غسل نماز جنازہ اور تدفین
علی محمد الصلابیحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ’’سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ غسل دیے گئے، کفنائے گئے اور نماز جنازہ پڑھی گئی۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ شہید تھے۔‘‘
(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 366، اس کی سند صحیح ہے۔)
علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص مظلومیت کی حالت میں قتل کر دیا جائے تو کیا وہ شہید کے حکم میں ہوگا کہ اسے غسل نہ دیا جائے یا عام میت کے حکم میں ہوگا کہ اسے غسل دیا جائے؟
پہلا قول: اس کو غسل دیا جائے گا۔ اس قول کی دلیل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہی مذکورہ واقعہ ہے۔
(الإنصاف: مرداوی: جلد 2 صفحہ 503، محض الصواب: جلد 3 صفحہ 844)
دوسرا قول: نہ غسل دیا جائے گا اور نہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ کرامؓ نے جو کچھ کیا اس کا جواب یہ ہے کہ مظلوم مقتول سے قطع نظر وہ شہید بھی جو معرکہ جہاد میں لڑتے ہوئے زخمی ہو اور اسے اتنا موقع مل جائے کہ کھا پی سکے یا کچھ دن تک زندہ رہے تو اسے غسل دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ پس اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کے بعد سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ دیر تک زندہ رہے، اتنی دیر کہ طبیب نے سیدنا عمرؓ کو دودھ اور شربت پلایا، اسی لیے آپؓ کو غسل دلایا گیا اور آپؓ پر نماز جنازہ پڑھی گئی۔
(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 845 )
3: نماز جنازہ کس نے پڑھائی؟
امام ذہبی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔
(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 845)
اور ابن سعد کا کہنا ہے کہ علی بن حسینؓ نے سعید بن مسیبؓ سے پوچھا: عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ کس نے پڑھائی؟ انہوں نے جواب دیا: صہیب رضی اللہ عنہ نے۔ علی نے سعید سے پوچھا: کتنی تکبیریں کہیں؟ انہوں نے کہا: چار۔ پھر پوچھا: کہاں نماز جنازہ پڑھی گئی؟ انہوں نے کہا: قبر اور منبر رسول اللہ کے درمیان۔
(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 366، اس کی سند میں خالد بن الیاس نامی متروک راوی ہیں۔)
اور ابن مسیبؓ کا کہنا ہے کہ: جب مسلمانوں نے دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرض نمازوں میں ان کی امامت کرتے تھے تو انہوں نے نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھایا، پھر انہوں نے نماز جنازہ پڑھائی۔
(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 367، محض الصواب: جلد 3 صفحہ 845)
فاروقی تدبیر و سیاست کا ایک پہلو یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ خلافت کی نامزدگی کے لیے جن چھ افراد کی مجلس شوریٰ بنائی تھی ان میں کسی کو اپنی جگہ امامت کا حق نہیں دیا تھا، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نماز کی امامت استحقاق خلافت کی علامت بن جائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہؓ کی نگاہ میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت مسلم تھی اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں فرمایا: ’’صہیب کتنا اچھا آدمی ہے، اس کے دل میں اللہ کا ڈر ہے کہ وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتا۔‘‘
(الفتاوٰی: جلد 15 صفحہ 140)
4: تدفین
امام ذہبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین حجرۂ نبویہ میں ہوئی۔‘‘
(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 846)
اور ابن الجوزیؒ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ سیدنا فاروق اعظم عمر رضی اللہ عنہ کی قبر میں سیدنا عثمان، سعید بن زید، صہیب اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اترے۔
(ابن مروان الاموی خلفاء بنی امیہ میں سے ہیں)
اور ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ولید بن عبدالملک(صحیح البخاری: الجنائز: 1326) کے زمانے میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبر پر دیوار گر گئی تھی تو لوگ اسے بنانے لگے، انہیں ایک پاؤں دکھائی دیا، وہ گھبرا گئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ شاید یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں ہے، کوئی اس کی شناخت نہیں کر پا رہا تھا، یہاں تک کہ عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں نہیں ہے، بلکہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔
(صحیح البخاری: الاعتصام: 2671، 6897)
اور تدفین سے متعلق یہ بات گزر چکی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ تدفین کی اجازت طلبی کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا، تو سیدہ عائشہ نے اجازت دی تھی، جب کہ ہشام بن عروہ بن زبیر کہتے ہیں: صحابہ کرامؓ میں سے اگر کوئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام بھیجتا کہ حجرۂ نبویہ میں ہمیں تدفین کی اجازت دے دیں تو کہتی تھیں: اللہ کی قسم اس سلسلے میں کسی کو اپنے اوپر ترجیح نہ دوں گی۔
(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 847)
چنانچہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ مسجد نبوی سے متصل اس حجرۂ نبویہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مدفون ہیں۔
(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 847)