کیا سیدنا ابنِ عباسؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو گدھا کہا؟
محمد ذوالقرنینکیا سیدنا ابنِ عباسؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو گدھا کہا؟
السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ
کچھ دن قبل میری نظر سے مرزا جہلمی کا ایک وڈیو کلپ گزرا جس میں وہ طحاوی شریف میں موجود ایک ضعیف روایت سنا رہا ہے اور اس میں امام طحاویؒ پر جھوٹ بھی باندھ رہا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو صحیح کہا۔
اور مرزا کی وڈیو دیکھ کر اس روایت کو اس کے مرزائیوں نے بطور دلیل سوشل میڈیا پر شئیر کرنا بھی شروع کر دیا ہے کہ جی سیدنا ابنِ عباسؓ نے معاذ اللہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے۔
اس پوسٹ میں ہم انہی لوگوں کا پوسٹ مارٹم کریں گے۔
روایت کچھ یوں ہے کہ:
عکرمہ کہتا ہے کہ میں سیدنا ابنِ عباسؓ کے ساتھ سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس تھا ہمیں باتیں کرتے رات کا ایک حصہ گزر گیا، پس سیدنا امیر معاویہؓ نے کھڑے ہو کر ایک رکعت(وتر) پڑھی تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا اس گدھے نے یہ چیز کہاں سے لی ہے؟(کہ ایک رکعت وتر پڑھا جائے)۔
(طحاوی شریف،روایت نمبر 1678)
اس روایت پر امام طحاویؒ نے کہیں پر بھی صحیح ہونے کا حکم نہیں لگایا بلکہ یہ مرزا جہلمی نے ان پر جھوٹ باندھا ہے۔
اب اس روایت کی صحت پر بات کرتے ہیں تو یہ روایت حد درجے کی ضعیف بلکہ جھوٹی روایت ہے۔
اس کی سند کے ایک راوی عبدالوہاب بن عطاءؒ پر کلام ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ نے اس پر جرح و تعدیل دونوں نقل کی جس میں لکھا ہے کہ:
امام احمدؒ کہتے ہیں کہ یہ ضعیف الحدیث ہے اور مضطرب ہے، امام نسائیؒ کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں،
امام رازیؒ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولا کرتا تھا،اور ذھبیؒ نے نقل کیا ہے کہ یہ قدریہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔
(میزان الاعتدال،جلد 4،صحفہ388)
امام ذھبیؒ نے الکاشف میں لکھا ہے کہ:
امام احمدؒ، امام بخاریؒ، اور امام نسائیؒ کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ہے۔
(الکاشف،جلد 1،صحفہ675)
اس کے مقابلے میں جو ہلکی پھلکی تعدیل ہے وہ کسی کام کی نہیں کیونکہ اس پر جرح مقدم ہے اور امام یحییٰ کی تعدیل بھی قابلِ قبول نہیں کیونکہ جرح مقدم ہے۔
امام ابنِ جوزیؒ نے اس کو اپنی الضعفاء میں شامل کیا جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ راوی ضعیف ہے، اور پھر امام احمدؒ کا قول نقل کیا کہ یہ ضعیف الحدیث اور مضطرب ہے، امام رازیؒ کا قول نقل کیا کہ یہ حدیث میں قوی نہیں اور نسائیؒ کا قول نقل کیا کہ یہ قوی نہیں۔
(کتاب الضعفاء ابنِ جوزی،جلد 2،صحفہ 158)
امام نسائیؒ بھی اس کو اپنی الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں۔
(الضعفاء للنسائی،صحفہ 163)
امام بخاریؒ اس کو اپنی الضعفاء میں شامل کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہ ضعیف ہے اور پھر لکھتے ہیں کہ یہ قوی نہیں۔
(کتاب الضعفاء للبخاری،صحفہ 75)
امام ابنِ حجرؒ نے اس کو صدوق لکھا ہے جو کہ مردود ہے لیکن ساتھ ہی لکھتے ہیں یہ بسا اوقات خطاء کر جاتا ہے۔
(تقریب التہذیب،جلد 1،صحفہ571)
تو یہ تھی اس راوی پر جرح جو کہ تعدیل پر مقدم ہے اور یہ راوی صدوق درجے کا بھی نہیں ہے بلکہ ابنِ حجرؒ سے خطا ہوئی ہے۔اس راوی کی روایت لینا جائز ہی نہیں۔
اب ہم یہ بیان کریں گے کہ کیا ایک رکعت پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
تو اس بارے میں سنن ابنِ ماجہ میں روایت ہے کہ
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا، وتر حق ہے لہٰذا جو چاہے پانچ رکعات وتر پڑھ لے، اور جو چاہے تین رکعات وتر پڑھ لے، اور جو چاہے ایک رکعت وتر پڑھ لے۔
(سنن ابنِ ماجہ،حدیث نمبر 1190)
یہ حدیث اس کے علاوہ سنن ابوداؤد میں حدیث نمبر 1422،سنن دارمی میں حدیث نمبر 1623 اور مسند احمد میں حدیث نمبر 23941 پر بھی موجود ہے۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ نبیﷺ کے فرمان کے مطابق بھی ایک رکعت وتر پڑھنا جائز ہے۔
اس کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کو نبیﷺ نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم نماز ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت(وتر) پڑھ لو، یہ رکعت تیری سابقہ نماز کو وتر بنا دے گی، قاسم بن محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ یقیناً تین یا ایک ہر طرح سے جائز ہے، مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(بخاری،حدیث نمبر 993)
