اللہ کا شکر ہے کہ مرنے سے پہلے مسلمان بن گیا ہوں - ردِ…

اللہ کا شکر ہے کہ مرنے سے پہلے مسلمان بن گیا ہوں

  ندیم منیر

صفحہ 2 از 3
جواب: انہوں نے نماز اپنی بنائی ہوئی ہے اس کے عقائد اسلام سے متصادم ہیں نماز کے علاؤہ ان کی دیگر عبادات بھی مختلف ہیں۔

سالوجی ساؤتھ افریقہ

مسلم امہ نے اب تک شیعہ کو کافر کیوں نہیں قرار دیا؟
جواب: شیعہ کے بنیادی اصولوں میں تقیہ ایسا ہتھیار ہے جس کی وجہ سے ان کے اصل عقائد آج تک امتِ مسلمہ سے مخفی رہے بلکہ ان کے امام کی ایک روایت ہے کہ ہمارا دین نو حصے تقیہ ہے جس نے تقیہ اختیار کیا اس نے عزت پائی جس نے تقیہ کو چھوڑا وہ ذلیل ہوا ان کے نزدیک تقیہ بہت بڑی عبادت ہے اسی عبادت تقیہ کی وجہ سے بڑے علماء دھوکہ کھا گئے اور ان کو مسلمانوں کا یہ ایک فرقہ سمجھتے رہے لیکن جب ایران میں خمینی کا انقلاب آیا اس نے اپنی قوت و طاقت کے زعم میں اس تقیہ والے حکم کو منسوخ کرنے کی تاریخ ساز غلطی کر دی جس کی وجہ سے ان کا اصل مذہب ننگا ہونا شروع ہو گیا اس وقت بعض مرتدین نے اس منسوخی کی مخالفت کی تھی اگرچہ لوگ اپنی اصلی عقائد جس میں ان کے نزدیک معاذ اللہ خلفائے ثلاثہؓ منافق اور کافر ہیں اور موجودہ قرآن اصلی نہیں ہے ظاہر کر دیں تو بتائیں کوئی آدمی ان کو مسلم سمجھنے کے لیے تیار ہوگا میں چونکہ خود شیعہ خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اس لیے ان کے اندر کی چالوں کو جانتا ہوں یہ لوگ امتِ مسلمہ کو دھوکہ میں رکھ کر مسلمان ہی بنے رہتے ہیں لیکن جب موقع اور ماحول مناسب جانتے ہیں اس وقت اپنے عقائد ظاہر کرنے اور تبرا کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔

مولانا عادل ساؤتھ افریقہ

شیعہ کے عقائد بداء پر روشنی ڈالیں؟
جواب: جب کوئی واقعہ جس کا پہلے کوئی تصور نہ ہو اچانک ہو جائے اس کو شیعہ بداء کہتے ہیں یعنی ایک بات کا اللہ کو نعوذ باللہ پہلے علم نہیں تھا پھر اچانک پتہ چل گیا اس کو شیعہ کہتے ہیں کہ اللہ کو بداء ہو گیا۔ 

نوید لاہور سے

اگر آپ شیعہ ہیں تو نادِ علی سنائیں؟
جواب: یہ تو کوئی سوال نہیں آپ مجھ سے میرا پتہ لے کر تصدیق کر لیں خلافتِ راشدہ رسالے کے انٹرویو میں میرے محلے اور شہر کا نام لکھا ہے وہاں سے تصدیق کر لیں۔

حسین لکھنؤ سے

شیعہ کی کتنی قسمیں ہیں؟
جواب: شیعہ کی بنیادی دو قسمیں ہیں ایک امامیہ اور دوسرا تفضیلی پھر آگے درجنوں شاخیں ہیں امامیہ شیعہ میں سے اس وقت اثناء عشری اور آغا خانی ہی موجود ہے باقی سب تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

حسین آدم ساؤتھ افریقہ

متعہ کے متعلق کچھ وضاحت فرمائیں؟۔
جواب: متعہ دراصل شیعہ مذہب کے فروغ کا بہت بڑا ہتھیار ہے متعہ کے بہت بڑے فضائل ان کی کتابوں میں موجود ہیں لوگ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ متعہ قرآن کا حکم ہے لیکن سیدنا عمرؓ نے قرآن کی مخالفت میں اسے منسوخ کر دیا نعوذ باللہ اگر کوئی ان سے سوال کرے کہ آپ بتائیں آپ کی والدہ محترمہ یا آپ کی باجی صاحبہ یہ ثواب کا عمل دن میں کتنی بار کرتی ہیں تو پھر یہ لوگ شرمندہ ہونے کی بجائے اصحابِ رسولﷺ کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

