Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اسلام کی طرف سے مدح و منقبت اور تعزیتی کلمات

  علی محمد الصلابی

ا: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تعلیم و تکریم کا اتنا اہتمام کیا کہ انہی کے بقول: ’’میں اپنے حجرہ میں، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد مدفون ہیں (بغیر کسی پردہ کے) داخل ہوتی تھی، لیکن جب وہاں ان دونوں کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی مدفون ہوگئے تو اللہ کی قسم! میں جب بھی داخل ہوئی سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ کے لحاظ میں پردے ہی سے داخل ہوئی۔‘‘

(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 852)

اور قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا:

’’جس نے سیدنا ابن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اسے معلوم ہے کہ وہ اسلام کو تقویت دینے کے لیے پیدا کیے گئے تھے، اللہ کی قسم! سیدنا عمرؓ بے حد واقف کار تھے، علم وہنر میں یگانہ روزگار تھے، ہر فن وضرورت کے مطابق افراد کو تیار کر دیا تھا۔‘‘

(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 853۔ اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، صرف عبدالواحد بن ابی عوف ایسے صدوق ہیں جو کبھی کبھی غلطی کرتے ہیں) عروہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

’’جب تم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ذکر چھیڑتے ہو تو مجلس میں تازگی آجاتی ہے۔‘‘

(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 853، بحوالۃ مناقب أمیر المؤمنین: صفحہ 249)

ب: حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات پر رو رہے تھے، لوگوں نے پوچھا: کیوں روتے ہو؟ انہوں نے کہا: اسلام کے نقصان پر۔ بے شک سیدنا عمرؓ کی موت سے اسلام کی عمارت میں ایسا شگاف پڑ گیا ہے جو قیامت تک پر نہیں ہو سکتا۔

(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 372، أنساب الإشراف الشیخان: صفحہ 387)

ت: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اگر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور پوری روئے زمین والوں کا علم دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو سیدنا عمرؓ کا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔

(مصنف ابن أبی شیبہ: جلد 12 صفحہ 32، اس کی سند صحیح ہے۔)

اور ایک مرتبہ کہا: میں سمجھتا ہوں کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی موت سے علم کا 9/10 حصہ اس دنیا سے چلا گیا۔

(المعجم الکبیر: الطبرانی:جلد 9 صفحہ 179، 180، اس کی سند صحیح ہے۔)

اور فرمایا: ’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا نوید فتح، آپؓ کی ہجرت مسلمانوں کے لیے نصرت اور آپؓ کی حکومت خلق الہٰی کے لیے رحمت ثابت ہوئی۔‘‘

(معجم الکبیر: الطبرانی: جلد 9 صفحہ 178۔ اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں انقطاع ہے)

ث: حضرت ابو طلحہ انصاریؓ نے فرمایا کہ اہل عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں کہ سیدنا عمرؓ کی موت سے اس کے دین و دنیا میں کمی نہ واقع ہوئی ہو۔

(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 374)

ج: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلام کی مثال آگے بڑھنے والے کی طرح تھی جو مسلسل آگے ہی بڑھتا رہا، (عروج پر رہا) اور سیدنا عمرؓ کی شہادت کے بعد اس کی مثال پیچھے رہنے والے کی سی ہوگئی جو مسلسل پیچھے ہی ہوتا چلا گیا یعنی تنزلی کا شکار ہوگیا۔

(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 373، اس کی سند صحیح ہے)

ح: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ختم ہونے کے بعد عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو کہنے لگے: ’’نماز جنازہ پڑھنے میں تو آپ لوگ مجھ سے سبقت لے گئے، لیکن سیدنا عمرؓ کی مدح و منقبت کرنے میں مجھ سے آگے نہیں نکل سکے۔ پھر کہا: اے عمر! تم کتنے بہترین مسلمان بھائی تھے، حق کے لیے بے مثال سخی اور باطل کے لیے بخیل، خوشی کے وقت خوش ہوتے تھے اور غضب کے وقت غضبناک، نہ بے جا تعریف کرتے تھے، نہ پیٹھ پیچھے کسی کو برا کہتے تھے، آپ پاک نظر و عالی ظرف تھے۔

(الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 369)

خ: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پڑوسی تھا، میں نے ان سے بہتر کسی کو نہ دیکھا، سیدنا عمرؓ نے اپنی راتیں نماز کے لیے اور دن روزہ اور لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے وقف کر دیے تھے۔ جب سیدنا عمرؓ کی وفات ہوگئی تو میں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خواب میں دکھا دے۔ چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ مدینہ کے بازار سے جسم پر تلوار لٹکائے ہوئے واپس آرہے ہیں، میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ پھر میں نے ان سے خیریت پوچھی، تو آپ نے کہا: میں خیریت سے ہوں، میں نے پوچھا: آپ کو وہاں کیا ملا؟ انہوں نے کہا: اب جب کہ میں حساب دے چکا ہوں راحت میں ہوں، ورنہ اگر میرا رب رحیم نہ ہوتا تو میرا معاملہ الٹا ہونے والا تھا۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 345، اس کی سند منقطع ہے۔ الحلیۃ: جلد 1 صفحہ 54)

د: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

’’نہ ابوبکر دنیا کے طلب گار ہوئے نہ دنیا ان کی طلب گار ہوئی۔ رہے عمر، تو ان کو دنیا نے چاہا لیکن انہوں نے اسے نہیں چاہا۔ اور رہے ہم (تو ہماری دنیا طلبی کا یہ حال ہے کہ) ہم دنیا میں دنیا کے لیے لوٹ پوٹ رہے ہیں۔‘‘

(تاریخ الإسلام فی عہد الخلفاء الراشدین: ذہبی: صفحہ 267)

ذ: ابن ابی حازم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ علی بن حسین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کیا مقام و مرتبہ تھا؟ انہوں نے کہا: جو مقام آج ہے، کہ وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں مدفون ہیں۔

(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 908)

ر: شعبیؒ سے روایت ہے کہ میں نے قبیصہ بن جابر کو فرماتے ہوئے سنا: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، میں نے ان سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرنے والا، دین کا علم و فہم رکھنے والا اور دینی مذاکرہ کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔

(المعرفۃ والتاریخ: فسوی: جلد 1 صفحہ 457، اس کی سند میں مجالدبن سعد ایک راوی ہے، جس کا حافظہ آخری عمر میں کمزور ہوگیا تھا۔)

ز: حسن بصریؒ کا قول ہے کہ: اگر تم اپنی مجلس میں تازگی لانا چاہتے ہو تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عادات و خصائل اور کارناموں کا تذکرہ کرو۔

(مناقب أمیرالمومنین: ابن الجوزی: صفحہ 251)

اور کہا: جس گھرانے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کمی نہ محسوس کی گئی وہ گھرانہ برا گھرانہ ہے۔

(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 372)

س: علی بن عبداللہ بن عباس کا بیان ہے کہ: ایک مرتبہ میں سخت سردی کے دن عبدالملک بن مروان کے پاس گیا، دیکھا تو وہ ایک سائبان کے نیچے بیٹھے تھے، وہ نیچے سے سرخ و رو اون اور اوپر سے موٹا اون لگا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد چار انگیٹھیاں جل رہی تھیں،

(محض الثواب: صفحہ جلد 3 صفحہ 911)

جب شدید سردی سے میرے دانتوں کے بجنے کی آواز سنی تو کہا: مجھے لگتا ہے کہ آج شدید سردی ہے۔ میں نے کہا: اللہ آپ کا بھلا کرے! شام والوں کو کیا معلوم کہ ان پر اس سے بھی زیادہ سخت سرد دن آسکتا ہے۔ پھر دنیا کی چمک دمک کا ذکر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا: معاویہ یہاں چالیس سال رہے بیس سال امیر اور بیس سال خلیفہ بن کر رہے، واقعتاً ابن حنتمہ (یعنی عمر رضی اللہ عنہ ) بہت زیرک اور دنیا کے کی سیاست سے واقف تھے۔

(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 911، مناقب امیرالمومنین: صفحہ 252)