فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

جس طرح کہ ابن نو بختی نے اپنی کتاب ’’الکبیر ‘‘[تکلمت مِن قبل عل النوبختِیِ وِکتابِہِ ’’ الآراء والدِیانات ‘‘ وقد ذکر عنہ النجاشِی فی الرِجال، ص :9 0 ؛ أنہ ِکتاب کبِیر حسن یحتوِی علی علوم کثِیرۃ .]میں اور ابو الحسن اشعری نے اپنی معروف کتاب ’’مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین‘‘[اشعری نے اس بارے میں کلام کیا ہے۔ اشعری اپنی امانت داری اور اپنے مخالفین کا کلام اور عقیدہ بڑی امانت سے نقل کرنے میں بڑا مشہور ہے۔ وہ امامیہ فرقہ کے عقیدہ تجسیم کے بارے میں کہتا ہے: ’’امامیہ روافض کا تجسیم کے بارے میں اختلاف ہے؛ اس سلسلہ میں ان کے چھ فرقے ہیں ‘‘ پھر امام اشعری نے ان کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ دیکھو: المقالاتِ ج۱؍۲۰۳۔ ] میں اوراسی طرح شہر ستانی نے اپنی کتاب ’’الملل و النحل ‘‘میں ذکر کیا ہے۔ اور ان کے علاوہ دیگر علما نے جسم اور تشبیہ کے مسئلہ میں کرامیہ اور ان کے ان اتباع سے بھ بہت کچھ نقل کیا ہے جو خلفائے ثلاثہ ک خلافت کو صحیح مانتے ہیں ۔[علامہ شہرستانی جن کے متعلق ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ وہ شیعیت کی طرف مائل تھے؛ وہ اپنی کتاب ’’الملل و النحل میں ۱؍۱۵۴‘‘ پر کہتے ہیں : یہی وجہ تھے کہ امامیہ اصول میں نظریہ عدل پر چل پڑے؛ اور صفات میں مشبہہ کی راہ اختیار کرلی۔ وہ ہمیشہ حیران اور سرگرداں ہی رہے۔ پھر اس کے بعد شہرستانی نے ان کا کلام مفصل طور پر پیش کیا ہے۔]

اہل سنت اور اہل تشیع کے مختلف گروہ قدما ائمہ امامیہ سے تجسیم اور تشبیہ کے مسئلہ میں ایس منکر باتیں روایت کر رہے ہیں کہ ایس باتیں کرامیہ اور دوسرے لوگوں سے معلوم نہیں ہوسکیں ۔فرقہ امامیہ کے وہ قدیم أئمہ جو تجسیم اور تشبیہ کے منکر ہیں اُن سے اہل سنت اور خود روافض ایسے اقوال نقل کرتے ہیں جو کرامیہ اور ان کے اتباع سے بھی منقول نہیں ۔

رہے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ پر ’’جسم ‘‘کے لفظ کا اطلاق نہیں کرتے جیسے کہ محدثین ،مفسرین اور صوفیاء اور فقہاء اور آئمہ اربعہ اور ان کے اتباع اور مسلمانوں کے مشہور علماء و مشائخ ؛اور جو ان سے پہلے گزرے ہیں یعنی صحابہ اور تابعین ،ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ اللہ کا ’’جسم ‘‘ہے اگرچہ سلف اور آئمہ میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں کہ اللہ تعالیٰ جسم نہیں ہے لیکن جس نے ان میں سے بعض کی طرف تجسیم کی نسبت کی ہے تو وہ اس کے اس عقیدہ کے اعتبا رسے ہے کہ اس نے جسم کا ایک خاص معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے اور اس کو غیر کے لیے لازم سمجھا ہے ۔

پس معتزلہ اور جہمیہ اور ان کے امثال جو کہ صفات کی نفی کرنے والے ہیں انہوں نے ہر اس شخص کو جو اللہ کے لیے صفات ثابت مانے تو اس کو مجسم اور مشبہ کہا اور ان لوگوں میں سے بعض وہ بھی ہیں جو آئمہ مشہورین میں سے بعض کو مجسم اور مشبہ کہتے ہیں جیسے امام مالک شافعی اور اس کے اصحاب ۔

