Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

والد کا نفقہ اولاد کے ذمہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا قیس بن ابی حازمؓ سے روایت ہے، میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ایک شخص نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! یہ میرا پورا مال لینا چاہتے ہیں اور ان کو اس کی ضرورت ہے۔

تو سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا: تم اس کے مال میں سے ضرورت بھر کا لے لو۔

اس شخص نے کہا: اے خلیفہ رسول! کیا رسول اللہﷺ نے نہیں فرمایا ہے تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ جسے پسند کرے تم بھی پسند کرو۔

دوسروں نے حضرت منذر بن زیادؓ سے روایت کی ہے اور اس میں ہے کہ اس سے مقصود نفقہ ہے۔

(السنن الکبری: جلد 7 صفحہ 481 بحوالہ تاریخ القضاء للزحیلی: صفحہ 136 البانی رحمہ اللہ نے اس کو بے حد ضعیف قرار دیا ہے، بعید نہیں کہ موضوع ہو۔ الارواء: جلد 3 صفحہ 329)