Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات پر مرثیہ کے چند اشعار

  علی محمد الصلابی

عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل العدویہ رضی اللہ عنہا (سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بہن، بہن عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی بیوی، شرم و حیا کی پیکر، شاعرہ اور مہاجرات میں سے تھے۔ مترجم) نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی موت پر یہ مرثیہ کہا:

فجعنی فیروز لا در درہ 

بأبیض تال للکتاب منیب

’’اللہ برا کرے فیروز (ابولؤلؤ دیلمی) کا، اس نے گورے چٹے، قرآن کی تلاوت کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے (عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے) مجھے بہت بڑی تکلیف دی ہے۔‘‘

رؤوف علی الأدنی غلیظ علی العدا

أخی ثقۃ فی النائبات مجیب

’’وہ کمزوروں پر مہربان اور دشمنوں پر سخت تھے، آفات و مصائب میں دوسروں کے کام آنے والے تھے۔

‘‘متٰی ما یقل لا یکذب القول فعلہ

سریع إلی الخیرات غیر قطوب

’’جب کوئی بات کہتے تو اسے کر دکھاتے (قول و عمل میں تضاد نہ خیر و بھلائی کے کاموں میں بے دریغ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔‘‘

(المائۃ الأوائل، ترجمۃ خالد عیسیٰ اور احمد سبانو: صفحہ 163)

اور یہ بھی کہا:

عین جودی بعبرۃ ونحیب

لا تملی علی الإمام النجیب

’’سسکیاں لے لے کر آنسوؤں کی بارش کرتی ہوئی آنکھ ستودہ صفت امام پر رونے سے اکتاتی نہیں ہے۔‘‘

فجعتنی المنون بالفارس

المعلم یوم الہیاج والتلبیب

’’لڑائی کے دن اور سخت معرکہ کے وقت، نمایاں مردِ میدان (کو ہم سے چھین کر) گردش دوراں نے مجھے مصیبت میں ڈال دیا ہے۔‘‘

عصمۃ الناس والمعین علی

الدھر وغیث المنتاب المنتاب والمحروب

’’وہ لوگوں کی پناہ گاہ، حادثات کے مواقع پر مدد کرنے والے، ملاقاتیوں (فریادیوں) کی فریاد رسی کرنے والے اور ناداروں کی ضرورت پوری کرنے والے تھے۔‘‘

قل لأہل السراء والبؤس موتوا

قد سقتہ المنون کأس شعوب

(تاریخ الطبری، جلد 5 صفحہ 214، الأیام الأخیرۃ فی حیاۃ الخلفاء: إیلی منیف شہلۃ: صفحہ 40)

’’خوش حالوں اورمصیبت زدوں سے کہہ دو کہ وہ بھی مر جائیں، (عمر کو) حادثۂ دہر نے موت کا جام پلا دیا ہے۔‘‘

الغرض خلیفہ راشد و عادل سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات کو ذکر کرتے ہوئے گویا میں انسانی عظمت کی تاریخ کا ایک تابناک باب بند کر رہا ہوں، انسانی تاریخ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو منفرد منہج کا منفرد آدمی شمار کیا ہے۔ سیدنا عمرؓ کی تگ و دو مال جمع کرنے کے لیے نہ تھی، شیطان کی چالیں سیدنا عمرؓ کو بہکا نہ سکیں، نہ ہی اقتدار کا نشہ آپ کو راہِ حق سے بھٹکا سکا اور نہ ہی اقرباء پروری وخاندان نوازی آپؓ کو ظالم بنانے میں کامیاب ہوئی، بلکہ آپؓ کی پوری کوشش یہ تھی کہ اسلام کو سر بلندی ملے اور سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ اسلامی شریعت کی قیادت ہو اور پوری رعایا عدل وانصاف کی نعمت سے مالا مال ہو۔ چنانچہ اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے نہایت مختصر سی مدت میں یہ ساری چیزیں دیکھنے کو ملیں۔

(جولۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 297)

بابرکت و مہکتی ہوئی سیرت کا مطالعہ نئی نسل کے ایمانی قالب میں ان فاروقی عزائم کی روح پھونکتا ہے جو انسانی زندگی میں ماضی کے خوبصورت ایام کی شان و شوکت اور تازگی و خوشنمائی کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔ سیدنا عمرؓ کی سیرت کا مطالعہ امت کے نوجوانوں کو راہنمائی کرتا ہے کہ اس دین کے آخری ایام اس وقت تک درست ہونے والے نہیں ہیں جب تک کہ ان اصولوں کو نہ زندہ کیا جائے جن کے ذریعہ اس دین کے اوائل ایام درست و کامیاب ہوتے تھے، سیدنا عمرؓ کی سیرت داعیان اسلام و مبلغین شریعت اور علمائے کرام کی مدد کرتی ہے کہ وہ خلافت راشدہ کے اصولوں کی پابندی کریں، اس کی منفرد و نمایاں خصوصیات، خلفائے راشدین کے اوصاف اور عالم انسانیت کو سدھارنے میں ان کے منہج کی معرفت حاصل کریں پھر یہی چیز امت مسلمہ کے لیے دوبارہ اس کی ماضی کی تہذیب واپس لانے میں معاون ثابت ہوگی۔

آخر میں اس کتاب کی تالیف سے فارغ ہوتے ہوئے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ الہٰی میری اس حقیر سی کوشش کو شرف قبولیت عطا فرما اور اس سے استفادہ کرنے کے لیے اپنے بندوں کا سینہ کشادہ کردے اور اپنے احسان و کرم سے اس میں برکت عطا فرما، آمین

مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا وَمَا يُمۡسِكۡ  فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِه  وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞ (سورۃ نمبر 35 فاطر آیت 2)

ترجمہ: جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اللہ کے فضل وکرم اور جود و سخا کا صدق دل سے اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے لرزاں دل و زبان سے دست بدعا ہوں، وہی احسان کرنے والا، عزت دینے والا، مدد گار اور توفیق سے نوازنے والا ہے، ہر حال میں اس کا شکر گزار ہوں، اللہ کے اسمائے حسنیٰ اور اس کی صفات عالیا کا واسطہ دے کر اللہ سے عرض کناں ہوں کہ اللہ مجھے اس عمل میں اپنی رضا کا طالب بنا، اسے اپنے بندوں کے لیے نفع بخش ثابت کر، ہر حرف کے بدلے مجھے بہتر بدلہ عطا فرما، اسے میری نیکیوں کے ترازو میں رکھنا اور اس حقیر کو کوشش کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں میرے جن احباب نے میری مدد کی ہے انہیں ثواب سے نواز دے، اپنے تمام قارئین بھائیوں سے بھی میری یہی درخواست ہے کہ اپنے اس بھائی کو اپنی نیک دعاؤں میں نہ بھولیں گے۔ رَبِّ اَوۡزِعۡنِىۡۤ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِىۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًـا تَرۡضٰٮهُ وَاَدۡخِلۡنِىۡ بِرَحۡمَتِكَ فِىۡ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:  میرے پر ورگار! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔

سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

بندۂ ناچیز    

 علی محمد محمد الصلابی 

13، رمضان 1422ھ مطابق 28نومبر 2001ء