Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اعتراض:حضرت امیر معاویہؓ کا جہنم میں آگ کے تابوت میں ہونا (معاذاللہ)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

اعتراض:حضرت امیر معاویہؓ کا جہنم میں آگ کے تابوت میں ہونا (معاذاللہ) 

 الجواب اہلسنت 

یہ روایت متعدد کتب میں ذکر ہوئی ہے، کتاب أنساب الاشراف میں بلاذری نے خلف ابن ہشام سے اور اس نے ابو عوانہ سے اور اس نے اعمش سے اور اس نے سالم ابن ابی جعد سے نقل کیا ہے کہ:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: مُعَاوِیةُ فِی تَابُوتٍ مُقْفَلٍ عَلَیهِ فِی جَهَنَّمَ،

رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: معاویہ جہنم میں تالا شدہ تابوت میں بند ہے۔

جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری (المتوفی: 279 هـ)، جلد 5، صفحہ 128، حاشیہ370

متعدد روایات میں ذکر ہوا ہے کہ معاویہ جہنم کے سب سے نیچے والے درجے پر ہے اور وہ فقط ایک درجہ فرعون سے اوپر ہے، اسلیے کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا اور معاویہ نے باقی تمام دعوے کیے تھے لیکن خدا ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا۔

اہل سنت کے بزرگ مؤرخ طبری نے بھی لکھا ہے کہ:

إن معاویة فی تابوت من نار فی أسفل درک،

معاویہ آگ کے تابوت میں جہنم کے سب سے نیچے والے درجے میں ہے۔

تاریخ الطبری، اسم المؤلف: لأبی جعفر محمد بن جریر الطبری، ج 5، ص 622، باب ذکر الخبر عما کان فی‌ها من الأحداث الجلیلة

علی ابن جعد کہ جو ثقہ ہے، اس نے لکھا ہے کہ:

ما ضرنی أن یعذب الله معاویة ، 

مجھے کسی قسم کا کوئی ضرر نہیں ہے کہ میں قائل ہوں کہ خداوند معاویہ کو عذاب کرنے والا ہے۔

سؤالات أبی عبید الآجری أبا داود السجستانی، سلیمان بن الأشعث أبو داود السجستانی، مکان النشر المدینة المنورة، ج 1، ص 254، ش 338

امام أحمد بن يحيى، البَلَاذُري (المتوفى 279)نے کہا:

حدثني خلف بن هشام البزار حدثنا أبو عوانة عن الأعمش عن سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُعَاوِيَةُ فِي تَابُوتٍ مُقْفَلٍ عَلَيْهِ فِي جَهَنَّمَ .[أنساب الأشراف للبلاذري: 5/ 128]

یہ روایت ضعیف ہے۔

سالم بن ابی الجعد صحابی نہیں ہیں اس لئے روایت مرسل ہے۔ نیز سلیمان بن مہران کا عنعنہ بھی ہے اور یہ مدلس ہیں ۔ لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