اس طرح کہ ان کو ابو حاتم صاحب ’’کتابِ الزینہ‘‘ نے ذکر کیا ہے اور اس کے علاوہ دیگر نے بھی ذکر کیا ہے جب کہ اس نے مشبہہ کے فرق کو ذکر کیا تو ان کے ذیل میں فرمایا کہ ان میں سے ایک گروہ جن کو مالکیہ کہا جاتا ہے اور وہ ایک آدمی کی طرف منسوب ہے جس کو’’ مالک ابن انس‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے ایک گروہ ہے جس کو شافعیہ کہا جاتا ہے کیونکہ منسوب ہے ایک آدمی کی طرف جن کو شافعی کہا جاتا ہے۔

اور ان لوگوں کا شبہ یہ ہے کہ آئمہ مشہور ین سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لیے صفات ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں نظر آئیں گے اور یہی صحابہ اور تابعین کا مذہب ہے جو کہ اہل بیت میں سے ہیں اور ان کے علاوہ دیگر اصحاب میں سے ہیں اور یہ آئمہ متبوعین کا مذہب ہے جیسے کہ امام مالک بن أنس ،سفیان ثوری ،لیث بن سعد، امام اوزاعی ،ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام احمد بن حنبل ،داؤدِ ظاہری، محمد ابن خزیمہ ،ابو بکر بن المنذر اور محمد بن جریر طبری اور ان کے اصحاب ۔

جہمیہ اور معتزلہ تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے اللہ کی صفات کو ثابت کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں نظر آئیں گے اور قرآن اللہ کا کلام ہے ،مخلوق نہیں ،پس بے شک وہ مجسم اور مشبہ ہے اور تجسیم باطل ہے اور اس بات میں ان کا شبہ یہ ہے کہ صفات تو اعراض ہیں وہ تو صرف اور صرف جسم ہی کے ساتھ قائم ہوسکتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کلام اور دیگر صفات قائم ہیں تو وہ تو صرف اور صرف جسم ہی ہونگے اور جو نظر آئے گا اور جو چیز بھی نظر آتی ہے وہ تو صرف جسم ہی ہوتی ہے یا کسی جسم کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔

اسی لیے صفات کے جو مثبتین (ماننے والے )ہیں وہ ان کے بارے میں تین طوائف میں تقسیم ہو گئے :

ایک گروہ نے تو مقدمہ اولیٰ میں ان کے ساتھ منازعت اور اختلاف کیا اور دوسرے گروہ نے مقدمہ ثانیہ میں منازعت کی اور ایک گروہ نے ان کے ساتھ مطلق نزاع کیا دو مقدمتین میں سے کسی ایک پر لاعلی التعیین اور صفات کی نفی اور ان کے اثبات میں انہوں نے ایسے الفاظ کا اطلاق نہیں کیا جو مجمل ہوں اور وہ مبتدع (اپنی طرف سے نئے نکالے ہوئے اور مخترع )ہو ں ۔ ان کے لیے شریعت میں کوئی اصل نہ ہو اور نہ وہ عقل کے اعتبار سے صحیح ہوں بلکہ انہوں نے کتاب وسنت سے استدلال کیا اور عقل کو بھی اپنا حق دیا پس ان کا یہ قول صریحِ معقول اور صحیحِ منقول کے موافق ٹھہرا ۔

پس طائف اولیٰ تو کلابیہ اور ان کے موافقینِ ہیں ،طائفِ ثانیہ کرامیہ اور ان کے موافقین ہیں ۔

پہلے گروہ نے کہا کہ اللہ کی ذات کے ساتھ صفات قائم ہیں اور وہ آخر ت میں نظر بھی آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور اس کی صفات اعراض نہیں ہیں اور نہ ان کا موصوف جسم ہے ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ ممتنع ہے ۔

صفحہ 3 از 5