Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نبی کریم ﷺ کے خون مبارک کو پینے والی حدیث کو غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کا ضعیف کہنے پر تعاقب(تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

✳️صحابی رسول ﷺ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نبی کریم ﷺ کے خون مبارک کو پینے والی حدیث کو غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کا ضعیف کہنے پر تعاقب✳️

یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے ہے کہ آپ علیہ السلام کا خون مبارک بھی پاک تھا اور بول مبارک بھی پاک تھا اور صحیح و حسن احادیث و آثار سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دونوں کو پینا بھی ثابت ہے .

جیسا کہ شیخ الاسلام والمسلمین امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

وَقَدْ تَكَاثَرَتِ الْأَدِلَّةُ عَلَى طَهَارَةِ فَضَلَاتِهِ وَعَدَّ الْأَئِمَّةُ ذَلِكَ فِي خَصَائِصِهِ فَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى مَا وَقَعَ فِي كُتُبِ كَثِيرٍ مِنَ الشَّافِعِيَّةِ مِمَّا يُخَالِفُ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَقَرَّ الْأَمْرُ بَيْنَ أَئِمَّتُهُمْ عَلَى الْقَوْلِ بِالطَّهَارَةِ

بے شک بڑی کثرت سے دلیلیں قائم ہیں حضور ﷺ کے فضلات شریفہ کے طاہر ہونے پر اور آئمہ نے اس کو حضور ﷺ کے خصائص سے شمار کیا ہے لہٰذا اکثر شافعیہ کی کتابوں میں جو اس کے خلاف واقع ہوا ہے قطعاً قابل التفات نہیں اس لئے کہ ان آئمہ کے درمیان پختہ اور مضبوط قول طہارت فضلات شریفہ ہی کا ہے۔

( كتاب فتح الباري لابن حجر 1/272 )

آج ہم اپنی اس تحریر میں غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کے شمارہ ماہنامہ السنہ نمبر 30 میں کی گئی ایک روایت پر تحقیق کا تعاقب کریں گے .

جس روایت میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نبی کریم ﷺ کا خون مبارک پینا ثابت ہے .

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

امام ابو بکر احمد بن الحسین البیھقی م458ھ رحمہ اللہ نے فرمایا :

أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان، أنبأ أحمد بن عبدان، نا محمد بن غالب، نا موسى بن إسماعيل أبو سلمة، ثنا هنيد بن القاسم قال: سمعت عامر بن عبد الله بن الزبير، يحدث عن أبيه قال: احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وأعطاني دمه، وقال: " اذهب فواره لا يبحث عنه سبع أو كلب أو إنسان " قال: فتنحيت عنه فشربته، ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " ما صنعت؟ " قلت: صنعت الذي أمرتني قال: " ما أراك إلا قد شربته " قلت: نعم قال: " ماذا تلقى أمتي منك "

ترجمہ :- عامر بن عبداللہ اپنے والد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے سنگی لگوائی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس خون کو ایسی جگہ چھپا دوں جہاں سے درندے کتے ( وغیرہ ) یا کوئی انسان نہ پاسکے ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نبی کریم ﷺ سے دور چلا گیا اور دور جاکر اس خون کو پی لیا پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا تم نے خون کا کیا کیا ؟؟ عبداللہ بن زبیر نے عرض کی میں نے ویسے ہی کیا جیسا آپ نے حکم دیا آپ ﷺ نے فرمایا میرے خیال میں تم نے اسے پی لیا عبداللہ بن زبیر نے عرض کی جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہیں جو ملا وہ میری امت میں سے کسی کو نہیں ملا .

( كتاب السنن الكبرى - البيهقي - ط العلمية 7/106 )

*درج ذیل کتب میں بھی یہ روایت باسند موجود ہے :*

( كتاب الأحاديث المختارة 9/308 )

امام ضیاء الدین مقدسی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی تصحیح کی .

( كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية 3/638 )

امام حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کی تصحیح کی .

( كتاب مسند البزار = البحر الزخار 6/169 )

( كتاب معرفة الصحابة لأبي نعيم 3/1652 )

( كتاب الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم 1/414 )

ہمارے نزدیک یہ حدیث حسن ہے اور سنن الکبریٰ للبیھقی کی سند حسن لذاتہ ہے جیسا کہ ہم ابھی ثابت کریں گے نیز یہ کہ امام ابو العباس بوصیری م840ھ رحمہ اللہ نے بھی اس سند کو حسن قرار دیا .

