سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تواضع اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایثار
علی محمد الصلابیالف: عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عظیم تواضع
واقعہ شہادت میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تواضع کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جان کنی کے وقت اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ام المؤمنین سیدہ عائشہ کے پاس جاؤ اور کہو: عمر آپ کو سلام کہتا ہے، یہ نہ کہنا کہ امیرالمؤمنین آپ کو سلام کہتے ہیں، اس لیے کہ اس وقت میں مومنوں کا امیر نہیں ہوں۔
(صحیح البخاری مع الفتح: فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 3700)
اسی طرح جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت دے دی تو سیدنا عمرؓ نے اپنے بیٹے سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے چلنا، پھر (باہر سے) ان (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت مانگ رہا ہے۔ اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے حجرہ نبویہ میں قبر میں اتارنا، ورنہ مسلمانوں کے قبرستان میں مجھے دفن کر دینا۔
(صحیح البخاری مع الفتح: فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 3700)
اللہ کی کروڑ بار رحمتیں نازل ہوں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر۔ اللہ ہمیں انہیں جیسا اخلاق و کردار اور تواضع عطا فرمائے اور اپنے متقی و متواضع بندوں کو جس اجر و ثواب سے نوازے گا اس سے بہتر اجر و ثواب سے انہیں نواز دے۔ ’’اِنَّ رَبِّی قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ‘‘
(سیر الشہداء: صفحہ: 41 )
ب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایثار عظیم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایثار عظیم کی دلیل یہ ہے کہ ان کی دلی تمنا تھی کہ اپنے شوہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو اور اپنے والد محترم کے پاس دفن ہوں، لیکن جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے التجا کی تو سیدہ عائشہ نے انہیں اجازت دے دی اور اپنی ذات پر ان کو ترجیح دی اور کہا: میں اسے اپنے لیے چاہتی تھی لیکن آج میں عمر کے مطالبہ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔
(صحیح البخاری: فضائل الصحاب:، حدیث نمبر 3700)