صفات باری تعالی میں تشبیہ کا وہم اور اس پررد - ردِ رافضیت |…

صفات باری تعالی میں تشبیہ کا وہم اور اس پررد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

ایسے ہی جب یہ دو وجود کلی کے مسمیٰ میں مشترک ہوتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک اپنے وجود کی خاصیت کے اعتبار سے دوسرے سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ جب دو انسان یا دو حیوان مسمیٰ انسانیت یا حیوانیت میں مشترک ہوں تو ان میں سے ہر ایک اپنی خاص انسانیت یا خاص حیوانیت کے اعتبار سے دوسرے سے جدا ہوتا ہے۔ اور اگریہ مان لیا جائے کہ وجود کلی خارج میں ثابت ہے ؛ تو پھر بھی اس کے خاص وجود کے اعتبار سے ان کے مابین فرق کیا جانا ممکن ہے ۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ وجود اور ماہیت سے مرکب ہے۔تو پھر اس کے خلاف کیسے کہا جاسکتا ہے ؟ اور جس کسی نے یہ کہا ہے کہ یہ ہر امر ثبوتی کی سلبیت کی شرط کے ساتھ مطلق وجود ہے؛ تو اس کا یہ قول فاسد ترین قول ہے۔ ہم اس مسئلہ پر دوسرے مقامات پر تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں ۔ مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے اسما و صفات ثابت کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مخلوقات کے مشابہ و مماثل ہے۔[اس میں شبہ نہیں کہ باری تعالیٰ ایسی صفات سے متصف ہے جو اس کی ذات کے ساتھ لازم ہیں ، یہ صفات اسی طرح قدیم، ازلی اور واجب ہیں جس طرح اس کی ذات قدیم و واجب ہے، اس میں اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ۔یہ کہنا کہ اسماء الٰہی ثابت ہیں مگر صفات نہیں ، ایک قسم کا عقلی مغالطہ ہے۔ مزید برآں یہ نظریہ قرامطہ کی پیروی کا غماز ہے۔ جمہور کے نزدیک یہ تقسیم ایک شنیع قسم کی خطا اور بدعت ہے۔ سنت کی پیروی کرنے والے اہل حق کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جسمانیت سے ہر گز موصوف نہیں ہوسکتا۔ (تعالی اﷲ عن ذلک )۔ بلکہ دور جاہلیت اور دور اسلام کے عرب بھی اﷲ تعالیٰ کو جسم سے منزہ تصور کرتے تھے]


صفحہ 3 از 3