گیارھویں فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی اوصاف - ردِ…

گیارھویں فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی اوصاف

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5
ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں :’’میں نے ابو ذرؓ کو کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے دیکھا وہ کہہ رہے تھے:’’ جو مجھے پہچاننا چاہتا ہو، وہ پہچان لے، میں ابو ذر ہوں ۔ اگر تم نماز و روزہ کی پابندی کرتے کرتے سوکھ جاؤ اور کانٹے کی طرح ہو جاؤ تو تمھیں اس وقت تک اس سے کچھ حاصل نہ ہو گا، جب تک علیؓ  سے محبت نہ کرو۔‘‘[شیعہ مصنف کے دلائل ختم ہوئے]

جواب

شیعہ کے دلائل پر تنقید و تبصرہ

شیعہ کے پیش کردہ دلائل کا جواب یہ ہے کہ:
¹ـ  شوری کے دن عامر بن واثلہ کا جو ذکر مصنف نے کیا ہے؛یہ روایت باتفاق محدثین کذب ہے۔[ذکر ابن الجوزِیِ قِسما مِن ہذا الحدِیثِ فِی الموضوعاتِ:1؍378، وقال: ہذا حدِیث موضوع لا أصل لہ، وانظر باقِی کلامِہِ، وقد ذکر کلاما مماثِلا السیوطِی فِی اللآلیِئِ المصنوعۃِ:1؍361۔] 
حضرت علیؓ نے شوری کے دن ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی؛ اور نہ ہی اس کے مشابہ کوئی بات کہی ۔ بلکہ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے کہا تھا:’’ اگر میں آپ کو امیر مقرر کر دوں تو کیا آپ انصاف کریں گے؟‘‘ حضرت علیؓ  نے کہا:’’ہاں‘‘ عبد الرحمنؓ نے پھر کہا:’’ اگر میں عثمانؓ کی بیعت کر لوں تو کیا آپ ان کی اطاعت کریں گے؟ حضرت علیؓ  نے کہا: ’’ہاں ۔‘‘حضرت عثمانؓ سے بھی یونہی کہا۔ پھر تین دن تک مسلمانوں سے مشورہ کرتے رہے۔[حضرت سعدؓ نے کہا کہ میں نے اپنا حق حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ  کو دیدیا۔ پھر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے حضرت علیؓ  اور حضرت عثمانؓ  سے کہا تم دونوں میں سے جو شخص اس سے برأت کا اظہار کرے گا ہم خلافت کا معاملہ اسی کے سپرد کریں گے اور اس پر اللہ اور اسلام کے حقوق کی نگہداشت لازم ہوگی ہر ایک کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے خیال میں کون شخص افضل ہے اسی کو خلیفہ کر دے۔ اس پر شیخین یعنی عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے سکوت اختیارکیا ۔
جب یہ حضرات چپ رہے تو عبدالرحمنؓ  نے کہا کیا تم دونوں خلیفہ کے انتخاب کا مسئلہ میرے حوالے کرتے ہو؟ بخدا مجھ پر لازم ہے کہ میں تم سے افضل کے ساتھ کوتاہی نہ کروں ۔ دونوں نے کہا یہ مسئلہ آپ کے حوالے کیا جاتاہے۔ عبدالرحمنؓ نے دونوں میں سے ایک یعنی حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ تم کو رسول اللہﷺ کی قرابت اور اسلام میں قدامت حاصل ہے، جو تم کو معلوم ہے خدا کے واسطے تم پر لازم ہے اگر میں تمہیں خلیفہ بنا دوں تو تم عدل وانصاف کرنا۔ اور اگر میں عثمانؓ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دوں تو اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ  کا ہاتھ پکڑا۔ اور ان سے بھی ایسا ہی کیا چنانچہ عبدالرحمنؓ  نے عہد لیا پھر کہا: اے عثمانؓ اپنا ہاتھ اٹھاؤ؛ پھر حضرت عبد الرحمنؓ  نے اور ان کے بعد علیؓ نے ان سے بیعت کی؛ پھر مدینہ والوں نے حاضر ہو کر حضرت عثمانؓ سے بیعت کی۔‘‘
[صحیح بخاری:ح914]
مسور بن مخرمہ سے روایت ہے: وہ لوگ جنہیں حضرت عمرؓ  نے خلافت کا اختیار دیا تھا جمع ہوئے اور مشورہ کیا۔ ان لوگوں سے حضرت عبدالرحمنؓ نے کہا کہ میں تم سے اس معاملہ میں جھگڑنے والا نہیں ہوں لیکن اگر تم چاہو تو تم ہی میں سے کسی کو تمہارے لیے منتخب کر دوں ۔ چنانچہ ان لوگوں نے یہ معاملہ حضرت عبدالرحمنؓ پر چھوڑ دیا ۔
