بستر مرگ پر بھی بھلائی کا حکم دیتے اور برائیوں سے روکتے رہے
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ موت کے آلام و شدائد کو جھیلتے ہوئے بھی فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غافل نہ ہوئے۔ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تعزیت میں اور آپؓ کو تسلی دینے کے لیے ایک نوجوان آپؓ کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المؤمنینؓ! بشارت قبول فرمایے، آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی، پہلے اسلام لائے، پھر آپؓ حاکم بنائے گئے تو عدل وانصاف سے کام لیا اور اب شہادت کی موت مر رہے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے یہ سن کر کہا: میں چاہتا ہوں کہ برابر برابر چھوٹ جاؤں، نہ مجھ پر کسی کا حق نکلے نہ میرا کسی پر۔ پھر وہ نوجوان واپس جانے لگا تو سیدنا عمرؓ نے دیکھا کہ اس کی ازار زمین پر گھسٹ رہی ہے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: اس نوجوان کو میرے پاس بلاؤ، وہ آیا تو سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا: اے میرے عزیز! اپنی ازار اوپر کر لو، اس سے تمہارا کپڑا صاف اور تمہارا رب خوش رہے گا۔
(صحیح البخاری: فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 3700 )
اس طرح عالم موت میں بھی سیدنا عمر فاروقؓ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کیا۔ اسی لیے عمر بن شبہ کی روایت کے مطابق ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:
اللہ تعالیٰ عمر پر رحمت نازل کرے، عالم نزع میں بھی سیدنا فاروق اعظمؓ حق بات کہنے سے غافل نہ ہوئے۔
(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 65، سیر الشہداء: صفحہ 44۔)
اسی طرح زندگی کے آخری لمحات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر خصوصی توجہ دینے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب سیدنا عمرؓ کی صاحبزادی حفصہ رضی اللہ عنہا سیدنا عمرؓ کی زیارت کو آئیں تو کہنے لگیں: ہائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی، ہائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خسر، ہائے امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کو یہ سن کر برداشت نہ ہوا اور اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عبداللہ! مجھے بٹھاؤ، میں جو کچھ سن رہا ہوں، اب اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے سینے سے ٹیک دے کر بٹھا دیا۔ پھر سیدنا عمرؓ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: سن لو! اگر اب اس کے بعد تم نے میری خوبیوں کا ذکر کر کے نوحہ کیا تو اپنی وراثت سے تمہیں تمہارا مالی حق نہیں دوں گا۔ رہیں تمہاری آنکھیں تو میں انہیں آنسو بہانے سے نہیں روک پاؤں گا۔
(مناقب أمیرالمومنین: صفحہ 230، الحسبۃ، دیکھیے فضل إلٰہی: صفحہ 27)
اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا تو خبر ملتے ہی اُم المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا چیخنے لگیں، عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً حفصہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کر کے کہا: اے حفصہ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں سنا:
اِنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَیْہِ یُعَذَّبُ۔
’’جس کی موت پر نوحہ کیا گیا وہ عذاب دیا جائے گا۔‘‘
پھر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور روتے ہوئے کہا: ہائے عمر! سیدنا عمرؓ نے کہا: اے صہیب تیرا برا ہو، کیا تجھے یہ حدیث نہیں پہنچی: ’’جس کی موت پر نوحہ کیا گیا وہ عذاب دیا جائے گا۔‘‘
(صحیح مسلم: کتاب الجنائز: جلد 21 صفحہ 927۔ مسند أحمد: جلد 1 صفحہ 39)
حق پر ثابت قدمی کی ایک زندہ مثال یہ دیکھیے کہ جب سیدنا عمرؓ پر حملہ ہوا اور آپؓ خون میں لت پت تھے، کسی نے کہا: عبداللہ بن عمر(اپنے بیٹے) کو خلیفہ بنا دیجیے سیدنا عمرؓ نے فرمایا: تو چاپلوسی کرتا ہے، اللہ کی رضا کے لیے تو نے یہ بات نہیں کہی۔
(سیر الشہدء: صفحہ 43)