سیدنا قیس بن ابی حازمؓ سے روایت ہے، میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ایک شخص نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! یہ میرا پورا مال لینا چاہتے ہیں اور ان کو اس کی ضرورت ہے۔
تو سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا: تم اس کے مال میں سے ضرورت بھر کا لے لو۔
اس شخص نے کہا: اے خلیفہ رسول! کیا رسول اللہﷺ نے نہیں فرمایا ہے تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ جسے پسند کرے تم بھی پسند کرو۔
دوسروں نے حضرت منذر بن زیادؓ سے روایت کی ہے اور اس میں ہے کہ اس سے مقصود نفقہ ہے۔
(السنن الکبری: جلد 7 صفحہ 481 بحوالہ تاریخ القضاء للزحیلی: صفحہ 136 البانی رحمہ اللہ نے اس کو بے حد ضعیف قرار دیا ہے، بعید نہیں کہ موضوع ہو۔ الارواء: جلد 3 صفحہ 329)