’’لوگ عبدالرحمنؓ  کے پیچھے ہوئے ؛یہاں تک کہ ان بقیہ لوگوں میں سے کسی کے پاس ایک آدمی بھی نظر نہیں آتا تھا۔حضرت عبدالرحمنؓ لوگوں سے ان راتوں میں مشورہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ رات آئی جس کی صبح میں ہم لوگوں نے حضرت عثمانؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔
مسور کا بیان ہے کہ تھوڑی رات گزر جانے کے بعد عبدالرحمنؓ  نے میرا دروازہ اس زور سے کھٹکھٹایا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے کہا کہ: میں تمہیں سوتا ہوا دیکھتا ہوں حالانکہ اللہ کی قسم! ان راتوں میں میری آنکھ بھی نہیں لگی۔ تم چلو اور زبیرؓ  اور سعدؓ کو میرے پاس بلاؤ۔ میں ان دونوں کو بلا لایا۔ ان سے آپ نے مشورہ کیا۔ پھر مجھے بھی بلا لیا۔ پھر مجھ سے کہا: جاؤ اورعلیؓ کو بلا لاؤ۔میں ان کو بلا لایا ۔ ان سے بہت رات گئے تک سرگوشی کرتے رہے، پھر حضرت علیؓ ان کے پاس سے اٹھے تو ان کے دل میں خلافت کی خواہش تھی اور حضرت عبدالرحمنؓ  کو ان کی خلافت سے اختلاف امت کا اندیشہ تھا۔ پھر] صحیحین میں ہے ۔ یہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں ۔حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے‘ وہ حضرت عمرؓ کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ ان کے دفن کیے جانے کے بعد وہ لوگ جو حضرت عمرؓ  کی نظر میں خلافت کے مستحق تھے جمع ہوئے، حضرت عبدالرحمنؓ نے کہا کہ اس معاملہ کو صرف تین شخصوں پر چھوڑ دو۔ جس پر زبیر بن عوامؓ نے کہا کہ: میں نے اپنا حق حضرت علیؓ  کے سپرد کیا۔
حضرت طلحہؓ نے کہا کہ: میں نے اپنا حق حضرت عثمانؓ کو سونپ دیا ۔
حضرت عبدالرحمنؓ نے کہا: حضرت عثمانؓ کو بلا لاؤ۔میں ان کو بھی بلا لایا۔ تو ان سے سرگوشی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ صبح کی اذان نے ان کو جدا کیا۔ جب لوگوں نے صبح کی نماز پڑھی؛تو یہ لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے۔مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ موجود تھے؛ ان کو بلا بھیجا۔ اور سرداران لشکر کو بلا بھیجا۔ یہ سب لوگ اس سال حج میں حضرت عمرؓ کیساتھ شریک ہوئے تھے۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت عبدالرحمنؓ  نے خطبہ پڑھا پھر کہا کہ:
اما بعد! اے علیؓ !میں نے لوگوں کی حالت پر نظر کی ہے تو دیکھا کہ وہ عثمانؓ  کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں ۔ اس لیے تم اپنے دل میں میری طرف سے کچھ خیال نہ کرنا۔ توحضرت علیؓ نے(حضرت عثمانؓ سے) کہا:’’ میں اللہ اور اس کے رسول اور آپ کے دونوں خلفاء کی سنت پر تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں ۔ عبدالرحمنؓ  نے بھی بیعت کی اور تمام لوگوں نے مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور مسلمانوں نے بیعت کی۔‘‘[صحیح بخاری: 2086]
اس رافضی نے جو روایت ذکر کی ہے‘ اس میں اتنے جھوٹ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ حضرت علیؓ  کو پاک و مبرا رکھا ہے۔ مثال کے طور پر اپنے بھائی‘ اپنے چچا اور بیوی کو بطور حجت کے پیش کرنا۔ حالانکہ حضرت علیؓ ان لوگوں سے افضل ہیں ۔اور آپ یہ بھی جانتے تھے کہ مخلوق میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہوگا جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو گا۔
صفحہ 3 از 5