سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کے بارے میں کعب…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کے بارے میں کعب احبار کے موقف کی حقیقت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

د: تورات شریعتِ الہٰی کی کتاب ہے، لوگوں کی عمر کی تحدید سے اس کا کیا تعلق؟ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے جو بھی کتابیں نازل فرمائیں ان کا مقصد لوگوں کو ہدایت یاب کرنا تھا، اس قسم کی واہی تباہی خبریں بیان کرنا نہیں۔

(العنصریۃ الیہودیۃ: جلد 2 صفحہ 524)

و: تورات اب بھی ہمارے درمیان موجود ہے، لیکن اس میں ایسا کوئی واقعہ قطعاً نہیں ہے۔

(العنصریۃ الیہودیۃ: جلد 2 صفحہ 524)

مذکورہ بالا چار اعتراضات کو ذکر کرنے کے بعد شیخ محمد ابوزہو فرماتے ہیں:

’’ان تمام وجوہات پر غور کرنے کے بعد ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ واقعہ بالکل جھوٹا ہے، اس کے جھوٹ ہونے میں ذرہ برابر شک نہیں ہے اور کعب پر یہ تہمت لگانا کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اسلام کے ساتھ غداری کی، یا تورات کی طرف غلط بات منسوب کرنا یہ سب جھوٹی تہمتیں ہیں ان کی کوئی دلیل اور سند نہیں ہے۔‘‘

(الحدیث والمحدثون: صفحہ 183 )

ڈاکٹر محمد حسین ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’اس واقعہ کو ابن جریر طبریؒ کا نقل کرنا اس کی صحت کی دلیل نہیں ہے، اس لیے کہ ابن جریرؒ کے بارے میں ہر ذی علم یہ جانتا ہے کہ تمام روایات کے نقل کرنے میں وہ صحت کا التزام نہیں کرتے، اگر ان کی تفسیر کا تحقیقی مطالعہ کریں گے تو ایسی بہت سی باتیں ملیں گی جو صحیح نہیں ہیں۔

(العنصریۃ الیہودیۃ:جلد 2 صفحہ 525)

یہی حال ان کی تاریخی روایات کا بھی ہے۔ تمام واقعات کے بارے میں یہ بات قطعی طور سے نہیں کہی جا سکتی کہ صحیح ہیں یا غلط، صرف طبری ہی نہیں، بلکہ تمام تاریخی کتابوں میں جو روایات منقول ہیں۔

(العنصریۃ الیہودیۃ: جلد 2 صفحہ 525 )

ان کے بارے میں کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ اس میں ساری روایات صحیح اور ثابت ہیں۔

(الاسرائیلیات فی التفسیر والحدیث: صفحہ 99)

پھر گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’کعب احبار کی دینداری، اخلاق و کردار، امانت و صداقت اور عموماً صحیح روایات کا اہتمام کرنے والوں کی طرف سے ان کی توثیق کی بنیاد پر ہم یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں

(الإسرائیلیات فی التفسیر والحدیث: صفحہ 96)

کہ اس واقعہ کی ان کی طرف نسبت سراسر غلط ہے اور ہم انہیں سیدنا عمرؓ کے قتل کی سازش یا سازش کرنے والوں کی جانکاری سے بالکل بری مانتے ہیں۔ اسی طرح ہم انہیں کذب و افترا پردازی سے پاک و صاف سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بات کو مستند بنانے کے لیے تورات کے حوالے کا ڈھونگ رچایا ہوگا یا اسے اسرائیلی روایت کے قالب میں ڈھالا ہوگا۔

(الإسرائیلیات فی التفسیر والحدیث: صفحہ 99)

 اس مسئلہ میں کعب مظلوم ہیں، انہیں ہم ثقہ اور دیانت دار سمجھتے ہیں، آپ ایک عالم تھے، آپ کے نام کا غلط استعمال ہوا ہے اور آپ کی طرف ایسی روایات منسوب کر دی گئی ہیں جو سراسر خرافات اور جھوٹ ہیں، اعدائے اسلام انہیں عوام میں رواج دینا چاہتے ہیں اور نرے گنوار وجاہل لوگ انہیں قبول بھی کر لیتے ہیں۔‘‘

(الإسرائیلیات فی التفسیر والحدیث: صفحہ 99)

ڈاکٹر محمد سید الوکیل لکھتے ہیں: اس واقعہ کی صداقت معلوم کرنے کے لیے ایک محقق کو سب سے پہلے عبیداللہ بن عمر کے موقف پر نگاہ ڈالنی چاہیے کہ ابھی انہوں نے اپنے باپ پر قاتلانہ حملہ کی تفصیلی خبر سنی ہی تھی کہ غصہ سے تلوار اٹھا لی اور جنگی شیر کی طرح بپھر گئے، ہرمزان، جفینہ اور ابولؤلؤ کی چھوٹی بچی کو موت کے گھاٹ اتار دیا، آپ کا کیا خیال ہے کیا وہ ابولؤلؤ کی چھوٹی بچی کو قتل کر دیں گے اور کعب احبار کو جو مکمل شک وشبہ کے دائرے میں ہوں انہیں چھوڑ دیں گے؟ یقیناً اگر کوئی محقق اس واقعہ کی علمی تحقیق کرے گا تو یہ بات ماننے کے لیے ہرگز تیار نہ ہوگا۔ مزید برآں ایک بات اور بھی قابل توجہ ہے کہ جمہور مؤرخین نے اس واقعہ کو اپنی تاریخ میں جگہ دینا تو درکنار اس کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔ چنانچہ ابن سعد نے الطبقات الکبریٰ میں پورا واقعہ تفصیل سے اور کافی دقت سے لکھا ہے، لیکن اس واقعہ کی طرف اشارہ تک نہیں کیا، کعب احبار کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو بات لکھی ہے وہ یہ کہ کعب، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے کے پاس کھڑے رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم اگر امیرالمؤمنینؓ دل کی گہرائیوں سے اپنی موت کی تاخیر کے لیے اللہ سے دعا کرتے تو اللہ تعالیٰ موت مؤخر کر دیتا۔

(الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 361)

 سیدنا عمرؓ کے قریب اس وقت گئے جب طبیب نے بتا دیا کہ اب آپؓ کی موت بالکل قریب ہے۔ آپ نے اس وقت کہا: کیا میں کہتا نہیں تھا کہ آپ شہادت کی موت مریں گے اور آپ کہتے تھے کہ بھلا جزیرہ عرب میں رہ کر یہ کہاں ممکن ہے۔

(الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 340)

ابن سعد کے بعد، ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں شہادت کا پورا واقعہ لکھا ہے، لیکن اس میں کعب احبار کے اس واقعہ کو کہیں نہیں ذکر کیا۔

(جولۃ عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 296)

رہے حافظ ابن کثیرؒ تو ان کا کہنا ہے کہ ابولؤلؤ نے منگل کی شام دھمکی دی تھی اور 26ذی الحجہ بدھ کی صبح اس نے حملہ کیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 137)

صفحہ 2 از 3