فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

پھر ان لوگوں میں سے بہت سے لوگوں نے طائفِہ اولیٰ پر اس بات میں تشنیع اور رد کیا کہ یہ صریح عقل اورصحیح نقل کے مخالف ہے کیونکہ انہوں نے ایسے مرئی کے رؤیت کو ثابت کر دیا جس کے لیے کوئی جہت ثابت نہیں اور انہوں نے ایسے کلام کو ثابت کیا جو ایک ایسے متکلم کا ہے جو کلام تو کرتا ہے نہ کہ اپنی مشیت اور قدرت سے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو دوسرے گروہ پر تشنیع کرتا ہے اس بات میں کہ یہ صحیح عقلی نظر کے خلاف ہے ۔

لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ لوگ جو نفی کرنے والے ہیں اور جہمیہ اور معتزلہ کے مخالف ہیں وہ صریح معقول کی نسبتاً زیادہ مخالفت کرنے والے ہیں ان دونوں جماعتوں کی بہ نسبت بلکہ بدیہی عقل کے بھی مخالف ہے رہا ان لوگوں کا کتاب و سنت کی نصوص کی مخالفت کرنا اور ان روایات کی جو امت کے اسلاف سے استفاضہ اور شہرت کے ساتھ ثابت ہیں تو یہ بالکل ایک ظاہر اور مشہور بات ہے جس میں پورے عالم پر کوئی خفا نہیں ، اس وجہ سے انہوں نے اپنے دین کی بنیاد اس بات پر رکھی ہے کہ توحید اور صفات کے باب میں ان چیزوں کی اتباع نہیں کی جائے گی جس پر کتاب و سنت اور اجماع دلالت کر ے اور ان امور میں اتباع کی جائیگی جو اپنی عقلوں کی قیاس سے ثابت ہوں اور عقول کا فیصلہ اس کو درست سمجھے ۔

رہے کتاب و سنت کے نصوص تو وہ یا تو اس میں تاویل کرتے ہیں یا پھر اس میں تفویض کا طریقہ اختیار کرتے ہیں یا پھر یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود تو یہ ہے کہ وہ جمہور کے ذہنوں میں ایک ایسا عقیدہ ڈالیں جس کے ذریعے وہ دنیا میں فائدہ حاصل کریں اگرچہ وہ محض جھوٹ اور باطل ہو جس طرح کہ یہ بات فلاسفہ اور ان کے متبعین بھی کرتے ہیں اور ان کے قول کی حقیقت یہ ہوئی کہ العیاذ باللہ تمام رسل نے ان باتوں میں جھوٹ کا راستہ اختیار کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ ، ملائکہ اور اس کی کتا بوں اور اس کے رسل اور یوم آخرت کے بارے میں امتوں کو بتلائی ہیں بوجہ ان دنیاوی مصالح کے جو انہوں نے لوگوں کے حق میں دیکھے۔

