گیارھویں فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی اوصاف - ردِ…

گیارھویں فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی اوصاف

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5
اس کے بجائے اگر حضرت عباسؓ کہتے : کیا تم میں میرے بھائی حمزہ جیسا کوئی ہے ؛ اور کیا تم میں میرے بھتیجوں محمد علی اور جعفر جیسا کوئی ہے ؟ تو یہ دلیل بھی بالکل ویسے ہی ہوتی ۔ بلکہ کسی انسان کا اپنے بھتیجوں کو بطور حجت پیش کرنا اس کے چچاؤں کو بطور حجت پیش کرنے سے زیادہ بہتر اور اہم ہوتا ہے۔اور اگر اس موقع پر حضرت عثمانؓ  یہ کہتے کہ : کیا تم میں کوئی اور ہے جس نے نبی کریمﷺ  کی دو بیٹیوں سے شادی کی ہو؟ تو یہ حجت بھی اسی حجت کی طرح ہوتی کہ : تم میں سے کسی کی بیوی میری بیوی کی طرح ہے ؟ حضرت فاطمہؓ  کا انتقال بھی شوری سے پہلے ہی ہوچکا تھا جیسے حضرت عثمانؓ کی بیویوں رقیہ اور ام کلثومؓ کا انتقال شوری سے پہلے ہوگیاتھا۔البتہ حضرت فاطمہؓ  کا انتقال نبی کریمﷺ  کی وفات کے چھ ماہ بعد ہوا تھا۔
یہی حال اس دعویٰ کا ہے : ’’ کیا تم میں کسی کے بیٹے میرے بیٹوں جیسے ہیں ۔‘‘اس میں متعدد روایات ہیں ۔اور جیسا کہ یہ قول: میں نے اللہ تعالیٰ سے کبھی کوئی چیز نہیں مانگی مگر اس جیسی چیز تمہارے لیے بھی مانگی ہے ۔ اور یہی حال اس روایت کا بھی ہے کہ میرے علاوہ حضرت علیؓ  ہی یہ سورت پہنچا سکتے ہیں ۔‘‘
یہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے ۔
علامہ خطابی نے اپنی کتاب ’’ شعار الدین ‘‘ میں لکھا ہے : ’’ آپ کی طرف منسوب یہ فرمان : میری طرف سے یہ سورت میرے اہلِ بیت میں سے ہی کوئی ایک پہنچا سکتا ہے ۔‘‘یہ ایک ایسی چیز ہے جسے اہلِ کوفہ نے زید بن یثَیع سے لیا ہے ۔ اس راوی پر رافضی ہونے کی تہمت ہے ۔ اس لیے کہ عام طور پر جو قرآن رسول اللہﷺ  سے لوگوں تک پہنچا ہے وہ اہلِ بیت کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ذریعہ سے پہنچا ہے۔ رسول اللہﷺ  نے اسعد بن زرارہؓ کو مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجا۔آپ انصار کو قرآن کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ اور انہیں دین کے مسائل سمجھاتے۔آپ نے حضرت علاء بن الحضرمیؓ کو بحرین میں بھیجا؛ آپ بھی وہاں یہی فرائض سر انجام دیتے تھے۔ اور معاذ بن جبلؓ اور ابو موسی اشعریؓ کو یمن بھیجا ۔ عتاب بن اسید امویؓ  کو مکہ مکرمہ پر گورنر بنایا۔تو پھر یہ قول کہاں گیا کہ : میری طرف سے یہ پیغام میرے اہلِ بیت میں سے ہی کوئی پہنچا سکتا ہے ؟
حضرت ابن عباسؓ  کی روایت بھی باطل ہے؛ اس میں کئی ایک جھوٹ ہیں ۔مثلاً یہ کہنا کہ ہر جنگ میں رسول اللہﷺ  کا جھنڈا صرف حضرت علیؓ  کے پاس ہوا کرتا تھا ۔‘‘ اس لیے کہ غزوۂ احد میں نبی کریمﷺ کے علم بردار بالاتفاق مصعب بن عمیرؓ تھے۔[البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ  ۔ باب قصۃ البیعۃ والاتفاق علی عثمان بن عفانؓ ( ح:3700)] اس پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔ اور فتح مکہ کے دن علم رسول اللہﷺ  حضرت زبیرؓ  کے پاس تھا۔[سیرۃ ابن ہشام(صفحہ379،383)، طبقات ابن سعد(3؍86)]رسول اللہﷺ  نے انہیں حکم دیا تھا کہ حجون میں جا کر جھنڈا گاڑ دیں ۔ حضرت عباسؓ  نے حضرت زبیرؓ  سے پوچھا تھا: کیا آپ کو رسول اللہﷺ  نے اس جگہ پر جھنڈا گاڑنے کا حکم دیا تھا ۔‘‘[الحدِیث عن نافِعِ بنِ جبیر وہو تابِعِی فِی البخارِیِ:4؍53، کتاب الجِہادِ والسِیرِ، باب ما قِیل فِی لِوائِ النبِیِﷺ ، ونصہ: قال: سمِعت العباس یقول لِلزبیرِؓ : أہہنا أمر النبِیﷺ أن ترِکز الرایۃ؟] یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے ۔ 
ایسے ہی رافضی مصنف کا دعویٰ کہ : ’’ غزوۂ حنین کے موقع پر آپ ہی ثابت قدم رہے ۔‘‘
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ غزوۂ حنین میں نبیﷺ  کے قریب تر آپ کے چچا حضرت عباسؓ اور ابوسفیان بن حارثؓ تھے۔ حضرت عباسؓ آپ کی خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے؛ جبکہ ابو سفیانؓ  نے سواری کی رکاب پکڑی ہوئی تھی ۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب این رکز النبیﷺ الرایۃ یوم الفتح، (حدیث:4280)مطولاً فِی مسلِم:3؍1398، ِکتاب الجِہادِ والسِیرِ، باب فِی غزوۃِ حنین، المسند ط۔المعارِفِ:3؍208، وذکر الشیخ حمد شاِکر رحِمہ اللہ فِی تعلِیقِہِ: والحدِیث رواہ مسلِم:3؍10 مِن طرِیقِ یونس عنِ الزہرِیِ، ومِن طرِیقِ عبدِ الرزاقِ عن معمر عنِ الزہرِیِ وکذلِک رواہ الحاِکم فِی المستدرکِ:3؍327، وزعم أن الشیخینِ لم یخرِجاہ، واستدرک علیہِ الذہبِی بإِِخراجِ مسلِم إِیاہ۔]
اس موقع پر نبی کریمﷺ نے حضرت عباسؓ سے کہا تھا: اصحابِ سمرہ کو آواز دو۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے اونچی آواز میں چیخ کر پکارا : اے اصحابِ سمرہ تم کہاں ہو؟
حضرت عباسؓ کہتے ہیں : اللہ کی قسم جس وقت انہوں نے یہ آواز سنی تو وہ اس طرح پلٹے جس طرح کہ گائے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے۔وہ لوگ یا لبیک یا لبیک کہتے ہوئے آئے اور انہوں نے کافروں سے جنگ شروع کر دی۔اس وقت نبی کریمﷺ  فرما رہے تھے :
((أنا نبی لا کذب أنا ابن عبد المطلب۔)) [البخاری، کتاب الجہاد، باب من قاد دابۃ غیرہ فی الحرب (ح 2864)مسلم۔باب غزوۃ حنین،(ح:1775)] اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے۔وہ لوگ یا لبیک یا لبیک کہتے ہوئے آئے اور انہوں نے کافروں سے جنگ شروع کر دی۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے :
((أنا نبی لا کذب أنا ابن عبد المطلب۔)) [1]
’’ میں اللہ کا سچا نبی ہوں ‘ اس میں کوئی جھوٹ نہیں ۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘
پھر رسول اللہﷺ نے اپنے خچر سے اتر کر چند کنکریاں اٹھائیں اور انہیں کافروں کے چہروں کی طرف پھینکا پھر فرمایا:’’ محمد کے رب کی قسم یہ شکست کھا گئے ۔‘‘حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ:’’ میں دیکھ رہا تھا کہ جنگ بڑی تیزی کے ساتھ جاری تھی کہ اچانک آپﷺ نے کنکریاں پھینکیں ۔ اللہ کی قسم میں نے دیکھا کہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پشت پھیر کر بھاگنے لگے؛ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دے دی۔‘‘
صحیحین کی روایت میں ہے ؛ اوریہ الفاظ بخاری شریف کے ہیں کہ حضرت عباسؓ فرماتے ہیں :
صفحہ 4 از 5