Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خلافت صدیقی سے متعلق سیدنا علی و سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہما سے متعلق متعدد روایات بیان کی گئی ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے میں تاخیر کی لیکن یہ تمام کی تمام روایات صحیح نہیں ہیں، ان میں صرف سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی یہ روایت صحیح ہے کہ حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ جو لوگ سیدہ فاطمہؓ کے گھر میں تھے بیعت کرنے میں پیچھے رہے۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ و حیاۃ الصدیق: صفحہ 98)

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دیگر مہاجرین کے بیعت میں تاخیر کا بنیادی سبب رسول اللہﷺ کی تجہیز و تکفین میں مشغولیت رہی اور سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ چیز بالکل واضح ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اہل بیت کو، جن میں پیش پیش حضرت علیؓ تھے، فرمایا: رسول اللہﷺ کا جسد مبارک تمہارے پاس ہے، تم اس کے ذمہ دار ہو، پھر انہیں غسل دینے کا حکم فرمایا۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ و حیاۃ الصدیق: صفحہ 98)

سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب حضرت ابوبکرؓ (بیعت عام کے لیے) منبر پر تشریف لائے تو دیکھا لوگوں میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نظر نہیں آرہے ہیں، ان کو بلوایا، وہ حاضر ہوئے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ان سے کہا:

اے رسول اللہﷺ کے حواری اور پھوپھی زاد بھائی! کیا مسلمانوں کی جمعیت کو توڑنے کا ارادہ ہے؟

عرض کیا: خلیفہ رسول! ایسی کوئی بات نہیں۔

پھر آگے بڑھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔

پھر آپؓ نے لوگوں پر نظر دوڑائی، دیکھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نظر نہیں آرہے ہیں، ان کو بھی بلوایا، وہ حاضر ہوئے، آپؓ نے ان سے فرمایا:

’’کیا مسلمانوں کی جمعیت کو توڑنے کا ارادہ ہے؟

عرض کیا: خلیفہ رسول! ایسی کوئی بات نہیں۔

پھر آگے بڑھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 249 اور امام ابن کثیر نے اس کو صحیح قرار دیا ہے)

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی اہمیت پر یہ واقعہ دلالت کرتا ہے۔ امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ، جن کی صحیح مسلم، صحیح بخاری کے بعد سب سے زیادہ صحیح احادیث کی کتاب ہے، اپنے استاذ صحیح ابن خزیمہ کے مصنف امام محمد بن اسحق بن خزیمہؒ کے پاس حاضر ہوئے اور اس حدیث سے متعلق ان سے دریافت کیا، تو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو لکھ کر انہیں دیا اور ان کو پڑھ کر سنایا۔ امام مسلمؒ نے اپنے استاذ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ سے عرض کیا: یہ حدیث تو اونٹ کے برابر ہے، تو امام ابن خزیمہؒ نے فرمایا: یہ حدیث صرف اونٹ کے برابر نہیں بلکہ یہ تو انتہائی قیمتی خزانے کے برابر ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی اسناد صحیح و محفوظ ہے اور اس کے اندر بڑے اہم فوائد ہیں، وہ یہ کہ سيدنا علی رضی اللہ عنہ نے وفات نبویﷺ کے پہلے دن یا دوسرے دن ہی حضرت ابوبکر صديقؓ سے بیعت کی اور یہی حق ہے۔ سيدنا علی رضی اللہ عنہ کبھی سيدنا ابوبکرؓ سے جدا نہیں ہوئے اور آپؓ کے پیچھے نماز پڑھنا کبھی ترک نہ کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 249)

حبیب بن ابی ثابتؒ کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تھے، ایک شخص نے آکر بتلایا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ بیعت کے لیے مسجد میں تشریف لا چکے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت صرف کرتا پہنے ہوئے تھے، ازار اور چادر نہ تھی۔ اسی حالت میں جلدی میں مسجد کی طرف چل پڑے تا کہ بیعت میں کسی طرح کی تاخیر نہ ہونے پائے، کیونکہ آپؓ کو یہ چیز ناپسند تھی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کر کے بیٹھ گئے، پھر اپنی ردا گھر سے منگوائی اور کرتے کے اوپر اس کو پہن لیا۔

