Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت اور اسلام کی نشر و اشاعت

  علی محمد الصلابی

یہ گورنر رسول اللہﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مسجدوں میں بیٹھتے اور لوگوں کو قرآن اور احکام شریعت کی تعلیم دیتے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں یہ ذمہ داری سب سے اہم اور بڑی ذمہ داری تھی اور سیدنا ابوبکرؓ کے گورنروں سے متعلق یہ بات مشہور تھی۔ چنانچہ ایک مؤرخ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گورنر زیاد کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ زیاد گورنر بنائے جانے کے بعد صبح لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینے بیٹھے جیسا کہ پہلے کیا کرتے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 40)

اس تعلیم کے ذریعہ سے گورنروں نے اسلام کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی تعلیم کے ذریعہ سے مفتوحہ علاقوں میں اسلام کو استحکام و استقرار ملا۔ خواہ یہ علاقے نئے سرے سے فتح کیے گئے ہوں یا ارتداد کے بعد اسلام کے سایہ تلے واپس آئے ہوں۔ مزید برآں مکہ و مدینہ اور طائف جہاں استحکام و استقرار حاصل تھا، وہاں خود خلیفہ یا اس کے گورنر یا جن کو خلیفہ کی طرف سے تعلیم کے لیے مقرر کیا جاتا تھا، لوگوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 61)

والی اپنے علاقے کی نگرانی و انتظام کا مکمل ذمہ دار ہوتا تھا اور سفر و عدم سفر کی حالت میں اس پر لازم تھا کہ وہ کسی کو اپنا نائب مقرر کرے جو اس کی واپسی تک اس کی ذمہ داری کو سنبھالے، چنانچہ مہاجربن سیدنا ابی امیہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ نے کندہ کا والی مقرر کیا اور رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکرؓ نے ان کو اس منصب پر باقی رکھا۔ لیکن مہاجر رضی اللہ عنہ کو یمن پہنچنے میں بیماری کی وجہ سے تاخیر ہوئی تو انہوں نے حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کو اپنی شفایابی اور وہاں پہنچنے تک کے لیے نائب مقرر کر دیا اور اس نیابت کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے برقرار رکھا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 55)

اسی طرح حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ عراق کے والی ہونے کے وقت اپنی عدم موجودگی میں حیرہ پر اپنا نائب مقرر کرتے تھے۔ امراء و ولاۃ کی تعیین و تقرری سے قبل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی مشورہ کرتے، خواہ لشکر کی امارت کا مسئلہ ہو یا شہروں اور مختلف علاقوں کی ولایت و امارت کا مسئلہ ہو۔ اس مشورہ میں حضرت عمر بن خطاب اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما پیش پیش ہوا کرتے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 55)

اور اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جس کو مقرر کرنا چاہتے اس کی تقرری سے قبل اس سے بھی مشورہ کرتے اور خاص کر اس وقت جب ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہوتا۔

چنانچہ جب آپؓ نے عمرو بن العاصؓ کو ان کی ولایت سے منتقل کر کے، جس پر رسول اللہﷺ نے ان کو مقرر کیا تھا، لشکر فلسطین کا امیر مقرر کرنا چاہا تو اس وقت تک تقرری صادر نہ فرمائی جب تک ان سے مشورہ کر کے ان کی موافقت نہ لے لی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 55)

اور اسی طرح مہاجربن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کو یمن یا حضر موت کی گورنری کو اختیار کرنے کا اختیار دیا اور جب مہاجر رضی اللہ عنہ نے یمن کو اختیار کیا تو آپؓ نے وہاں ان کی تقرری فرما دی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفح، 55)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپؓ نبی کریمﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے کسی قوم پر گورنر مقرر کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے کہ اگر اس قوم کے افراد میں نیک و صالح افراد ہوتے تو انھی میں سے گورنر مقرر فرماتے، جب کہ طائف اور بعض دیگر قبائل پر انھی میں سے گورنر مقرر فرمایا۔ اور جب آپؓ کسی شخص کو بحیثیت گورنر مقرر کرتے تو اس علاقے پر اس کی گورنری کا عہد نامہ تحریر کرا دیتے اور اکثر اوقات اس علاقے تک پہنچنے کا راستہ بھی اس کے لیے متعین فرما دیتے اور اس میں ان مقامات کا ذکر کرتے، جہاں سے اس کو گزرنا ہوتا۔ خاص کر جب یہ تقرری ان علاقوں سے متعلق ہوتی جو ابھی فتح نہیں ہوئے ہوتے تھے اور اسلامی خلافت کے کنٹرول سے باہر ہوتے۔ فتوحات شام و عراق اور حروب ردہ کے اندر یہ چیز بالکل نمایاں نظر آتی ہے۔ اور بسا اوقات آپؓ بعض ریاستوں کو دوسرے کے ساتھ ضم کر دیتے، خاص کر مرتدین سے قتال کے بعد یہ عمل میں آیا۔ چنانچہ حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ جو حضر موت کے گورنر تھے ان کی نگرانی میں کندہ کو بھی شامل کر دیا اور اس کے بعد وہ حضر موت اور کندہ دونوں کے گورنر رہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد، 1 صفحہ، 56)

