فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات

[رافضی کی امامیہ مذہب کے واجب الاتباع ہونے کی بیان کردہ وجوہات؛ وجہ اول تا وجہ چہارم ]

[شبہات]: شیعہ مصنف رقم طراز ہے:’’ہمارا مذہب اس لیے واجب الاتباع ہے کہ یہ جملہ مذاہب کی نسبت احق و اصدق اور باطل کی آمیزش سے خالص تر ہے۔ یہ مذہب اللہ و رسول اور اولیاء کی تنزیہ و تقدیس میں جملہ مذاہب سے آگے ہے۔ ہمارا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مخصوص بالقدامت وازلیت ہے۔ اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے ؛ وہ محدث ہے۔اور وہ اکیلا ہے۔ وہ نہ جسمہے اور نہ ہی جوہر ۔اورنہ ہی وہ مرکب ۔ اس لیے کہ ہر مرکب اجزاء کا محتاج ہوتا ہے؛ اور اجزاء اصل کے غیر ہوتے ہیں ۔اور وہ عرض بھی نہیں اور مکان کے دائرہ میں محدودبھی نہیں ؛کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کا حادث ہونا لازم آتا ہے؛بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کی مشابہت سے پاک قرار دیتے ہیں ۔اوریہ کہ اللہ تعالیٰ تمام مقدورات پر قادر ہیں ۔ وہ عادل اورحکیم ہیں ؛ کسی پر ظلم نہیں کرتے۔اور نہ ہی قبیح فعل کے مرتکب ہوتے ہیں ؛وگرنہ اس سے جہالت اور ضرورت مندی لازم آئے گی۔اللہ تعالیٰ ان دونوں امور سے منزہ ہے۔ اور وہ اطاعت گزار کو ثواب دیتا ہے تاکہ ظالم نہ بنے؛ اور گنہگار کو معاف کرتا ہے ؛یااس کے جرم کی اسے سزا دیتا ہے؛ یہ اس کا ظلم نہیں ۔ اور بیشک اس کے افعال محکم اور پختہ ہوتے ہیں جو کہ کسی غرض اور مصلحت کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ ا گر ایسا نہ ہوتا تو وہ عبث کا مرتکب ہوتا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لاَعِبِیْنَ ﴾ (الدخان: ۳۸)

’’اورہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیلتے ہو ئے نہیں بنایا۔‘‘

یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں جا سکتا، اور نہ ہی حواس سے اس کا ادراک کیا جاسکتا ہے۔فرمان الٰہی ہے:

﴿ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَ ھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَ ھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ﴾ [الانعام۱۰۳]

’’اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

٭ بلاشبہ وہ کسی جہت میں محدود نہیں ۔اور بیشک اس کے اوامر و نواہی حادث ہیں اس لیے کہ معدوم سے امر ونہی کا صدور ممکن نہیں ۔ اوریہ کہ انبیاء کرام شروع عمر سے آخر تک صغائرو کبائر سے پاک ہوتے ہیں ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کی تبلیغ رسالت پر اعتماد نہ رہتا۔ اور ان کی بعثت کا فائدہ ختم ہوجاتا اور ان سے نفرت لازم ہوجاتی۔ اوریہ کہ ائمہ بھی انبیاء کرام کی طرح تک صغائرو کبائر سے پاک ہوتے ہیں ۔

٭ شیعہ اپنے فروعی احکام ائمہ معصومین سے نقل کرتے ہوئے اپنے جدا مجد سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست اخذ کرتے ہیں ؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ احکام جبریل امین کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کئے۔ اور پھر ثقہ راوی اسے نسل در نسل سلف سے خلف تک روایت کرتے رہے یہاں تک کہ یہ روایات معصومین تک پہنچ گئی۔ اور انہوں اجتہاد اور قول بالرائے کی جانب مطلقاً توجہ نہ کی۔اور قیاس و استحسان اور رائے کو حرام سمجھا ۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جوابات] :اس کا جواب کئی وجوہ سے دیا جاسکتاہے: 