ایک اور مقام پر وارد ہوا کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور پوچھا رات کی نماز کس طرح ادا کی جائے گی؟ تو آپﷺ نے فرمایا دو دو رکعت پھر جب تمہیں طلوع فجر کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو وہ تمہاری پڑھی ہوئی سابقہ کو طاق بنا دے گی۔
(بخاری،حدیث نمبر 473)
اور صحابی رسولﷺ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ نے بھی ایک رکعت وتر پڑھا۔
(بخاری،حدیث نمبر6356)
اور نبیﷺ سے خود بھی ایک رکعت وتر پڑھنا ثابت ہے۔
جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ، نبیﷺ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے اور دو دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان گفتگو فرماتے تھے۔
(مصنف ابنِ ابی شیبہ،جلد 2،حدیث6871)
ان سب دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھنا بھی جائز ہے اور یہ نبیﷺ کی سنت ہے۔
اب ہم یہ بیان کریں گے کہ جب سیدنا ابنِ عباسؓ کے سامنے سیدنا امیر معاویہؓ کا عمل بیان کیا گیا تو انہوں نے کیا فرمایا؟
بخاری میں روایت ہے کہ:
سیدنا ابنِ عباسؓ سے کہا گیا سیدنا معاویہؓ کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے،انہوں نے فرمایا،بلاشبہ وہ خود فقیہ ہیں۔
(بخاری جلد 3 روایت نمبر 3765)
اور ایک مقام پر یہی روایت نقل ہوئی کہ:
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے ایک رکعت وتر پڑھے تو لوگوں نے ان کے اس عمل کو ناپسند کیا،اس بارے میں سیدنا ابنِ عباسؓ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا انہوں نے سنت پر عمل کیا۔
(مصنف ابنِ ابی شیبہ،جلد 2،روایت 6877)
امام ابنِ ابی شیبہ اس روایت کو اس باب میں لائے ہیں کہ جو حضرات ایک رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔
اب ایک آخری روایت پیش کرتے ہیں جس سے یہ سارا مسٸلہ ہی حل ہو جائے گا۔
روایت کچھ یوں ہے کہ:
سیدنا ابنِ عباسؓ کا آزاد کردہ غلام کریب کہتا ہے کہ میں نے سیدنا امیر معاویہؓ کو عشاء کی نماز پڑھتے دیکھا، پھر انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا، اس سے کچھ زائد نہیں کیا،میں نے سیدنا ابنِ عباسؓ کو خبر دی تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا اے میرے بیٹے انہوں نے درست کیا ہے، ہم میں سے کوئی سیدنا امیر معاویہؓ سے زیادہ علم والا نہیں ہے، وتر ایک، پانچ، سات یا اس سے بھی زائد ہو سکتے ہیں۔
(سنن الکبریٰ للبیہقی،جلد 3،روایت 4794)
(نوٹ:اوپر سکین میں اردو ترجمے میں اصاب ای بنی(یعنی انہوں نے درست کیا اے میرے بیٹے) کا ترجمہ نہیں لکھا ہوا)
ان سب دلائل سے واضح ہو گیا کہ مرزا جہلمی کذاب ایک جھوٹی روایت سنا کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایک رکعت وتر پڑھنا تو سنت سے ثابت ہے اور سیدنا امیر معاویہؓ کے اس عمل کے بارے میں تو سیدنا ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ یہ سنت کے مطابق عمل ہے اور سیدنا امیر معاویہؓ ہم میں سب سے بڑے عالم ہیں۔
مرزا جہلمی کو بھی چاہیئے کہ وہ یہ مان لے کہ اس کی بیان کردہ روایت ضعیف ہے اور سیدنا ابنِ عباسؓ نے ایسا کچھ نہیں کہا، بلکہ انہوں نے تو سیدنا امیر معاویہؓ کی تعریف کی۔
لیکن اگر پھر بھی وہ یہ نہ مانے تو باقی دلائل سے تو پتہ چل رہا ہے کہ یہ سنت ہے تو پھر گدھے کے الفاظ سیدنا ابنِ عباسؓ کی طرف لوٹ جائیں گے(معاذاللہ) کیونکہ اپنی وڈیو میں مرزا بڑی بھڑکیں مار رہا ہے کہ اگر اس کو ضعیف ثابت کریں گے تو طحاوی مر جائے گا(کیونکہ مرزا نے ان پر بھی جھوٹ باندھا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو صحیح کہا ہے جبکہ انہوں نے اس روایت کو صحیح کہا ہی نہیں) اور کہتا ہے کہ سیدنا ابنِ عباسؓ پر بھی فتویٰ لگاؤ رافضی ہونے گا۔
تو جناب ہم نے تو ثابت کر دیا کہ یہ عمل سنت ہے،اگر آپ لوگ اس روایت کو ضعیف نہیں مانتے جس میں گدھے کے الفاظ ہیں تو جناب پھر یہ الفاظ کہنے والے کی طرف لوٹ جائیں گے۔
اب مرزا صاحب کی مرضی ہے کہ اپنے آپ کو بچائیں یا سیدنا ابنِ عباسؓ کو۔
دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو حق سننے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس فتنہ سے سب لوگوں کو محفوظ فرمائے۔(آمین)