نہج البلاغہ اور ماتم
محمد ذوالقرنیننہج البلاغہ اور ماتم
السلام علی من اتبع الھدیٰ
آج کی اس پوسٹ میں ہم نہج البلاغہ (جو کہ شیعہ کے نزدیک قرآن کے بعد سب سے زیادہ معتبر کتاب ہے) کی روشنی میں ماتم پر بات کریں گے کہ اس کتاب میں سیدنا علیؓ کے فرامین کے مطابق ماتم کرنا کیسا ہے؟
شیعہ، سیدنا حسینؓ کی شہادت کے غم اور بہت سارے افسانوں کا بہانہ بنا کر ماتم کرتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کی شہادت اور یہ تمام افسانے ہمارے لیے غم و پریشانی کا سبب ہیں اس لیے ہم ان کی یاد میں ماتم کرتے ہیں۔
اگر اس بہانے کو دیکھا جائے تو اس لحاظ سے نبیﷺ کی وفات کا دن اس بات کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے کہ ان کی وفات کے دن پر سب سے زیادہ ماتم کیا جائے،اور اگر صحابہ کرامؓ کے نزدیک بھی ماتم جائز ہوتا تو وہ اس دن خود ماتم کرتے۔
لیکن نہج البلاغہ کی روشنی میں تو ہمیں کچھ اور ہی معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا علیؓ نبیﷺ کی وفات پر ان کو غسل و کفن دیتے وقت فرماتے ہیں کہ:
اگر آپ نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور نالہ و فریاد (رونے پیٹنے) سے روکا نہ ہوتا تو ہم آپ کے غم میں آنسوؤں کا ذخیرہ ختم کر دیتے،اور یہ درد منت پذیر درماں نہ ہوتا اور یہ غم و حزن ساتھ نہ چھوڑتا۔
(نہج البلاغہ،خطبہ نمبر 232،صحفہ 549)
سیدنا علیؓ تو نبیﷺ کی وفات پر فرما رہے ہیں کہ اگر آپ نے ہمیں ماتم کرنے سے روکا نہ ہوتا تو ہم اپنی آنکھوں کے تمام آنسو بہا دیتے اور اس درد کی دوا نہ ہوتی اور یہ غم کبھی ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن رسولﷺ نے ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا تھا۔
نہج البلاغہ سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ
رسولﷺ نے تو مصیبت میں رونے پیٹنے سے منع فرمایا تھا اور صبر کرنے کا حکم دیا تھا اور ماتم کرنا تو صحابہ کرامؓ کی سنت بھی نہیں تو شیعہ پھر کس کی سنت پر عمل کر رہے ہیں ؟
ایک اور مقام پر سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ:
مصیبت کے اندازہ پر اللہ کی طرف سے صبر کی ہمت حاصل ہوتی ہے، جو شخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے(ماتم و گریہ و زاری کرے)اس کا عمل اکارت (ضائع) ہو جاتا ہے۔
(نہج البلاغہ،نصیحت نمبر 144،صحفہ735)
سیدنا علیؓ کی اس نصیحت سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے کہ جب کوئی مصیبت آنے والی ہو تو اللہ کی طرف سے صبر کرنے کی ہمت مل جاتی ہے لیکن اگر کوئی اپنی من مانی کرے اور مصیبت کے وقت گریہ و زاری شروع کر دے تو اس کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں کیونکہ اس نے اللہ کی طرف سے ملی آزمائش پر اللہ کے حکم کے مطابق صبر کرنے کی بجائے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔
ایک اور مقام پر سیدنا علیؓ نے ماتم کے بارے میں سخت جرح کی۔
سیدنا علیؓ جب صفین سے پلٹے اور کوفہ پہنچے تو قبیلہ شبام کی آبادی سے گرزے جہاں صفین کے مقتولین پر رونے کی آوازیں آپ کے کانوں میں پڑیں۔اتنے میں حرب جو کہ شبامی قبیلے کے سرداران میں سے تھا، سیدنا علیؓ کے پاس آگیا تو آپ نے اس سے فرمایا:
کیا تمہارا ان عورتوں پر بس نہیں چلتا ؟ جو میں رونے کی آوازیں سُن رہا ہوں، اس رونے چلانے سے تم انہیں منع نہیں کرتے؟
حرب جلدی سے آگے بڑھ کر سیدنا علیؓ کے ہم رکاب ہو گیا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا:
پلٹ جاؤ تم ایسے آدمی کا مجھ جیسے کے ساتھ پیادہ چلنا والی کے لیے فتنہ اور مومن کے لیے ذلت ہے۔
(نہج البلاغہ، حکمت و نصیحت نمبر 322، صحفہ 788)
اس مقام پر سیدنا علیؓ نے ماتم و رونے کی آوازوں کو سخت ناپسند فرمایا اور قبیلے کے سردار کو صرف اس وجہ سے اپنا ہمسفر نہیں بنایا کہ وہ اپنے قبیلے کی عورتوں کو ماتم سے منع نہیں کرتا تھا اور ایسے شخص کے ساتھ کے بارے میں فرمایا کہ ایسے شخص کے ساتھ چلنا مومن کے لیے ذلت ہے۔
تو اب آپ خود اندازہ لگا لیں جس شخص نے اپنی قوم کی عورتوں کو ماتم سے نہیں روکا اس کے بارے میں سیدنا علیؓ یہ فرما رہے ہیں کہ ایسا شخص مؤمن کے لیے ذلت ہے تو جو شخص خود ماتم کرتا اور وہ خود کس قدر ذلیل ہو گا ؟
اور ایسا شخص سیدنا علیؓ کو کس قدر نا پسند ہو گا اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔
امید ہے حق سمجھنے کی کوشش کرنے والے کے لیے اتنے دلائل کافی ہیں اور ان سے سب پر حق واضح ہو گیا ہو گا کہ ماتم کرنا اللہ و رسولﷺ اور سیدنا علیؓ کے حکم کی خلاف ورزی کرنا ہے اور مصیبت کے وقت صبر سے کام لینا ہی اللہ و رسولﷺ اور سیدنا علیؓ کی تعلیمات ہیں۔
دُعا ہے کہ اللہ ہم سب کو حق سننے و سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)