صفات باری تعالی میں تشبیہ کا وہم اور اس پررد - ردِ رافضیت |…

صفات باری تعالی میں تشبیہ کا وہم اور اس پررد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

صفات باری تعالیٰ میں تشبیہ کا وہم اور اس پررد 

یہ بات تمام عقلاء پر لازم آتی ہے۔ سو بلاشبہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی کسی ایسی صفت کی نفی کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کے لیے بیان کی ہے؛ جیسے ؛ رضا مندی؛ غصہ ہونا؛ اور محبت اوربغض۔اور اس طرح کی دیگر صفات ۔ اور وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس سے تشبیہ اور تجسیم لازم آتی ہے۔

تو اس سے کہا جائے گاکہ : ’’ آپ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ارادہ ؛کلام ؛ سمع اور بصر کو ثابت مانتے ہیں ؛ حالانکہ جو صفات آپ ثابت مانتے ہیں وہ مخلوقات کی صفات کی طرح نہیں ہیں ۔ تو آپ جن چیزوں کو ثابت مانتے ہیں ؛ جیسا عقیدہ ان کے متعلق رکھتے ہیں ؛ ویسا ہی عقیدہ ان چیزوں کے متعلق بھی رکھیں جن کا آپ انکار کرتے ہیں ؛ اور اللہ اور اس کے رسول نے وہ ثابت کی ہیں ۔کیونکہ ان دونوں کے مابین کوئی فرق نہیں ہے۔

اگر وہ کہے کہ: ’’میں کسی بھی صفت کو ثابت نہیں مانتا ‘‘؟

تو اس سے کہا جائے گا کہ: کیا آپ تعالیٰ کے لیے اسماء حسنیٰ کو مانتے ہیں ؛ جیسے حیی ؛ علیم ؛ قدیر۔ اور بندوں کے بھی یہ نام رکھے جاتے ہیں ۔ اور ان اسماء میں سے جن کو آپ رب سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ثابت مانتے ہیں ؛ وہ وہ ان اسماء کے مماثل اور مشابہ نہیں جن کو آپ بندے کے لیے ثابت مانتے ہیں ۔پس صفات کے بارے میں ویسا ہی عقیدہ رکھیں ؛ کیونکہ جو عقیدہ آپ کا اسماء اللہ الحسنی کے بارے میں وہی صفات میں ہونا چاہیے۔

اگروہ یہ کہے : میں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کو ثابت نہیں مانتا؛ بلکہ میں کہتا ہوں : یہ مجاز ہے۔ یا پھر یہ اس کی بعض ایجادات و تخلیقات کے نام ہیں ۔ جیسے غالی باطنیہ اور فلاسفہ کا عقیدہ ہے۔

تو اس سے کہا جائے گا: تم یہ عقیدہ تو ضرور رکھتے ہو گے کہ بیشک اللہ سبحانہ و تعالیٰ حق اور اپنی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ اورموجود جسم بھی اپنی ذات کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ مگر ان دونوں کے مابین کوئی مماثلت نہیں ۔

اگروہ کہے: میں ایسی کوئی بھی چیز نہیں مانتا ؛ بلکہ میں وجود الواجب کا انکار کرتا ہوں ۔

تو اس سے کہا جائے گا کہ: یہ بات تو صریح عقل کی روشنی میں معلوم شدہ ہے کہ موجود یا تو بنفسہ واجب ہوتا ہے؛ یا بنفسہ واجب نہیں ہوتا۔ اوریا قدیم اور ازلی ہوتا ہے؛ یا پھر حدیث اورکائن؛ حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اور پھر یا تو وہ مخلوق ہوگاجسے خالق کی حاجت ہوگی؛ یا پھر غیر مخلوق ہوگاجسے کسی خالق کی حاجب نہیں ہوگی۔ اور یا تووہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کا محتاج ہوگا؛ یا پھر اپنے سوا کسی کا محتاج نہیں ہوگا۔

