منہ پر تعریف کرنے کا جواز بشرطیکہ موصوف کے فتنے میں واقع ہونے کا اندیشہ نہ ہو
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا، چند صحابہؓ جنہیں یقین تھا کہ منہ پر تعریف کرنے سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فتنہ میں نہیں پڑیں گے، انہوں نے آ کر سامنے سیدنا عمرؓ کی تعریف کی، علماء میں عالم ربانی اور فقہائے اسلام میں بہت بڑے فقیہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب سارے مسلمان مکہ میں ڈرے سہمے رہتے تھے تو کیا اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر فاروقؓ کے حق میں یہ دعا نہیں کی تھی کہ اللہ آپ کے ذریعہ سے دین اسلام اور مسلمانوں کو غالب کر دے؟ اور ایسا ہی ہوا کہ جب آپ اسلام لائے تو آپ کا اسلام معزز رہا اور مذہب اسلام کا غلبہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمرؓ کے ذریعہ سے تمام مسلمانوں کے گھروں میں ان کے دین کو وسعت دی، روزیوں میں برکت دی اور اب آپ کی موت شہادت پر کر رہا ہے، پس قابل مبارک باد اور خوش قسمت ہیں آپ! ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سب کچھ کہا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ کے دل پر اس کا کچھ بھی اثر نہ ہوا اور نہ سیدنا خوش ہوئے، بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ ’’بے شک جسے تم لوگ دھوکا دے دو وہ دھوکا میں پڑ گیا۔‘‘
(سیر الشہداء: دروس و عبر: صفحہ 45)