وجہ اول :.... [شیعہ کے]: ذکر کردہ مسائل کا مسئلہ امامت سے اصل میں کوئی تعلق نہیں ۔بلکہ بعض امامیہ ان کو تسلیم بھی نہیں کرتے۔اور بہت سارے ایسے لوگ ان چیزوں کو تسلیم کرتے ہیں جن کا امامیہ مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور ان میں سے کسی کوئی ایک مسئلہ بھی دوسرے پر مبنی نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ طریقہ سراسر عقلی ہے، اور امام کا تقرر سمعی دلائل کا محتاج ہے۔پس ان مسائل کو امامت کے مسئلہ میں داخل کرنا ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مورد نزاع مسائل کو لاکر اس میں شامل کردیا جائے۔یہ تو مقصود سے دور بھاگنا ہے۔

وجہ دوم:.... یہ تو عقیدہ توحید اور تقدیر کے بارے میں معتزلہ کا عقیدہ ہے ۔ شیعہ اپنے آپ کو اہل بیت کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ اور ان معتزلہ سے موافقت رکھتے ہیں جوکہ توحید اور تقدیر میں اہل بیت کے مذہب سے سب لوگوں سے زیادہ دور ہیں ۔ اس لیے کہ ائمہ اہل بیت جیسے حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے سبھی ان عقائد پر متفق ہیں جن پر صحابہ کرام اور تابعین کا اتفاق تھا؛وہ صفات اور قدر کو مانتے تھے۔ منقولات پر مشتمل صحیح کتابیں ان مسائل سے بھری پڑی ہیں ۔ ہم ان میں حضرت علی اور اہل بیت رضی اللہ عنہم سے منقول چند روایات آگے نقل کریں گے تاکہ انہیں پتہ چل جائے کہ شیعہ اصول دین میں اہل بیت کے مخالف ہیں ۔

وجہ سوم :.... انہوں نے جو صفات اور قدر ذکر کیے ہیں وہ شیعہ کے خصائص میں سے نہیں ہیں اور نہ وہ اس قول کو اختیار کرنے میں آئمہ ہیں اور نہ یہ ان تمام شیعوں کا قول ہے بلکہ اس بات میں ان کے آئمہ معتزلہ ہیں اور انہی سے متاخرین شیعہ نے اپنا مذہب لیا ہے اور شیعوں کی کتابیں معتزلہ کے طرقِ استدلال پر اعتماد کرنے سے بھری پڑی ہیں اور یہ تیسری صدی کے اواخر کا حال ہے چوتھی صدی ہجری میں اس مسئلہ کو اس وقت مزید استحکام اور پذیرائی ملی جب شیخ مفید اور اس کے شاگردوں نے ؛جیسے موسوی اور طوسی نے شیعہ مذہب کے لیے تصنیف و تألیف کی۔[سبق الکلام علی کل مِن المفِیدِ والموسوِیِ والطوسِیِ فِی ہذا الکِتابِ 1؍58. وانظر ترجمۃ المفِیدِ أیضا فِی: الرِجالِ لِلنجاشِیِ، ص ؛ 316؛ أعیانِ الشِیعۃِ لِلعامِلِیِ ط. بیروت 46؍20 ؛ الفِہرِستِ لِلطوسِیِ الطبعۃِ الثانِیۃِ، النجفِ ص 187؛ رِجالِ الأعلامِ الحِلِیِ لِابنِ المطہرِ الطبعۃِ الثانِیۃِ، النجفِ،ص 147؛ الأعلامِ لِلزِرِکلِیِ 7؍245. ؛ وانظر فِی ترجمۃِ الموسوِیِ؛ الشرِیفِ المرتضی أیضاً: أعیان الشِیعۃِ 41؍188 ؛ الفِہرِست لِلطوسِیِ، ص 125 ؛ رِجال الأعلامِ الحِلِیۃ95؛ وفِیاتِ الأعیان ِ 3؍3 ۔]

صفحہ 1 از 5