مسلمانوں پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے اثرات
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی، کیونکہ کسی طویل بیماری کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات نہ ہوئی تھی، بلکہ یہ حادثہ اچانک پیش آیا تھا۔ یہ حادثہ اس وجہ سے اور بھی دل دوز ہوگیا کہ اس کا ظہور مسجد نبوی میں ہوا تھا اور اس وقت ہوا تھا جب سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ لوگوں کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ اس حادثہ کے بعد مسلمانوں پر کیا گزری اس کا نقشہ عمرو بن میمون رحمہ اللہ اس طرح کھینچتے ہیں:
’’مسلمانوں کے لیے یہ ایسا جانکاہ حادثہ تھا کہ ایسا لگتا تھا جیسے اس سے پہلے ایسی مصیبت ان پر کبھی نہ آئی ہو۔‘‘
سیدنا عمر فاروقؓ کے زخم خوردہ ہونے کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہما مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے نکلے تاکہ سیدنا عمرؓ کو مطلع کر دیں، جب لوٹ کر آئے تو کہنے لگے: جن لوگوں سے بھی میری ملاقات ہوئی ،میں نے انہیں غم سے نڈھال روتا ہوا پایا، ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ان کا اکلوتا بیٹا فوت ہوگیا ہے۔
(العشرۃ المبشرون بالجنۃ: محمد صالح عوض: صفحہ 44)
چونکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ رشد و ہدایت کا ایک مینار تھے، حق اور باطل کے درمیان جدائی کرنے والے تھے، اس لیے فطری بات تھی کہ لوگ سیدنا عمرؓ کی وفات سے متاثر ہوتے۔
(العشرۃ المبشرون بالجنۃ: محمد صالح عوض: صفحہ 44)
لوگوں کے شدید رنج وغم کا یہ عالم تھا کہ احنف بن قیس کے بقول جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا گیا تو سیدنا عمرؓ نے صہیبؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کی امامت کریں اور تین دن ان کے کھانے پینے کا بندوبست کریں یہاں تک کہ مجلس شوریٰ کسی کو اپنا خلیفہ منتخب کر لے۔ چنانچہ جب دستر خوان پر کھانا رکھا گیا تو لوگوں نے (اظہار غم میں) کھانے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہم نے کھانا پینا بند نہیں کیا اور جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو بھی ہم نے کھانا پینا بند نہیں کیا، پس آج بھی ضروری ہے کہ کھاؤ پیو، پھر آپ نے کھانا شروع کیا اور بعد میں لوگوں نے بھی کھایا۔
(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 855)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوتا تو آپ شدت غم سے اس قدر روتے کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو جاتی، پھر فرماتے: عمر اسلام کا قلعہ تھے، لوگ اس میں داخل ہوتے تھے نکلتے تھے اور جب وہ وفات پا گئے تو قلعہ میں شگاف پڑ گیا اور لوگ اسلام سے نکلنے لگے۔
(الطبقات الکبٰری: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 284 )
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سیدنا عمرؓ کے بارے میں کہا کرتے تھے: عمر کی وفات کے بعد اسلام کمزور ہو جائے گا اگر کائنات کا پورا خزانہ مل جائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے زندہ رہنا پڑے تو میں اسے ہرگز پسند نہ کروں گا۔ لوگوں نے کہا: کیوں؟ سیدنا ابوعبیدہؓ نے جواب دیا: اگر آپ لوگ زندہ رہیں گے تو میری بات کی صداقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر سیدنا عمرؓ کے بعد آنے والا خلیفہ نے آپ ہی کی طرح سخت مؤاخذہ کیا تو لوگ اس کی اطاعت نہیں کریں گے اور نہ اسے برداشت کریں گے اور اگر وہ کمزور پڑا تو لوگ اسے قتل کر دیں گے۔
(البطقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 284، العشرۃ المبشرون بالجنۃ: صفحہ 44)