بنفسہ غیر واجب واجب بنفسہ سے ہوسکتا ہے۔ اور قدیم کے بغیر حادث نہیں ہوسکتا۔ اورمخلوق کا ہونا خالق کے بغیر ممکن نہیں ۔اور فقیر کا ہونا غنی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔نقیضین کی تقدیر پر؛ موجود واجب بنفسہ ؛قدیم ازلی خالق اور اپنے علاوہ ہر ایک سے غنی کا وجود لازم آتا ہے؛ اورجو کچھ اس کے سوا ہے؛ وہ اس کے خلاف ہے۔

حس اور ضرورت کے تحت عدم کے بعد کائن اور حادث کا وجودموجود ہونا معلوم شدہ ہے۔ حادث نہ ہی واجب بنفسہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ازلی قدیم ؛ اور نہ ہی اپنے علاوہ کسی چیز کا خالق ہوسکتاہے۔ اور نہ ہی دیگر سے غنی اور بے نیاز۔ پس ضرورت کے تحت دو موجودکا وجود ثابت ہوا۔ ان میں سے ایک دوسرے سے غنی اوربے نیاز ہے۔ ان میں سے ایک خالق اوردوسرا مخلوق ہے۔ اور یہ دونوں موجود اور ثابت ہونے میں متفق ہیں ۔ بلکہ جب محدث جسم ہو تو جو بھی چیز ان دو سے ہوگی؛ وہ اپنی ذات کے ساتھ قائم ہوگی۔

یہ بات بھی معلوم شدہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک اپنی حقیقت میں دوسرے کے مماثل نہیں ہے۔ اگر ان کی آپس میں مماثلت ہوتی تو یہ دونوں واجب اور جائز اور ممتنع ہونے میں بھی برابر ہوتے۔ جبکہ ان میں ایک کا قدیم ہونا واجب ہے جو اپنی ذات کے ساتھ موجود ہو؛ اور ان دومیں سے ایک اپنے علاوہ ہر چیز سے غنی اور بے نیاز ہو۔ جب کہ دوسرا غنی نہیں ہوسکتا۔ اور ان دو میں سے ایک خالق ہو؛ جبکہ دوسرا خالق نہیں ہوسکتا۔اور اگر یہ دونوں متماثل ہوں تو اس سے لازم آتا ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک واجب القِدَم بھی ہو اور غیرواجب القِدَم بھی ہو؛ موجود بنفسہ بھی ہو اور غیر موجود بنفسہ بھی ہو۔ اپنے علاوہ دوسروں سے غنی اور بے نیاز ہوبھی اورنہ بھی ہو۔ خالق ہو لیکن مخلوق کو پیدا کرنے والا نہ ہو۔ پس اگر ان دونوں کے مابین تماثل کو تسلیم کرلیا جائے تو اس سے اجتماع ِ نقیضین لازم آتا ہے؛ جو کہ صریح عقل کی روشنی میں منتفی ہے۔اور نصوص شریعت بھی اس کا انکار کرتی ہیں ۔جب کہ عقل اور شریعت کا دوسرے امور میں اتفاق ہے۔ جیسا کہ ان دو میں سے ہر ایک موجود ثابت ہے؛اور اس کی اپنی حقیقت اور ذات ہے؛ جو کہ خود اس کا اپنا وجود ہے؛ اور جسم جو کہ اپنی ذات کے ساتھ قائم ہوتا ہے؛ وہ خود ہی اپنی ذات کے ساتھ قائم ہے۔

پس ان واضح براہین کی روشنی میں معلوم ہوا کہ بعض وجوہات کی بنا پر ان کے مابین اختلاف ہے؛ اور بعض وجوہات کی بنا پر اتفاق ہے۔ پس جو کوئی ان کے اتفاقیہ امور کی نفی کرتا ہے؛ وہ معطل اور باطل عقیدہ کا پیروکار ہے۔ اور جو کوئی ان کو مماثل کہتا ہے؛ وہ بھی مشبہ اور باطل عقیدہ کا پیروکار ہے۔واللہ اعلم ۔

صفحہ 1 از 3