Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آغا خانی شیعوں کو سنیوں کی مسجد میں آنے دینا


سوال: آغا خانی خود قوم جو کانوڈا کو پوجتے ہیں یہ لوگ ستائیسویں روز مسجد میں جو سنی لوگ کھانا پکاتے ہیں، تو ان میں کھانے پکانے میں شرکت کرتے ہیں مسجد میں پہلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ تو کیا ایسی صورت میں ان کا سنیوں کے ساتھ شرکت جائز ہے یا نہیں؟ اور مسجد میں آنا اور پہلی صف میں کھڑا ہونا کیسا ہے؟ کیا نماز میں کوئی حرج ہو گا کہ نہیں؟

جواب: آغا خانی ہونے کے ساتھ غیر اللہ کا پوجنا یقیناً مؤجبِ کفر ہے اور جبکہ اپنے آپ مسلمان سمجھتے ہیں؟ تو گویا اسلامی احکام مان کر یہ حرکتیں کرنا مؤجب ارتداد ہیں جو کفر سے بھی بڑھ کر ہیں، اور کفار کے متعلق شریعت کا حکم اس قدر سخت ہے کہ ان کو مسلمان کی پوشاک اور سواری سے بھی الگ رکھا جائے تو نماز جیسی شعار اسلام میں کسی طرح ان کو شرکت کا موقع دے سکتے ہیں؟

دوم یہ کہ مذہبی امور میں ان کی شرکت ایک قسم ان کی تعظیم اور بالفاظ دیگر اسلام کی توہین ہے، اس لئے جب تک دو کامل طور سے اس باطل دین سے کنارہ کش نہ ہو، نماز وغیرہ مذہبی امور میں شرکت کا موقع نہ دیں۔

(معین الفتاوىٰ: صفحہ، 726)