سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان
علی محمد الصلابیسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے تختے پر رکھے گئے، جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے لوگوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا، وہ سب سیدنا عمرؓ کے لیے دعائے خیر کرنے لگے، میں بھی ان لوگوں میں موجود تھا۔ اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے میرا کندھا پکڑا جس سے میں گھبرا گیا، مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، کہنے لگے: عمر! اللہ تم پر رحم فرمائے، تم نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس جیسا عمل کرتے ہوئے اللہ سے ملوں۔ اللہ کی قسم! مجھے تو یہ یقین تھا کہ وہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کثرت سے یہ کہتے ہوئے سنتا تھا: میں گیا اور ابوبکر و عمر گئے، میں اور ابوبکر و عمر داخل ہوئے، میں اور ابوبکر و عمر باہر آئے۔
(الطبقات الکبٰری: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 284)