(الخلفاء الراشدون: للخالدی: صفحہ 56)

عمرو بن حریث نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا آپؓ رسول اللہﷺ کی وفات کے وقت موجود تھے؟

فرمایا: ہاں۔

عمرو: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کب عمل میں آئی؟

سیدنا سعیدؓ: جس دن رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی، بغیر جماعت و امام کے مسلمانوں کو دن کا کچھ حصہ گزارنا بھی ناپسند تھا۔

عمرو: کیا کسی نے حضرت ابوبکرؓ کی مخالفت کی؟

حضرت سعیدؓ: نہیں، کسی نے مخالفت نہیں کی، صرف مرتد یا ارتداد سے قریب شخص نے مخالفت کی۔ انصار کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا انہوں نے آپؓ کی خلافت پر متفق ہو کر آپؓ سے بیعت کی۔

عمرو: کیا مہاجرین میں سے کوئی آپؓ کی بیعت سے پیچھے رہا؟

سيدنا سعیدؓ: نہیں، بلکہ مہاجرین تو آپؓ کی بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے؟

(الخلفاء الراشدون: صفحہ 56)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو کسی وقت بھی سیدنا ابوبکرؓ سے جدا نہیں ہوئے اور کسی جماعت میں آپؓ سے کٹ کر نہیں رہے، مسلمانوں کے امور کی تدبیر اور مشورے میں برابر شریک رہتے۔

(الخلفاء الراشدون: صفحہ 56)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اور بہت سے اہلِ علم کا خیال ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بیعت کی دوبارہ تجدید فرمائی۔ اس دوسری بیعت سے متعلق صحیح روایات وارد ہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 249)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافتِ صدیقی میں بھلائی و خیرخواہی کا محور و مرکز تھے۔ اسلام اور مسلمانوں کے مصالح کو ہر چیز پر ترجیح دیتے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے آپؓ سے مخلص ہونے، اسلام اور مسلمانوں کے لیے خیر خواہ، خلافت کی حفاظت و بقا اور مسلمانوں کی یکجہتی کے حریص ہونے پر آپؓ کا وہ مؤقف روشن دلیل ہے جو آپ( نے سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختیار کیا، جس وقت وہ بذاتِ خود مرتدین کا قلع قمع کرنے کے لیے ذوالقصہ کی طرف روانہ ہوئے اور عسکری کارروائیوں کی قیادت کرنا چاہی کیونکہ آپؓ کی قیادت کی صورت میں اسلامی وجود کو خطرہ تھا۔

(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 97)

چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ ذوالقصہ کی طرف روانہ ہونے کے لیے تیار ہوئے اور اپنی سواری پر سوار ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فوراً لگام تھام لی اور عرض کیا:

خلیفہ رسول! آپؓ کدھر جا رہے ہیں؟ میں آپؓ سے وہی بات کہتا ہوں جو رسول اللہﷺ نے احد کے دن کہی تھی: اپنی تلوار میان میں ڈال لیجئے اور اپنے متعلق ہمیں افسوسناک خبر میں نہ ڈالیے اور مدینہ لوٹ چلیے۔اللہ کی قسم اگر آپؓ کے ساتھ کوئی افسوسناک حادثہ پیش آگیا تو اسلام کا نظام کبھی قائم نہ ہو گا۔

پھر آپؓ واپس ہو گئے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 314، 315)

نعوذ باللہ! اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دل حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے صاف نہ ہوتا اور جبراً بیعت کی ہوتی تو یہ سنہری موقع تھا، آپؓ اس کو ضرور غنیمت جانتے ہوئے سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جانے دیتے، ہو سکتا تھا کوئی حادثہ پیش آجاتا، ان سے نجات مل جاتی اور میدان آپؓ کے لیے خالی ہو جاتا اور حاشاللہ اگر اس سے بڑھ کر آپؓ ان کو ناپسند کرتے ہوتے اور چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تو کسی کو بھی ورغلا کر قتل کرا دیتے، جیسا کہ آج سیاسی لوگ اپنے حریفوں اور اعداء کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 97)