حکام اور امراء کے ساتھ معاملہ طرفین کے مابین احترام پر مبنی تھا، خلیفہ اور گورنروں کے مابین اتصالات اور خط کتابت برابر جاری رہتی، جس کے اندر گورنری سے متعلق امور و مصالح زیر بحث ہوتیں۔ حکام اور امراء برابر مختلف امور میں آپؓ سے مشورہ لیتے اور آپؓ ان کے استفسارات کا جواب تحریر کر کے ارسال فرماتے اور اوامر صادر فرماتے اور سفراء حکام اور امراء کی خبریں خلیفہ کو پہنچاتے۔ خواہ یہ خبریں جہاد سے متعلق ہوں یا مرتدین کے خلاف مہم سے متعلق ہوں، اور والیان و امراء خود بھی اپنے امور امارت و ولایت سے متعلق خبریں خلیفہ کو پہنچاتے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد، 1 صفحہ، 57)

اور اسی طرح والیان و امراء آپس میں سفراء اور ملاقات کے ذریعہ سے اتصال کرتے۔ چنانچہ یمن اور حضر موت کے والیان و امراء کا آپس میں برابر اتصال رہتا تھا۔ اور اسی طرح شام کے والیان و امراء اکثر جنگی امور میں غور و فکر کرنے کے لیے جمع ہوتے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے خطوط میں اکثر امراء و والیان کو فکر آخرت اور دنیا میں زہد و تقویٰ اختیار کرنے پر ابھارتے اور اس طرح کے بعض نصائح مختلف گورنروں اور امراء کے نام عام سرکاری خطوط کی شکل میں خلیفہ کی طرف سے جاری کیے جاتے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد، 1 صفحہ، 57)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بلاد اسلامیہ کو مختلف ریاستوں کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا ان ریاستوں اور ان کے گورنروں کے نام یہ ہیں

*مدینہ:*

دارالخلافہ، یہاں سیدنا ابوبکرؓ بحیثیت خلیفہ تھے۔

*مکہ:*

اس کے امیر حضرت عتاب بن اَسید رضی اللہ عنہ تھے، جنہیں رسول اللہﷺ نے مقرر فرمایا تھا، اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت میں بھی یہ برقرار رہے۔

*طائف:*

اس کے امیر حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ تھے، ان کو رسول اللہﷺ نے یہاں کا امیر مقرر فرمایا تھا، اور سیدنا ابوبکرؓ نے بھی ان کو اپنے عہد پر برقرار رکھا۔

*صنعاء:*

اس کے امیر مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے ہی اس کو فتح کیا تھا اور ارتداد کی مہم ختم ہونے کے بعد آپؓ ہی یہاں کے گورنر مقرر ہوئے۔

*حضر موت:*

اس کے گورنر سيدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ تھے۔

*زبید اور رقع:*

 اس کے امیر حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ تھے۔

*خولان:*

 اس کے امیر سيدنا یعلی بن ابی امیہؓ تھے۔

*جند:*

 اس کے امیر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے۔

*نجران:*

اس کے امیر سيدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ تھے۔

*جرش:*

اس کے امیر حضرت عبداللہ بن ثور رضی اللہ عنہ تھے۔

*بحرین:*

اس کے امیر سيدنا علاء بن حضرمیؓ تھے۔

*عراق و شام:*

اس کے امیر حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ تھے۔

*عمان:*

اس کے امیر سيدنا حذیفہ بن محصن رضی اللہ عنہ تھے۔

*یمامہ:*

اس کے امیر حضرت سلیط بن قیسؓ تھے۔

(الدول العربیۃ الاسلامیۃ: منصور الحرابی صفحہ، 96/97)