( كتاب إتحاف الخيرة 4/434 )

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سند کے رجال کا مختصر تعارف!!*

❶ أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان

امام جرح و تعدیل حافظ شمس الدین ذہبی م748ھ رحمہ اللہ ان کی توثیق فرماتے ہیں :

الشيخ المحدث الصدوق ، أبو الحسن ، علي بن الحافظ أحمد بن عبدان بن الفرج بن سعيد بن عبدان ، الشيرازي ثم الأهوازي . ثقة مشهور ، عالي الإسناد .

( سير أعلام النبلاء 17/398 )

❷ أحمد بن عبدان

امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ انکی توثیق فرماتے ہیں :

الإمام الحافظ ، المعمر الثقة أبو بكر ، أحمد بن عبدان بن محمد بن الفرج الشيرازي ، شيخ الأهواز ، ومسند الوقت .

( سير أعلام النبلاء 16/489 )

❸ محمد بن غالب

امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری م405ھ رحمہ اللہ نے انہیں " ثقة مأمون" قرار دیا ۔

( سؤالات السجزي :- 113 )

امام خطیب بغدادی م463ھ رحمہ اللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں :

كان كثير الحديث صدوقا حافظا

( تاريخ بغداد 3/144 )

امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ ان کی توثیق فرماتے ہیں :

الإمام ، المحدث ، الحافظ ، المتقن أبو جعفر ، محمد بن غالب ابن حرب ، الضبي البصري ، التمار التمتام ، نزيل بغداد

پھر امام ابو الحسن دارقطنی م385ھ رحمہ اللہ سے انکی توثیق نقل کرتے ہیں :

قال الدارقطني : ثقة مأمون ...

( سير أعلام النبلاء 13/391 )

❹ موسى بن إسماعيل أبو سلمة

شیخ الاسلام والمسلمین حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ انکی توثیق فرماتے ہیں :

موسى ابن إسماعيل المنقري بكسر الميم وسكون النون وفتح القاف أبو سلمة التبوذكي ... ثقة ثبت

( تقریب التھذیب :- 6943 )

امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ انکی توثیق فرماتے ہیں :

الحافظ الإمام الحجة ، شيخ الإسلام أبو سلمة موسى بن إسماعيل المنقري مولاهم البصري التبوذكي .

( سير أعلام النبلاء 10/361 )

❺ الهنيد بن القاسم البصري

یہ وہ راوی ہے جس کو ظہیر امن پوری صاحب نے مجہول قرار دے کر حدیث کو ضعیف کہا اور موصوف کا یہ دعوی ہے کہ متقدمین آئمہ میں سے کسی نے اس راوی کی توثیق نہیں کی نیز موصوف نے امام نور الدین ہیثمی کی توثیق اور شیخ الاسلام والمسلمین حافظ ابن حجر عسقلانی کی تعدیل کو بھی یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ صحیح نہیں موصوف کے ماہنامہ السنہ کا اسکین تحریر کے ساتھ اٹیچ کردیا جائے گا .

  *الجواب بعون الملك الوهاب*

الهنيد بن القاسم البصري صدوق حسن الحدیث راوی ہے اس کی آئمہ متقدمین نے بھی توثیق کی ہے اور متاخرین نے بھی ملاحظہ ہو :

❶ امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے اس راوی سے مستدرک علی الصحیحین میں یہی روایت لی ۔

( كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم - ط العلمية 3/638 )

یہ ہے متقدم امام سے اس راوی کی توثیق ضمنی۔

❷ امام ضیاء الدین مقدسی رحمہ اللہ نے اس راوی سے الأحاديث المختارة میں یہی روایت لی اور خود امن پوری صاحب نے حوالہ درج کرکے لکھا کہ امام مقدسی نے اس روایت کی تصحیح کی۔

( كتاب الأحاديث المختارة 9/308 )

