺ کی صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں جنگِ بدر کے دنوں میں وہ سخت بیمار تھیں اور آنحضرتﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ بدر میں شامل نہ ہوں بلکہ سیدہ رقیہؓ کی تیمارداری اور خبر گیری کے لئے مدینہ ہی میں رہیں آنحضرتﷺ کو سیدنا عثمانؓ سے کس قدر تعلق خاطر تھا اور ان سے آپﷺ کس قدر راضی و خوش تھے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپﷺ نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دی اور پھر اس بیماری میں جب سیدہ رقیہؓ کا انتقال ہوگیا تو اپنی دوسری بیٹی سیدہ ام کلثومؓ کا بھی نکاح سیدنا عثمانؓ سے کردیا اسی سبب سیدنا عثمانؓ "ذوالنورین" کے لقب سے مشہور ہوئے اور پھر جب سیدہ ام کلثومؓ کا بھی انتقال ہو گیا تو آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی سیدنا عثمانؓ سے کر دیتا۔

 ایک روایت میں جس کو طبرانی نے نقل کیا ہے آپﷺ نے یہ بھی فرمایا: میں نے سیدنا عثمانؓ سے اپنی دونوں پیاری بیٹیوں کا نکاح وحی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حکم آنے پر کیا تھا ۔ 

سیدنا عثمانؓ کو مکہ روانہ کیا "سیدنا عثمانؓ کو اس مشن پر روانہ کیا گیا تھا کہ وہ آنحضرتﷺ کی طرف سے اہلِ مکہ سے گفتگو کریں اور ان کو اس پر آمادہ کریں کہ وہ آنحضرتﷺ اور مسلمانوں کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونے سے نہ روکیں جن مصالح کو سامنے رکھ کر اس مشن کے لئے سیدنا عثمانؓ کا انتخاب ہوا تھا وہ درست ثابت ہوئے مکہ میں اسلام اور اہلِ اسلام کے معاندین و مخالفین کو سیدنا عثمانؓ کے خلاف کسی ایسے اقدام کی جرأت نہیں ہوئی جس سے بعض صحابہ

کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خطرہ کا اظہار کیا تھا سیدنا عثمانؓ کے اعزاء اور متعلقین نے مکہ میں ان کی آمد کی اطلاع پاکر ان کا پر تپاک استقبال کیا سواری پر بٹھا کر ان کو اپنے آگے کیا اور جلوس کی شکل میں لے کر چلے ان سب لوگوں نے یہ اعلان بھی کردیا کہ سیدنا عثمانؓ ہمارے معزز مہمان اور ہماری پناہ میں ہیں کوئی ان سے تعرض کی جرأت نہ کرے نہ صرف یہ بلکہ ان لوگوں نے سیدنا عثمانؓ سے کہا کہ تم عمرہ کی نیت سے خانہ کعبہ کا طواف بھی کر سکتے ہو تمہیں کوئی نہیں منع کرے گا مگر سیدنا عثمانؓ نے ان کی اس پیش کش کو شکریہ کے ساتھ رد کر دیا اور فرمایا نہیں میں آنحضرتﷺ کے بغیر اور آپﷺ کی عدم موجودگی میں تنہا طواف ہرگز نہیں کروں گا۔

سیدنا عثمانؓ کے مکہ جانے کے بعد:

