Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد صدیقی میں محکمہ قضاء

  علی محمد الصلابی

عہد صدیقی میں محکمہ قضاء:

عہد صدیقی خلفائے راشدینؓ کے دور کا آغاز ہے۔ اس حیثیت سے اس کی اہمیت نمایاں ہے، یہ دور عہد نبوی سے انتہائی قریب اور متصل ہے۔ خلفائے راشدینؓ کا دور بالعموم اور شعبہ قضاء خاص طور پر، عصر رسول اللہﷺ کے قضاء کا امتداد ہے۔ اس دور میں مکمل طریقہ سے قضاء کے سلسلہ میں جو کچھ عہد نبوی میں ثابت ہوا، اس پر محافظت کی گئی اور من و عن اس کو نصاً و معناً نافذ کیا گیا۔ قضاء کے سلسلہ میں خلفائے راشدینؓ کے دور کی اہمیت دو اساسی امور میں نمایاں ہوتی ہے۔

قضاء سے متعلق عہد نبویﷺ کے نصوص پر محافظت، اس کا نفاذ، اس کے مطابق عمل اور اس کا مکمل التزام۔

عدلیہ کے لیے جدید قوانین وضع کیے گئے تاکہ وسیع اسلامی سلطنت کی اساس مضبوط ہو اور نو آمدہ متنوع مسائل کا حل پیش کیا جا سکے۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام للزُّحیلی: صفحہ 83، 84)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خود فیصلے کرتے، آپؓ کے دور میں قضاء کو ولایت عامہ سے الگ نہیں کیا گیا، اور رسول اللہﷺ کے دور کی طرح قضاء کے لیے مستقل اور خاص ادارہ نہ تھا۔ کیونکہ لوگ دور نبوت سے قریب تھے، لوگ اسلام پر قائم تھے، ان کی زندگیاں شریعت کے مطابق گزر رہی تھیں، لڑائیاں جھگڑے شاذ و نادر ہوتے تھے۔ مدینہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروقؓ کو قضاء کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی تا کہ بعض قضاء یا میں آپ سے مدد لیں۔ لیکن قضاء میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تنہا نہ تھے۔

(وقائع ندوۃ النُّظم الاسلامیۃ: ابو ظبی جلد 1 صفحہ 366)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان تمام قاضیوں اور گورنروں کو باقی رکھا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کر رکھا تھا۔ وہ آپ کے عہد میں بھی اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔

(تاریخ القضاء فی الاسلام: صفحہ، 134)

عنقریب ہم گورنروں اور ان کے اعمال کا تذکرہ کریں گے۔ ان شاء اللہ

عہد صدیقی میں مصادر قضاء یہ تھے

1: قرآن

2: حدیث نبویﷺ

اس کے ضمن میں رسول اللہﷺ کے فیصلے داخل تھے۔

3: اجماع

 اہلِ علم و فتویٰ کے مشورہ کے سے۔

4: اجتہاد

اس کا سہارا اس وقت لیا جاتا تھا جب کتاب، سنت یا اجماع میں اس کا حکم نہ مل سکے۔

(وقائع ندوۃ النظم الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 390)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی قضیہ آپؓ کے سامنے آتا تو آپؓ اللہ کی کتاب میں تلاش کرتے، اگر اس میں مل جاتا اس کے مطابق فیصلہ کرتے، اگر کتاب اللہ میں اس کا حکم نظر نہ آتا تو حدیث رسول اللہﷺ میں تلاش کرتے، اگر مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کر دیتے، اگر کتاب و سنت میں نہ ملتا تو لوگوں سے سوال کرتے کہ کیا آپؓ لوگوں کو معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ کیا ہے؟ بسا اوقات لوگ آپؓ کو خبر دیتے کہ رسول اللہﷺ نے ایسے یا ایسا فیصلہ کیا ہے۔ پھر آپؓ رسول اللہﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دیتے اور اس وقت فرماتے الحمد للہ، ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو رسول اللہﷺ کے فیصلوں کو یاد رکھے ہوئے ہیں۔ اور اس میں کامیابی نہ ہوتی تو علماء اور بڑے لوگوں کو بلاتے، ان سے مشورہ کرتے اور جب وہ کسی رائے پر متفق ہوتے تو اس کے مطابق آپؓ فیصلہ صادر فرما دیتے۔

(موسوعۃ فقہ ابی بکر الصدیق: قلعجی: صفحہ، 155)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ارکان شوریٰ جب کسی فیصلہ پر متفق ہو جائیں تو اس کو لازمی سمجھتے تھے، حاکم کے لیے اس کی مخالفت جائز نہیں تھی، قضاء سے متعلق آپؓ سے یہی بیان کیا گیا ہے۔ جب اہلِ شوریٰ کسی امر پر متفق ہو جاتے تو آپؓ اس کو نافذ کرتے اور اسی بات کا حکم آپؓ نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو دیا تھا، جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ان کی مدد کے لیے بھیجا تھا لوگوں سے مشورہ لینا اور ان کی مخالفت نہ کرنا۔

(موسوعۃ ابی بکر الصدیق: قلعجی صفحہ، 156)

خبروں کو قبول کرنے میں تحقیق اور یقین کامل سے کام لیتے۔ چنانچہ قبیصہ بن ذویبؒ سے روایت ہے کہ نانی نواسے کی وراثت میں حصہ طلب کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: اللہ کی کتاب میں، میں تمہارے لیے کچھ نہیں پاتا ہوں اور نہ رسول اللہﷺ سے اس سلسلہ میں مجھے کچھ معلوم ہے۔

پھر آپؓ نے اس سلسلہ میں لوگوں سے دریافت کیا، تو سيدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا میں حاضر تھا اور رسول اللہﷺ نے سدس (چھٹا حصہ) نانی کو دیا ہے۔

حضرت ابوبکرؓ نے دریافت کیا 

کیا تمہارے ساتھ کوئی اور اس بات کا شاہد ہے؟

اس پر سيدنا ابن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کی شہادت دی، تو آپؓ نے اس خاتون کے لیے سدس نافذ کر دیا۔

(تذکرۃ الحفاظ للذہبی: جلد 1 صفحہ 2 اس کو ترمذی: صفحہ 2100، ابوداود: صفحہ، 2894 ابن ماجہ صفحہ، 2724 نے روایت کیا ہے۔ حاکم نے شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبیؒ نے اس پر موافقت کی ہے۔ لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے الارواء: جلد 6 صفحہ 124، 1470 میں ضعیف قرار دیا ہے) (مترجم)

آپؓ کی یہ رائے تھی کہ قاضی صرف اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ دوسرا گواہ ہو، جس سے اس کے علم کو قوت مل رہی ہو۔ آپؓ نے فرمایا اگر میں کسی کو دیکھوں کہ اس نے شرعی حد کا ارتکاب کیا ہے تو میں اس کو اس وقت تک سزا نہ دوں گا جب تک اس پر واضح دلیل قائم نہ ہو جائے یا یہ کہ میرے ساتھ دوسرا کوئی گواہ ہو۔

(تراث الخلافء الراشدین، د: صبحی محمصانی صفحہ 186)

یہاں قضاء سے متعلق عہد صدیقی میں صادر ہونے والے بعض فیصلوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