یہ ہے متقدم امام سے اس راوی کی توثیق ضمنی۔

*توثیق ضمنی کیا ہے ؟؟ اور کیسے پہچانی جاتی ہے ؟؟*

التوثيق الضمني وهو تصحيح أو تحسين حديث الرجل

ظہیر امن پوری صاحب کو تو یہ بتانے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس کو بخوبی جانتے ہیں مگر کچھ وہ لوگ جو اس اصطلاح سے بے خبر ہیں ان کے لیے یہ تفصیل ہے۔

کسی ناقد امام کا کسی راوی کی بیان کردہ غریب روایت جس کا کوئی متابع نہ ہو اس کی تصحیح یا تحسین کرنا اس سند میں موجود تمام رواۃ کی تعدیل و توثیق ہوتی ہے اس قسم کی توثیق کو توثیق ضمنی کہتے ہیں۔

اسی طرح اس کے اور بھی کچھ طریقہ ہیں مثلاً کسی ایسے امام کا اس راوی سے اپنی کتاب میں روایت درج کرنا جس نے اپنی کتاب میں صحت کی شرط لگائی ہو جیسے صحیح بخاری ٬ صحیح مسلم ٬ صحیح ابن خزیمہ ٬ صحیح ابن حبان ٬ مستدرک للحاکم ٬ الاحادیث المختارۃ وغیرہ تو یہ بھی اس راوی کی توثیق ضمنی کہلائے گی .

لہذا امام حاکم اور امام مقدسی رحمہما اللہ نے اپنی کتب میں صحیح حدیث لانے کی شرط لگائی ہے اور انہوں نے ھنید بن قاسم سے روایت لی ہے یہ اس کی توثیق ضمنی ہے اور یہ دونوں امام متقدمین میں سے ہیں۔

امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ توثیق ضمنی کا ذکر اپنی اصول حدیث کی مایہ ناز کتاب میں فرماتے ہیں :

الثقة: مَن وثَّقَه كثيرٌ، ولم يُضعَّف ودُونَه: مَن لم يُوَثَّق ولا ضُعِّف فإن خُرِّج حديثُ هذا في "الصحيحين"، فهو مُوَثَّق بذلك وإن صَحَّح له مثلُ الترمذيِّ وابنِ خزيمة، فجيِّدٌ أيضاً وإن صَحَّحَ له كالدارقطنيِّ والحاكم، فأقلُّ أحوالهِ: حُسْنُ حديثه.

ثقہ وہ ہے جسکو (محدثین) کی اکثریت ثقہ قرار دے اور اسکی تضعیف نہ کی گئی ہو اور اس سے نچلے طبقہ میں وہ ہے جس کی نہ توثیق کی گئی اور نہ تضعیف پس اگر ایسے (راوی) کی حدیث صحیحین میں مروی ہو تو اس وجہ سے اسکی توثیق ہوگی اور اگر اسکی حدیث کی اگر امام ترمذی اور امام ابن خزیمہ جیسے محدثین تصحیح کریں تو وہ (ضمنی توثیق) بھی اسی طرح جید ہوگی (جیسا کہ صریح توثیق) اور اگر امام دارقطنی یا امام حاکم جیسے اس (راوی) کی حدیث کی تصحیح کریں تو اس کا کم سے کم حال یہ ہوگا کہ وہ حسن الحدیث پر رہے گا ۔

[ الموقظة في علم مصطلح الحديث ص78 ]

لہذا ھنید بن قاسم کی منفرد سند کی تصحیح امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمائی ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ کے بقول یہ راوی کم از کم حسن الحدیث ٹھرتا ہے ۔

امام ابوالحسن ابن قطان الفاسی م628ھ رحمه الله بھی توثیق ضمنی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

وَفِي تَصْحِيح التِّرْمِذِيّ إِيَّاه توثيقها وتوثيق سعد بن إِسْحَاق، وَلَا يضر الثِّقَة أَن لَا يروي عَنهُ إِلَّا وَاحِد، وَالله أعلم.