رہا تیسرا گروہ تو انہوں نے نفی اور اثبات میں ان تعبیرات کو اختیار کیا جو کتاب و سنت میں مذکور ہیں اور کتاب و سنت پر استدلال اور مضبوطی سے تھامے بغیر جس کی نفی اور اثبات میں اہل نظر کا اختلاف ہے تو اس میں انہوں نے اس کی موافقت نہیں کی یعنی ان کی اُن بدعات میں جو شریعت میں انہوں نے نکالی ہیں اور انہوں نے عقلی فیصلے کی بھی مخالفت کی ہے بلکہ یا تو یہ لوگ ان کی بدعات پر تکلم سے بالکل کفِ لسان (پہلو تہی )اختیار کرتے ہیں خواہ نفیاً ہو یا اثباتاً یا لفظِ مجمل اور ملفوظِ مجمل میں قول کی تفصیل بیان کرتے ہیں پس جس کا اثبات شرع اور عقل کے موافق ہو اس کو ثابت کر دیتے ہیں اور جس کی نفی شریعت اور عقل کرتی ہو تو اس کی نفی کرتے ہیں اور ان کے نزدیک ادلہ صحیحہ علمیہ کے درمیان تعارض متصور ہی نہیں خواہ وہ عقلی دلائل ہوں یانقلی دلائل اور کتاب و سنت بسا اوقات صیغہ اِخبار کیساتھ دلالت کرتا ہے اور بسا اوقات تنبیہ کے ساتھ اور کبھی ارشاد اور کبھی ادلہ عقلیہ کے بیان کے ذریعے اور علم الاہیات میں تو اربابِ نظر کے نزدیک جو کچھ ہے ان تمام امور کا خلاصہ وہ یقینی ادلہ اور معارفِ الہیہ ہیں جو کتاب و سنت میں صراحتاًیا اشارۃ ًمذکور ہیں ساتھ ایسی زیادات ،تکمیلات اور تتمات کے جن پر صرف وہی شخص پر مطلع ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے الہام فرما دیں (یعنی دل میں ڈال دیں )پس ان تعلیمات میں جن کو پیغمبر لے کر آیا ان میں ایسی عقلیات اور معارفِ یقینیہ ہیں جواولین اور آخرین تمام عقول کے ادراکات سے مافوق ہیں (یعنی ان کی سمجھ سے بالاتر ہے )اور اس جملے میں ایک بہت بڑی تفصیل مضمر ہے جو کئی جگہ تفصیل سے بیان کر دی گئی ہے اور مکمل تفصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام متحمل نہیں اس لیے کہ ہر مقام کے لیے ایک خاص مقال اور خاص قسم کی بات ہوتی ہے جو وہاں مناسب ہوتی ہے لیکن چونکہ روافض نے معتزلہ سے اپنی تائید حاصل کر لی اور انہوں نے اہل سنت کی مذمت کرنی شروع کی اُن افتراء ات (دروغ گوئی )کے ذریعے جو ان کے مذہب میں رائج ہیں یہ کام انہوں ے عمداًکیا ہو یا جہلاً تو اس مقام کے اعتبار سے جتنا ذکر کرنا مناسب تھا ہم نے ذکر کر دیا ۔

یہاں تو مقصود یہ ہے کہ اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی بھی شے نہیں نہ اس کی ذا ت اور صفات میں اور نہ افعال میں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات کی نفی کرنے والے اور تعطیل کے قائلین کے کلام میں ایک لفظ ’’تشبیہ ‘‘اور ایک لفظ ’’مہمل ‘‘ہے ۔

اگر تشبیہ سے اس کی مراد وہ ہے جس کی قرآن نے نفی کی ہے اور صریح عقل اس پر دال ہے تو ایک حق بات ہے اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خصائص میں سے ہے۔ مخلوق میں سے کسی ایک کے بھی یہ اوصاف نہیں بیان کئے جا سکتے؛ اور نہ ہی مخلوقات میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی صفات میں اس کے مماثل ہوسکتی ہے۔

سلف صالحین اور ہمارے ائمہ کا اس سلسلہ میں مذہب یہ ہے کہ:اللہ تعالیٰ کی صرف وہ صفات بیان کی جائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے یا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی ذات کے لیے بیان کی ہیں ۔ ان میں نہ ہی تحریف کی جائے؛ نہ ہی تعطیل ؛ اور نہ ہی ان کی کیفیت اور مثال بیان کی جائے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ان تمام صفات کو ثابت مانتے ہیں ؛ جو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے بیان کی ہیں ۔ اور وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے مماثلت کی نفی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے لیے صفات کمال کو ثابت مانتے ہیں ۔ اور ان صفات کی نفی کرتے ہیں جو صفات مخلوق سے مشابہ و مماثل ہیں ، اہل سنت اثبات بلا تشبیہ اور تنزیہ بلا تعطیل کا عقیدہ رکھتے ہیں ،خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ﴾ (الشوریٰ:۱۱)

’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں ۔‘‘ یہ آیت مشبہہ یعنی ان لوگوں کے نظریات کی تردید کرتی ہے۔

قرآن کریم میں فرمایا: ﴿ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔﴾ آیت کا یہ جزء مُعَطّلہ یعنی اس فرقہ کی تردید کرتاہے جو اللہ تعالیٰ کو صفات سے عاری قرار دیتے ہیں ۔

صفحہ 4 از 5