Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آٹھویں فصل ’’علی رضی اللہ عنہ تم مجھ سے ہو‘‘ ....الحدیث

  امام ابنِ تیمیہؒ

آٹھویں فصل

’’علی رضی اللہ عنہ تم مجھ سے ہو‘‘ ....الحدیث

[شبہ] : رافضی کہتا ہے :رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا : ((اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ۔))

[جواب] : بخاری و مسلم نے براء بن عازبؓ  سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی و جعفر اور زید رضی اللہ عنہم سید شہداء حضرت حمزہؓ کی بیٹی کی کفالت کے بارے میں جھگڑنے لگے تو آپ نے حضرت جعفر کے حق میں فیصلہ صادر کیا، کیونکہ وہ لڑکی کے خالو تھے۔ تاہم آپ نے فرداً فرداً تینوں کو مطمئن کرنے کے لیے ان کے حق میں تعریفی کلمات ارشاد فرمائے۔ حضرت علیؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ((اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ)) [صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب عمرۃ القضاء،(حدیث:4251)۔] تم میرے ہو اور میں آپ کا ہوں )

حضرت جعفرؓ  کے حق میں فرمایا: ’’آپ کی صورت و سیرت مجھ سے ملتی جلتی ہے۔‘‘

حضرت زیدؓ کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’آپ ہمارے بھائی اور مولیٰ ہیں ۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو کلمات آپ نے حضرت علیؓ  کی شان میں فرمائے، وہ متعدد صحابہؓ کی شان میں فرما چکے تھے۔بخاری و مسلم میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ان کے قبیلہ کے حق میں فرمایا:اشعر قبیلہ کے لوگ جہاد میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بچوں کا کھانا کم ہو جاتا ہے، تو جو کچھ ان لوگوں کے پاس ہوتا ہے اس کو ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں ، پھر آپس میں ایک برتن سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں [اور فرمایا:

’’ہُمْ مِنِّیْ و اَنَا مِنْہُمْ‘‘[صحیح بخاری، کتاب الشرکۃ، باب الشرکۃ فی الطعام والنھد، (حدیث: 2486)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ: باب من فضائل الاشعریین، (حدیث:2499)] وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں ۔‘‘

ایسے ہی رسول اللہﷺ نے حضرت جلبیبؓ کے بارے میں فرمایا: ’’ہُوَ مِنِّیْ و اَنَا مِنْہُ۔’وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں ۔‘‘

امام مسلمؒ  نے اپنی صحیح میں حضرت ابو برزہؓ سے روایت کیا ہے :

(( نبیﷺ  ایک جہاد میں تھے کہ اللہ نے آپﷺ کو مال عطا کیا ۔تو آپﷺ  نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا: ’’کیا تمہیں کوئی ایک غائب معلوم ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں فلاں فلاں اور فلاں ۔

آپﷺ نے فرمایا :کیا تم میں سے کوئی گم نہیں ہے؟

انہوں نے عرض کیا :جی ہاں فلاں فلاں اور فلاں غائب ہیں ۔

آپﷺ نے پھر فرمایا :کیا تم میں سے کوئی گم نہیں ہے؟صحابہؓ نے عرض کیا :نہیں ۔

آپﷺ  نے فرمایا:’’ لیکن میں تو جلبیبؓ کو گم پاتا ہوں ؛ اسے تلاش کرو ۔‘‘

پس انہیں شہداء میں سات آدمیوں کے پہلو میں پایا؛ جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا ۔پھر کافروں نے انہیں شہید کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے پھر فرمایا:’’ اس نے سات کو قتل کیا؛ پھر انہوں نے ان کو شہید کر دیا ؛یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ؛ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔‘‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازؤوں پر اٹھا لیا؛اس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور نے انہیں نہیں اٹھایا ہوا تھا۔ پھر ان کے لیے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں دفن کر دیا گیا اور غسل کا ذکر نہیں کیا۔‘‘[مسلم 4؍1918۔]