اور ترمذی کی طرف سے اس حدیث کی تصحیح میں اُس کی اور سعد بن اسحاق کی توثیق ہے، اور ثقہ راوی کو یہ بات مضر نہیں کہ اس سے صرف ایک شخص ہی روایت کرے، واللہ اعلم

( بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام 5/395 )

امام ابن قطان الفاسی رحمہ اللہ کے کلام سے بھی یہ واضح ہوا کہ کسی محدث کا کسی راوی کی منفرد روایت کی تصحیح کرنا اس راوی کی توثیق ہوتی ۔

لہذا امام حاکم و ضیاء مقدسی رحمهما الله سے ھنید بن قاسم کی توثیق ثابت ہوئی کیونکہ دونوں نے اسکی منفرد حدیث کی تصحیح کی ہے ۔

❸ امام ابو العباس البوصیری رحمہ اللہ نے بھی اس راوی کی توثیق ضمنی کی اس کی بیان کردہ اسی روایت کی سند کو حسن قرار دے کر۔

( كتاب إتحاف الخيرة 4/434 )

❹ امام ابو حاتم بن حبان رحمہ اللہ نے اس راوی کی صریح توثیق کی اپنی کتاب الثقات میں درج کرکے۔

( كتاب الثقات :- 4413 )

*نوٹ:-* متقدمین آئمہ میں سے امام ابن حبان کا اس کی توثیق میں تفرد نہیں ہے۔

❺ امام نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ نے اس راوی کی صریح توثیق کی چنانچہ زیر بحث روایت کو مجمع الزوائد میں نقل کرکے فرماتے ہیں .

رواه الطبراني والبزار باختصار ورجال البزار رجال الصحيح غير ھنيد بن القاسم وهو ثقة.

اس روایت کو امام طبرانی اور امام بزار نے بیان کیا اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ھنید بن قاسم کے علاوہ اور یہ راوی بھی ثقہ ہے .

( كتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 8/270 )

❻ شیخ الاسلام والمسلمین حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی ھنید بن قاسم کی تعدیل فرمائی چنانچہ اسی حدیث کو نقل کرکے فرماتے ہیں .

ورواه الطبراني في الكبير والبيهقي في الخصائص من السنن وفي إسناده الهنيد بن القاسم ولا بأس به ...

اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم الکبیر میں اور بیہقی نے سنن الکبریٰ میں روایت کیا اس کی سند میں ھنید بن قاسم ہے اس سے حدیث بیان کرنے میں کوئی قباحت نہیں .

( كتاب التلخيص الحبير - ط العلمية 1/169 )

*نوٹ :-* ( " لَا بَأْسَ بِه " ) یہ الفاظ صدوق درجہ کے راویان پر بولے جاتے ہیں اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی ان الفاظ کو اور صدوق کے الفاظ کو ایک ہی طبقے میں رکھا ہے اور حافظ کے نزدیک صدوق کی منفرد روایت حسن لذاتہ ہوتی ہے .

اس مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کہ ھنید بن قاسم بن عبدالرحمن کم ازکم صدوق حسن الحدیث راوی ہے اور غلام مصطفی ظہیر امن پوری صاحب نے جو امامین کی توثیق کو جس وجہ سے غیر صحیح قرار دیا تھا ہم نے اس کا بھی جواب دے دیا الحمدللہ .

❻ عامر بن عبد الله بن الزبير

حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ انکی بارے میں فرماتے ہیں :

ابن عبد الله بن الزبير بن العوام ، الإمام الرباني أبو الحارث الأسدي المدني ، أحد العباد .... قلت : مجمع على ثقته

عامر بن عبداللہ بن زبیر بن عوام امام ربانی ابوحارث اسدی المدنی بہت بڑے عبادت گزار پھر آخر میں فرماتے ہیں میں کہتا ہوں ان کے ثقہ ہونے پر اجماع ہے .

( سير أعلام النبلاء 5/220 )

❼ عبد الله بن الزبير بن العوام

متفقہ علیہ صحابی ابن صحابی اور صحابہ سارے روایت حدیث میں عادل ہیں یہ اہلسنت کا اجماعی عقیدہ ہے لہذا ان کی توثیق کی ضرورت نہیں ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*اس حدیث کی مکمل اور تفصیلی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث حسن ہے لہذا غلام مصطفی ظہیر امن پوری صاحب کا اس حدیث کو ضعیف قرار دینا درست نہیں*

هذا ما عندي والعلم عندالله

فقط والله و رسوله اعلم باالصواب

خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی

مؤرخہ 23 محرم الحرام 1444ھ