Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مدح سرائی دور حاضر کے علماء وادباء کی زبانی

  علی محمد الصلابی

الف: ازہر یونیورسٹی مصر کے سابق شیخ الازہر ڈاکٹر محمد محمد الفحام کہتے ہیں: ’’سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کارنامے آپ کی سیاسی برتری کا لوہا منواتے ہیں، مختلف خدا داد صلاحیتوں اور ہمیشہ باقی رہنے والی بے مثال عبقریت کو نمایاں کرتے ہیں، جو آپ کی خلافت کی زندگی میں پیش آنے والے مشکلات و حوادث کی طرح ہماری زندگی کی مختلف مشکلات وحوادث سے نمٹنے میں ہمارے سامنے چراغ راہ بنتے ہیں۔‘‘

(الإدارۃ فی الإسلام فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 391)

ب: مصر کے ایک نامور ادیب عباس محمود عقاد کہتے ہیں: ’’ناموران اسلام پر نقد و تبصرہ کے سلسلہ میں اس عظیم شخصیت (عمر فاروق) پر تنقید و تبصرہ کرنا میری زندگی کا مشکل ترین کام رہا ہے اور مزید خصوصیت یہ ہے کہ فرط تحقیق اور فرط اعجاب سیدنا عمرؓ کے خلاف یا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حق میں حکم لگانے میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ میری کتاب ’’عبقریۃ عمر‘‘ ان تاریخی کتابوں کے طرز پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت اور آپ کے دور کی تاریخ کی کتاب نہیں ہے جس کا مقصد صرف واقعات و حوادث کو بیان کرنا ہوتا ہے، بلکہ یہ کتاب سیدنا عمرؓ کی صفت کی عکاس ہے۔ اس میں سیدنا عمر فاروقؓ کی حکومت کے مختلف مراحل پر تحقیقی تبصرہ ہے اور آپؓ کی عظمت و بڑائی کی خصوصیات اور نیز علم نفس، علم اخلاق اور زندگی کے حقائق میں ان خصوصیات سے استفادہ کرنے کا لائحہ عمل ہے۔

اس وقت ہم جس دور سے گزر رہے ہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بالکل اسی جیسے دور کا آدمی شمار کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ آج بھی ظالمانہ قوت و اقتدار کی پوجا عام ہو چکی ہے اور کمزور عقیدہ کے بزدل لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ طاقت اور حق اکٹھے نہیں ہو سکتے، لہٰذا اگر ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسے ایک عظیم اور طاقتور حاکم، قائد وسپہ سالار کو سمجھ لیں گے تو اس بنیاد پر ظالمانہ اقتدار و قوت کو توڑنے میں یقیناً کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لیے کہ ہم نے ایک ایسی عظیم شخصیت کو سمجھا ہے جو بے حد طاقتور ہونے کے ساتھ مثالی عدل پرور اور بے انتہا شفیق و مہربان تھی۔ سیدنا عمرؓ کی شخصیت کی معرفت موجودہ دور کی تباہی و بیماری کے لیے تریاق ہے کہ جس سے شفا کی آخری امید لگائے ہوئے ہر بیمار کو شفا مل سکتی ہے۔‘‘

(الإدارۃ فی الإسلام فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 392)

ت: ڈاکٹر احمد شلبی کہتے ہیں: ’’سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت میں جو نت نئے احوال و حوادث سے بھری ہوئی ہے، اجتہادی کارنامے سیدنا عمرؓ کی زندگی کے سب سے نمایاں پہلو ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے دین کی حفاظت کی، جہاد کا پرچم بلند کیا، ممالک کو فتح کیا، عدل و انصاف کو رواج دیا، اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے وزارت خزانہ کی بنیاد رکھی، ملکی دفاع اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے منظم فوجی نظام قائم کیا، فوج کی تنخواہیں مقرر کیں، وظائف جاری کیے، ہر شعبہ کے لیے رجسٹر تیار کرائے، گورنران، افسران اور قاضیوں کو عہدوں پر فائز کیا، زندگی کو بہتر اور ہموار بنانے کے لیے سکے جاری کیے، ڈاک کا نظام وضع کیا، محکمہ قائم کیا، ہجری تاریخ کی بنیادی ڈالی، مفتوحہ زمین کو ذمیوں کے ہاتھ میں باقی رکھا، اسلامی شہروں کی خاکہ بندی کی اور انہیں بسایا، لہٰذا حق کا تقاضا ہے کہ آپ کو امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ اور اسلامی سلطنت کا موسس کہا جائے۔‘‘

