سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بعض مستشرقین کے اقوال
علی محمد الصلابیالف: ولیم میور اپنی کتاب ’’الخلافہ‘‘ میں لکھتا ہے: ’’سادگی اور فرض منصبی کی ادائیگی عمر ( رضی اللہ عنہ ) کے اہم اصولوں میں شامل تھی، غیر جانبداری اور اخلاص آپ کی حکومت کی نمایاں خصیوصیت تھی، آپ ذمہ داری کا پورا پورا لحاظ رکھتے تھے، عدل کا احساس ہمیشہ غالب رہتا تھا، افسران کے انتخاب میں کبھی بے جا طرف داری نہ کی، باوجود یہ کہ آپ اپنا درہ ہمیشہ ساتھ رکھتے اور مجرم کو بروقت سزا دیتے اور جس درہ کے بارے میں یہاں تک کہا گیا کہ دوسروں کی تلوار کے مقابلے میں عمر (رضی اللہ عنہ) کا درہ کافی ہوتا تھا، آپ نرم دل تھے، شفقت و مہربانی سے بھرپور آپ کے کارنامے رہے۔ اس کی مثال بیواؤں اور یتیموں پر آپ کی بے انتہا شفقت ہے۔‘‘
(الفاروق عمر بن خطاب: محمد رشید: رضا: صفحہ 54، 55)
ب: برطانوی دائرۃ المعارف کی شہادت ہے کہ ’’عمر(رضی اللہ عنہ) عقل مند اور دور اندیش حاکم تھے، آپ نے اسلام کے لیے بہت عظیم خدمات انجام دی ہیں۔‘‘
(الفاروق عمر بن خطاب: محمد رشید: رضا: صفحہ 54، 55)
ت: واشنگٹن اِرونگ اپنی کتاب ’’محمد اور ان کے خلفاء‘‘ میں لکھتا ہے: ’’عمر (رضی اللہ عنہ) کی اول تا آخر پوری زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ بڑی ذہنی صلاحیتیوں کے مالک تھے، استقامت و عدالت پر سختی سے کاربند تھے، آپ نے اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی، نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تمناؤں کو پورا کیا اور مستحکم انداز میں انہیں نافذ کیا، ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی مختصر سی مدت خلافت میں اپنے مشورہ اور نصیحتوں سے ان کی تائید کی اور اسلامی سلطنت کے زیر نگیں تمام مفتوحہ ممالک میں کامیاب اور پرحکمت نظام کے لیے نہایت مضبوط اصول وضع کیے، دور دراز ممالک میں فتح و غلبہ کے وقت اسلامی افواج کے محبوب نظر بڑے بڑے جرنیلوں اور قائدوں پر شفقت کا مضبوط ہاتھ رکھنا اور انہیں تمام تائیدات سے نوازنا آپ کی فرماں روائی کی معجزانہ صلاحیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ آپ نے اپنی اخلاقی سادگی و تواضع کے اظہار، دنیوی چمک دمک اور عیش و عشرت کی تحقیر میں نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ابوبکر کو اپنے لیے نمونہ بنایا اور فاتح قائدین اور جرنیلوں کے نام خطوط لکھنے، نیز انہیں ہدایات و تعلیمات دینے میں انہیں دونوں کے نقش قدم پر چل کر دکھایا۔‘‘
(الفاروق عمر بن خطاب: محمد رشید: رضا: صفحہ 55)
ج: ڈاکٹر مائیکل ہارٹ کا کہنا ہے کہ عمر ( رضی اللہ عنہ) کے نقوش یقیناً اثر انداز ہونے والے ہیں۔ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بعد اسلام کی نشر و اشاعت میں آپ کی شخصیت کا اہم مرکزی کردار رہا۔
(ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مائل ہارٹ صاحب کو ابوبکر رضی اللّٰه عنہ کی سیرت سے اچھی طرح واقفیت نہیں ہے۔)
آپ کی فتوحات کی تیز رفتاری کو اگر تسلیم نہ کیا جائے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ آج جتنے وسیع رقبہ میں اسلام موجود ہے اس حد تک اسلام کیسے پھیلا، جب کہ بیشتر علاقے جنہیں مسلمانوں نے فتح کیا تھا وہ آج بھی عرب ہیں اور ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں۔
ایک بات جو بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی نشر و اشاعت کے میدان میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے، لیکن اس موقع پر اگر ہم عمر (رضی اللہ عنہ) کے دور حکومت اور ان کی زندہ قیادت سے چشم پوشی کرتے ہیں تو یہ ہماری کھلی غلطی ہوگی۔‘‘
(وفات نبوی کے بعد دور فاروقی ہی نہیں بلکہ دور صدیقی اور ان کی بیدار قیادت سے چشم پوشی کرنا بھی کھلی غلطی ہے۔)