صفات خالق و مخلوق میں فرق و امتیاز - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

صفات خالق و مخلوق میں فرق و امتیاز

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

’’ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فریضہ کے علاوہ دو رکعت نماز نفل پڑھے؛ اور پھریہ دعا مانگے :

(( اَللَّھُمَّ اِنِّی اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلاَ اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللَّھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الاَمْرَ خَیْرٌ لِّی فِی دِیْنِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی فَاقْدِرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِی ثُمَّ بَارِکْ لِی فِیْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الاَمْرَ شَرٌّ لِّی فِی دِیْنِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عَنْہُ وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ ارْضِنِی بِہٖ ۔))[بخاری کتاب التہجد(1162) ابو داؤد کتاب الوتر]

’’اے اللہ میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ خیر کا مطالبہ کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ قوت کا مطالبہ کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں اس لئے کہ تو طاقت رکھتا ہے اور میں طاقت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے میں نہیں جانتا اور تو ہی غیبوں کا جاننے والا ہے اے اللہ اگر تیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ کام میرے لئے میرے دین‘ میری معیشت اور میرے کام کے انجام میں بہتر ہے تو اسے میرے مقدر میں کر دے اور میرے لئے اس کو آسان کر دے پھر میرے لئے اس میں برکت ڈال دے اور اگر تیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ کام میرے لئے میرے دین‘ میری معیشت اور میرے کام کے انجام میں برا ہے تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے مقدر میں بھلائی رکھ دے جہاں بھی ہو پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔‘‘

اور سنن نسائی کی روایت میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے؛ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں دعا فرمایا کرتے تھے:

((اَللّٰھُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ اَحْیِنِیْ مَاعَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِّیْ وَتَوَفَّنِی اِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاۃَ خَیْرًا لِّیْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَشْیَتَکَ فیِ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَۃِ وَاَسْئَلُکَ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فیِ الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَ اَسْئَلُکَ الْقَصْدَ فِیْ الْغِنٰی وَالْفَقْرِ وَاَسْئَلُکَ نَعِیْمًا لَا یَنْفَدُ وَاَسْئَلُکَ قُرَّۃَ عَیْنٍ لَّا تَنْقَطِعُ وَاَسْئَلُکَ الرِّضا بَعْدَ الْقَضَائِ وَاَسْئَلُکَ بَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَاَسْئَلُکَ لَذَّۃَ النَّظْرِاِلٰی وَجْھِکَ وَالشِّوْقَ اِلٰی لِقَآئِکَ فِیْ غَیْرِ ضَرَّآئَ مُضِرَّۃٍ وَّلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ۔ اَللّٰھُمَّ زَیِّنَا بِزِیْنَۃِ الْاِیْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مُھْتَدِیْنَ۔))[نسائی ؛ کتاب السہو :1306 ؛ مستدرک حاکم ۱؍۵۲۴۔کتاب الدعا باب دعاء عمار بن یاسر؛ قال حاکم: حدیث صحیح و لم یخرجاہ۔]

’’اے اللہ ! اپنے غیب جاننے اور مخلوق پر تیرے اختیار کے واسطے سے مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم کے مطابق زندگی میرے لیے بہتر ہو اور اس وقت مجھے فوت کرنا جب تیرے علم کے مطابق موت میرے لیے بہتر ہو۔ اے اللہ ! بے شک میں طالب ہوں تجھ سے تیری خشیت کا غائب اور حاضر (دونوں حالتوں ) میں اور میں طالب ہوں تجھ سے سچی بات کہنے کا، راضی اور ناراضی (دونوں حالتوں ) میں اور میں سوال کرتا ہوں ، تجھ سے میانہ روی اختیار کرنے کا مالداری اور تنگ دستی میں ، اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے ایسی نعمت کا جو ختم نہ ہونے والی ہو، اور سوال کرتا ہوں تجھ سے آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو ختم نہ ہو،اور سوال کرتا ہوں تجھ سے راضی رہنے کا تیرے فیصلوں پر، اور میں مانگتا ہوں تجھ سے زندگی کی ٹھنڈک کا موت کے بعداور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے چہرے کے دیدار کی لذت کا اورتیری ملاقات کے شوق کا (جو) بغیر کسی تکلیف دہ مصیبت اور گمراہ کن فتنے کے (حاصل ) ہو اے اللہ! ہمیں مزّین فرما ایمان کی زینت سے ، اور بنا دے ہمیں راہنما ہدایت یافتہ۔‘‘

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی صفات علم و قدرت اور قوت بیان کی ہیں ؛ ارشاد فرمایا:

﴿اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّن ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّ شَیْبَۃً ﴾[الروم ۵۴]

’’اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا۔‘‘

اور ارشاد فرمایا : ﴿وَ اِنَّہٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰہُ ﴾(یوسف۶۸)

’’اور بیشک آپ اس علم والے ہیں جو ہم نے آپ کو سکھایا ہے۔‘‘

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ علم اور علم بر ابر نہیں ہوسکتے؛ اور نہ ہی قوت اورقوت برابر ہوسکتے ہیں ۔ اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔


صفحہ 2 از 2