(الإدارۃ فی الإسلام فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 392، التاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 609)

ث: علی علی منصور کا کہنا ہے کہ: ’’آج سے چودہ سو سال پہلے عدلیہ کے باب میں عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام جو خطوط لکھے تھے وہ عدل و قضا اور منصفی کے محکموں کے لیے آج بھی دستور کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ خطوط عدلیہ کی خود مختاری اور فوجداری کے قوانین کی کامل ترین شکل ہیں۔‘‘

(الإدارۃ فی الاسلام فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 392)

ج: محمود شیت خطاب کا کہنا ہے: ’’اسلامی فتوحات کی وسعت کے اگرچہ کئی اسباب ہیں، لیکن ان میں اہم اور سرفہرست سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی منفرد اوصاف کی حامل قیادت کا حصہ ہے، جو سیدنا عمرؓ کے علاوہ پوری تاریخ میں نظر نہیں آتی اس کا وجود نادر ہے۔

(الإدارۃ فی الإسلام فی عہد عمر بن خطاب: صفحہ 393)

ح: ڈاکٹر صبحی محمصانی کا قول ہے کہ ’’خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور ختم ہونے کے ساتھ ایک وسیع و مستحکم اسلامی سلطنت کے بانی کا دور ختم ہو جاتا ہے۔ سیدنا عمرؓ ایک فاتح قائد، باشعور و عالی ہمت امیر، ذمہ دار نگران، مہربان، نرم دل، انصاف پسند اور قوی حاکم تھے، سیدنا عمرؓ نے فرض منصبی کی ادائیگی اور سچائی و نیکی کی چوکھٹ پر خود کو قربان کر دیا، اللہ کے برگزیدہ بندوں، صدیقین اور صالحین کی فہرست میں آپ نے بھی اپنا نام درج کروا لیا، (ان شاء اللہ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام انسانی تہذیب و تمدن اور فقہ و بصیرت اور تمدن کی تاریخ میں ہمیشہ چمکتا ہوا باقی رہے گا۔‘‘

(تراث الخلفاء الراشدین فی الفقہ والقضاء: صفحہ 46، 47)

س: علی طنطاوی کہتے ہیں: ’’سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت و خصائص کے بارے میں جیسے جیسے میری معلومات میں اضافہ ہوتا گیا آپ کے ساتھ میری دلچسپی اور عقیدت بڑھتی گئی، میں نے مسلم اور غیر مسلم ہزاروں عظیم شخصیتوں کی سیرتوں کا مطالعہ کیا، تو دیکھا کہ کوئی فکر و دانائی میں بلند ہے، کوئی زبان و بیان میں، کسی کو اخلاقیات میں برتری حاصل ہے تو کسی کے نقوش و کارنامے سب سے اعلیٰ ہیں۔ گویا سب کی الگ الگ خصوصیات ہیں۔ لیکن جب میں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو پڑھا تو دیکھا کہ ہر چہار جانب سے ان پر عظمتوں کا تاج ہے۔ آپ بلندیٔ فکر کے حامل ہیں اور اخلاق و بیان کے بھی شہ سوار ہیں۔ اگر آپ نامور فقہائے امت و علمائے اسلام کو شمار کرنا شروع کریں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سرفہرست پائیں گے، اگر خطباء و بلغاء کی فہرست دیکھیں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام سب سے پہلے دیکھیں گے، اگر قانون دانی کے ماہروں، فوجی سپہ سالاروں کے ممتاز دانش وروں اور کامیاب حکمرانوں کے سرکردہ افراد کا ذکر چھیڑیں تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو ہر گروہ میں پیش پیش اور ان کا امام پائیں گے اور اگر حکومت و مملکت آباد کرنے والے اور زمین میں اپنے آثار و نقوش چھوڑنے والے دنیا کے بڑے بڑے انسانوں کو تلاش کریں تو ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر بلند مقام اور شرف و عظمت والا کوئی نظر نہ آئے گا۔ مزید برآں سیدنا عمرؓ اخلاق کے دھنی اور تواضع کے شاہکار

تھے۔‘‘

(أخبار عمر: صفحہ 5)