گیارھویں فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی اوصاف - ردِ…

گیارھویں فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی اوصاف

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5
¹⁹ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے بارے میں رسول اللہﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو:’’ تم سے صرف مؤمن ہی محبت رکھے گا؛ اور تم سے صرف کافر اور منافق ہی بغض رکھے گا؟ کہنے لگے : اللہ کی قسم نہیں ۔
²⁰ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ  نے تم سب کے دروازے بند کرنے اور میرا دروازہ کھلا رکھنے کا حکم دیا تھا۔اور تم لوگ پھر اس میں باتیں کرنے لگے۔تو رسول اللہﷺ  نے فرمایا: میں نے نہ ہی تمہارے دروازے بند کیے ہیں اور نہ ہی اس کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دروازے بند کیے اور اس کا دروازہ کھلا چھوڑا ہے ؟ کہنے لگے : اللہ کی قسم نہیں ۔
²¹ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ  نے غزوۂ طائف میں باقی لوگوں کو چھوڑ کر دیر تک مجھ سے سرگوشی کی۔ یہاں تک کہ تم لوگ کہنے لگے:ہمیں چھوڑ کر اس سے سر گوشیاں کر رہا ہے ۔تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: صرف میں ہی اکیلا آپ سے سرگوشی نہیں کررہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ سے سرگوشی کی ہے؟کہنے لگے : اللہ کی قسم ! ہاں ہم جانتے ہیں ۔
²²ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم جانتے ہو کہ میرے متعلق رسول اللہﷺ  نے فرمایا تھا:’’ حق علی کے ساتھ ہے ؛ اور علی حق کے ساتھ ہے ؛ اور علی کے زوال کے ساتھ حق کو بھی زوال ہو گا؟کہنے لگے : ہاں اللہ کی قسم! ہم جانتے ہیں ۔
²³ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریمﷺ  نے میرے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : ’’ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ؛ وہ کتاب اللہ اور میرے اہلِ بیت کی عترت ؛یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر وارد ہو جائیں‘‘؟کہنے لگے :ہاں ! ہم جانتے ہیں ۔
²⁴ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس نے اپنی جان نثار کر کے رسول اللہﷺ کو مشرکین سے بچایا ہو؟ اور آپ کی جگہ پر لیٹ گیا ہو؟کہنے لگے : اللہ کی قسم نہیں ۔
²⁵ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جو عمر بن عبدود عامری کے مقابلہ کے لیے نکلا ہو جب اس نے مبارزت طلب کی تھی؟کہنے لگے : اللہ کی قسم نہیں ۔
²⁶ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے متعلق آیت تطہیر نازل ہوئی ہو ؟ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾’’ اے اہل بیت نبی اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرکے اچھی طرح پاک صاف بنا دے۔‘‘ کہنے لگے : اللہ کی قسم نہیں ۔
²⁷ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہو: ’’ تم مؤمنین کے سردار ہو؟کہنے لگے : اللہ کی قسم نہیں ۔
²⁸ـ  میں تمھیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہو: ’’میں نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز نہیں مانگی ‘مگر وہی چیز تمہارے لیے بھی مانگی ہے ؟کہنے لگے : اللہ کی قسم! نہیں ۔
ابوعمر زاہد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا حضرت علیؓ  میں چار اوصاف پائے جاتے ہیں جو کسی اور میں موجود نہیں :
¹۔ علیؓ اوّلین شخص ہیں جس نے نبی کریمﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔
²۔ یہ نبی کریمﷺ  کے علم بردار تھے۔
³۔ علیؓ وہ شخص ہے جس نے غزوۂ حنین میں نبی کریمﷺ کے ساتھ صبر کیا[اورثابت قدم رہے]۔
⁴۔ علیؓ  وہ شخص ہے جس نے نبی کریمﷺ کو غسل دیا اور قبر میں اتارا۔
سرور کائناتﷺ  سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:’’ شبِ معراج میرا گزر ایسی قوم پر ہوا جن کے جبڑے چھیلے جا رہے تھے۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون ہیں ؟ اس نے کہا:’’ یہ لوگوں کی غیبت کرنے والے افراد ہیں ‘ ‘۔ پھر میں ایسے لوگوں کے نزدیک سے گزرا جو چِلا رہے تھے۔ میں نے جبرئیل سے دریافت کیا یہ کون ہیں ؟ اس نے کہا ’’ یہ کافر ہیں ‘‘ پھر ہم دوسری راہ پر چل دیے۔ جب چوتھے آسمان پر پہنچے تو حضرت علیؓ  کو نماز پڑھتے دیکھا۔ میں نے جبرئیل سے دریافت کیا یہ کون ہے؟ کیا علیؓ ہم سے پہلے یہاں پہنچ گئے ؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ علیؓ نہیں ہے۔ میں نے کہا: تو پھر یہ کون ہے؟ بات یہ تھی کہ ملائکہ مقربین اور دوسرے ملائکہ نے جب سے حضرت علیؓ کے فضائل اور خصوصیات سنیں ؛ نیز ان کے متعلق آپ کی یہ حدیث سنی: ’’اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ إلا أنہ لا نبي بعدي‘ ‘ اس وقت سے حضرت علیؓ  کو دیکھنے کے مشتاق تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ  کا ہم شکل فرشتہ پیدا کر دیا۔اب جب کبھی انہیں حضرت علیؓ  کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے تو وہ اس جگہ پر آ جاتے ہیں ‘ گویا کہ وہ علیؓ  کو دیکھ لیتے ہیں ۔‘‘
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک دن فرمایا تھا:
’’ میں خود نوجوان، نوجوان کا بیٹا اور نوجوان(حضرت علی) کا بھائی ہوں ۔‘‘مؓیں نوجوان ہوں یعنی عرب کے نوجوان بہادروں میں سے ہوں ۔اور نوجوان کا بیٹا ہوں ‘ اس سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُہُمْ یُقَالُ لَہٗٓ اِبْرٰہِیْمُ﴾ [الأنبیاء 60]
’’بولے ہم نے ایک نوجوان کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا تھا جسے ابراہیم علیہ السلام کہا جاتا ہے ۔‘‘
اور نوجوان کے بھائی سے مراد علیؓ ہیں ۔مراد جبرئیل کا قول ہے ۔حضرت جبریل جنگِ بدر کے دن خوش و خرم آسمان کی جانب چڑھتے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:’’ لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوالْفَقَارِ وَ لَا فَتٰی اِلَّا عَلِیٌّ۔‘‘(تلوار ہے تو ذوالفقار اور نوجوان ہے تو علی)
صفحہ 2 از 5