یعنی بیعتِ رضوان کا واقعہ سیدنا عثمانؓ کی موجودگی میں پیش ہی نہیں آیا تھا کہ ان میں ان کی شرکت یا عدمِ شرکت کی بحث کھڑی ہوئی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب سیدنا عثمانؓ مکہ پہنچ گئے اور وہاں مصالحتی گفتگو شروع ہوئی تو اس نے طول کھینچا اور سیدنا عثمانؓ کی واپسی میں تاخیر ہو گئی اس سے مسلمانوں میں بے چینی تو پیدا ہو ہی گئی تھی مستزاد یہ کہ کہیں سے یہ خبر آکر مشہور ہو گئی کہ نہ صرف سیدنا عثمانؓ کا مصالحتی مشن ناکام ہو گیا ہے بلکہ اہلِ مکہ اس حد تک آمادہ شر ہیں کہ وہ اپنا لشکر جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کی نیت سے حدیبیہ کی طرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ایک یہ خبر بھی آئی کہ سیدنا عثمانؓ کو اہلِ مکہ نے قتل کر دیا ہے اس پر آنحضرتﷺ نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور دشمنانِ دین کے مقابلہ کی تیاری شروع کردی آپﷺ نے ایک درخت کے نیچے ایک ایک مسلمانوں سے یہ بیعت لی کہ کوئی یہاں سے بھاگے گا نہیں بلکہ اپنی جان گنوا کر بھی دشمن کا مقابلہ کرے گا اور اگر سیدنا عثمانؓ واقعۃً قتل کردئیے ہیں تو ان کے خون کا بدلہ لے گا اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ یعنی سیدنا عثمانؓ کے بارے میں اگر تم مجھ سے کچھ معلومات جمع کر کے لے جانا جاہتے ہو تو میری ان باتوں کو اپنے ساتھ لے جاؤ تمہارے سوالات اور میرے جواب اگر کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں تو تمہیں ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ کہ ہمیں یاان الفاظ سے سیدنا ابنِ عمرؓ کی مراد یہ تھی کہ: اگر تم حق کے متلاشی اور سچائی جاننے کے خواہش مند ہو تو میں نے تفصیلی طور اب جو حقائق تمہارے سامنے بیان کئے ہیں ان کو پلے باندھ لو اور دل و دماغ میں رکھ کر لے جاؤ اور سیدنا عثمانؓ کے حق میں جو برے خیالات اور بدگمانیاں رکھتے ہو ان سے اپنا ذہن پاک وصاف کرلو۔

اس روایت معلوم ہوجاتا ہے کہ سیدنا عثمانؓ پر لگائے جانا والا الزام بھی بے بنیاد ہے۔

آئیے سبائیت کے گھر سے گواہی ملاحظہ فرمائیں:

سبائیت کے مصادر و ماخذ کیا کہتے ہیں اس حوالے سے طبرسی لکھتا ہے کہ:

اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اپنی معافی کا دوبارہ ذکر اس لیئے فرمایا کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنی معافی کی شدید خواہش تھی اور اس لیے بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نا امیدی سے نجات مل جائے او اس کے علاوہ مومنوں کے ظن کی تحسین کے لئے ایسا کیا بےشک اللہ بخشنے والا بردبار ہے اس اور کا معنیٰ گزر چکا ہے ابو القاسم البلخی نے ذکر کیا ہے کہ میدانِ احد میں حضورﷺ کے ساتھ صرف تیرہ افراد رہ گئے تھے۔ 

پانچ مہاجر اور آٹھ انصار مہاجر پانچ یہ تھے سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ۔

(مجمع البیان: جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 338)۔

ابو الفتح اربلی لکھتا ہے کہ:

آپ حضورﷺ کے ساتھ چودہ (14) حضرات ثابت قدم رہے سات مہاجرین میں سے اور سات انصار میں سے تھے

مہاجرین سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ سیدنا علیؓ بن ابی طالب سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا عبیدہ بن الجراحؓ اور سیدنا زبیر بن العوامؓ تھے۔

اور انصار میں سے سیدنا حبابؓ بن مندر سیدنا ابو دجانہؓ سیدنا عاصم بن ثابتؓ سیدنا حارثؓ بن صمد سیدنا سہیلؓ بن حنیف سیدنا اسیدؓ بن حضیر اور سیدنا سعد بن معاذؓ تھے۔

(کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ: جلد 1 صفحہ 358)۔

تفسیر عیاشی اور تفسیر صافی میں بھاگنے والوں کو اصحابہ عقبہ کہا گیا ہے نہ کسی صحابی کو شمار کیا گیا ہے۔

(تفسیر عیاشی: جلد 1 صفحہ 225)۔

(تفسیر صافی: جلد 2 صفحہ 174)۔

صفحہ 5 از 6