عاجزی و فروتنی اور خوف وخشیت الہٰی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا امتیازی وصف
علی محمد الصلابی2: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل پر خشیت الہٰی کا کتنا زبردست غلبہ تھا اس کا اندازہ سیدنا عمرؓ کے اس قول سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے یہ معلوم ہونے کے بعد کہ آپ کا قاتل ابولؤلؤ مجوسی ہے، فرمایا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَجْعَلْ مَنِیَّتِیْ بِیَدِ رَجُلٍ یَدَّعِیْ الْاِسْلَامَ۔
(صحیح البخاری: فضائل الصحابہ: حدیث نمبر: 3700)
ترجمہ: ’’اللہ کا شکر ہے کہ جس نے میری موت ایسے آدمی کے ہاتھوں سے نہیں دی جو اسلام کا دعویٰ کر رہا ہو۔‘‘
پس باوجودیہ کہ ہر قریبی و اجنبی، عربی اور عجمی سیدنا عمرؓ کے عدل و انصاف کا معترف تھا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خود عدل و انصاف کے لیے سب کچھ قربان کر دینے والے تھے، تاہم آخری دم تک سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو فکر دامن گیر تھی کہ کہیں مسلمانوں میں سے کسی پر کبھی میں نے ظلم نہ کیا ہو جس کا بدلہ آج اس نے میرے قتل کے ذریعہ سے لیا ہو اور وہ قیامت کے دن بھی اللہ کے سامنے مجھے رسوا کرے، جیسا کہ ابن شہاب زہری کی روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَجْعَلْ قَاتَلِیْ یُحَاجُّنِیْ عِنْدَ اللّٰہِ بِسَجْدَۃٍ سَجَدَہَا لَہٗ قَطُّ
’’اس اللہ واحد کا شکر ہے جس نے میرا قاتل کسی ایسے آدمی کو نہیں بنایا جس نے کبھی اس کے لیے سجدہ کیا ہو جو اپنے اس سجدہ کے ذریعہ سے بروز قیامت اللہ کے سامنے میرے خلاف حجت قائم کرے گا۔‘‘
اور مبارک بن فضالہ کی روایت ہے کہ وہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ کے ذریعہ سے میرے خلاف حجت قائم کرے۔
(سیر الشہداء: دروس و عبرص: 40)
یہ ہے ایک ربانی امام کی خشیت الہٰی اور انکساری کی تعجب خیز داستان کہ جس سے داعیان اسلام و مصلحین امت کو سبق سیکھنا چاہیے۔ تواضع و انکساری ہی ان کے تعارف کی سب سے بڑی علامت ہو، تاکہ ان کے کردار و عمل سے اللہ تعالیٰ دوسروں کو فائدہ پہنچائے، جیسا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچا اور سب کی زبان پر یہی جاری رہنا چاہیے کہ:
واحسرتی واشقوتی
من یوم نشر کتابیہ
’’ہائے افسوس! ہائے میری بدبختی! جس دن ہمارا نامہ اعمال کھولا جائے گا۔‘‘
واطول حزنی إن أکن
أوتیتہ بشمالیہ
’’ہائے میرا طویل غم! اگر میرا نامہ اعمال میرے بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔‘‘
وإذا سئلت عن الخطا
ماذا یکون جوابیہ
’’جب میری غلطیوں اور گناہوں کا حساب و کتاب ہوگا تو میرا کیا جواب ہوگا؟‘‘
واحرقلبی أن یکون
مع القلوب القاسیہ
’’ہائے افسوس! میرے دل کی تپش، مبادا وہ سخت دنوں کے ساتھ نہ ہو۔‘‘
کلا ولا قدمت لی
عملًا لیوم جسابیہ
’’ہرگز نہیں (کہیں ایسا تو نہیں کہ) روز جزا کے لیے میں نے کچھ نہیں کیا۔‘‘
بل إننی لشقاوتی
وقساوتی وعذابیہ
بارزت بالزلات فی
أیام دھر خالیۃ
’’بلکہ میں نے اپنی بدبختی، سنگ دلی اور خود کو عذاب کے حوالے کرنے کے لیے گذشتہ ایام اور عیش و مستی کے دنوں میں میں نے کھلے عام غلطیاں کیں۔‘‘
من لیس یخفی عنہ من
قبح المعاصی خافیہ
(الرقائق، محمد أحمد الراشد: صفحہ 121، 122)
’’اس ہستی کے سامنے جس کی نظروں سے کوئی بھی گناہ اور لغزش پوشیدہ نہیں ہے۔‘‘