پینڈو 3:

نامی شخص نے کہا کہ آپ نے چیلنج دیا ہے کہ شیعہ میں سے کوئی شخص حافظِ قرآن نہیں ہو سکتا میں خود حافظِ قرآن ہوں اور شیعہ ہوں آپ کی بات بھی غلط ہو گئی؟
جواب:اس کے جواب میں علامہ قمی نے کہا کہ اگر آپ حافظِ قرآن ہیں تو میں پھر ابھی آپ کا امتحان لیتا ہوں یہ بات سنتے ہی شیعہ بھاگ گیا۔

یاعلی امریکہ سے

یہ دہشت گرد گروہ (سپاہِ صحابہؓ) کہتے ہیں کہ ہم شیعہ قرآن کو نہیں مانتے ہم قرآن کو نہیں مانتے ہم تو قرآن پر مکمل یقین رکھتے ہیں اس لیے یہ جھوٹے ہوئے یا نہیں ؟
جواب:
جب سے ملی ہے مجھے تصور کی روشنی
 دیکھے بغیر آپ کو پہچانتا ہوں میں
 دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو
 چاہوں تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں 
محترم سامعین میں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے شیعہ کے عقائد ان کی اپنی اصلی کتابوں سے ثابت کرنے کے لیے ایک کتابچہ تحریر کیا ہے جس کا نام امتِ مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے اس کتابچے میں شیعوں کے مترجم قرآن مجید تین اہم مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔
پہلا مسئلہ کتاب اللہ
 اس مسئلہ میں ثابت کیا گیا ہے کہ موجودہ قرآنِ مجید کو عبداللہ ابنِ سباء یہودی کے پیروکار ہرگز ہرگز نہیں مانتے اور تحریف لفظی و معنوی دونوں کے قائل ہیں۔ 
دوسرا مسئلہ سیدنا علیؓ ولی اللہ
 شیعہ کے نزدیک سیدنا علیؓ ولی اللہ شہادت ثالثہ ہے یعنی ولایتِ سیدنا علیؓ کی تیسری گواہی دینا اذان اور کلمہ توحید میں لازمی ہے اور درجہ کے لحاظ سے ولایتِ سیدنا علیؓ تمام انبیاءؑ اور رُسل سے افضل ہے اس کے ساتھ ساتھ تمام انبیاءؑ و رُسل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ولایتیں اور رسالتیں مل چکی ہیں وہ بھی ولایتِ سیدنا علیؓ کی وجہ سے ہیں (العیاذباللہ)۔
تیسرا مسئلہ اصحابِ رسولﷺ
صحابہ کرامؓ جن کو جنت کی خوشخبری دنیا میں ہی عنایت فرمائی ہے ایسے فدایانِ قرآنُ و سنت کے بارے پیروکارانِ عبداللہ ابنِ سباء یہودی نے کیا کچھ مغلظات لکھے ہیں اس کا تذکرہ ہے مزید ایسے دانشوروں کے لیے معزز اور درس عبرت بھی ہے جو ایرانی انقلاب کو بزعم خواہش (العیاذ باللہ) محمدی انقلاب سے تعبیر کرتے ہیں۔

سامعین کرام!

اس مختصر کتابچے کو شائع کرنے کے بعد جو مفید نتائج برآمد ہوئے ہیں ان کا ذکر بھی آپ کے سامنے کرنا ضروری سمجھتا ہوں:
  1. عبداللہ ابنِ سباء کے پیروکاروں کے تحریف کردہ قرآن مجید کے بارے میں جب سے یہ کتابچہ تحریر کیا گیا ہے حکومتِ پاکستان نے اس ترجمہ قرآن پر پابندی لگا دی ہے اور چھاپہ مار کر محرف شدہ قرآنِ مجید کے ساڑھے تین ہزار نسخے ضبط کر لیے (والحمد للہ علی ذالک)۔
  2.  پاکستان کے مختلف گوشوں میں اس کتابچہ کے ذریعے 76 گھرانے شیعیت و یہودیت کو چھوڑ کر حقیقی مذہب اہلِ بیتؓ اور حلقۂ قرآن و سنت کے پیروکاروں میں شامل ہو کر ہدایت ربانی سے سرفراز ہوئے (ثم الحمد للہ ذالک)۔
  3.  مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی رائے کے مطابق یہ کتابچہ انتہائی مختصر اور جامع ہونے کے ساتھ ہر مسلمان گھر میں موجود ہونا چاہیے خود بھی غور سے پڑھیں اور دوسروں کو بھی پڑھائیں۔
صفحہ 2 از 3