Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے

  علی محمد الصلابی

ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے

(البخاری: صفحہ، 6725)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدہ فاطمہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپؓ سے رسول اللہﷺ کی میراث، فدک کی زمین اور خیبر کا حصہ طلب کرنے لگے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

لا نورث، ما ترکنا صدقۃ، وانما یأکل آل محمد من ہذا المال۔

ترجمہ: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوا کرتا ہے۔ یقیناً آل محمدﷺ اس مال سے کھاتے رہیں گے۔

(البخاری: صفحہ 6726)

اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہﷺ جو کام کیا کرتے تھے میں اس کو چھوڑ نہیں سکتا، اس کو ضرور کروں گا، اگر میں نے اس میں سے کسی چیز کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔

(مسلم: صفحہ 1759)

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کی ازواج مطہرات نے سيدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں بھیجنا چاہا تاکہ میراث کا مطالبہ کریں، تو ام المؤمنین سيده عائشہؓ نے فرمایا: کیا رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد نہیں ہے کہ 

لا نورث ما ترکنا صدقۃ

ترجمہ: ہمارا کوئی وراث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں صدقہ ہوتا ہے۔

(البخاری: ۶۷۳۰، مسلم: صفحہ، 1758)

اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

لا یقتسم ورثتی دینارًا ما ترکت بعد نفقۃ نسائی ومؤونۃ عاملی فہو صدقۃ۔

ترجمہ: میری میراث کا ایک دینار بھی تقسیم نہ ہو گا، جو کچھ میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور عامل کے خرچ کے سوا چھوڑا وہ صدقہ ہے۔

(البخاری: صفحہ 6729)

رسول اللہﷺ کے ارشاد کی پابندی کرتے ہوئے یہی کچھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا اور اسی لیے فرمایا:

رسول اللہﷺ جو کام کیا کرتے تھے میں اس کو چھوڑ نہیں سکتا، اس کو ضرور کروں گا۔

(مسلم: صفحہ 1758)

اور فرمایا: واللہ میں کوئی کام جسے رسول اللہﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس کو نہیں چھوڑوں گا، وہی کروں گا جو رسول اللہﷺ کرتے تھے۔

(البخاری: صفحہ 2726)

حدیث سے استدلال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپؓ سے کوئی حجت اور بحث نہیں کی، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے حق کو قبول کیا اور نبی کریمﷺ کے فرمان کی پابندی کی۔

امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سيده فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حضرت ابوبکرؓ سے نبی کریمﷺ کی میراث کا مطالبہ کرنا ناپسندیدہ عمل نہ تھا، اس لیے کہ ان کو اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کے ارشاد کا علم نہ تھا لیکن جب ان کو سيدنا ابوبکرؓ نے خبر دی تو وہ اپنے مطالبہ سے دستبردار ہو گئیں۔

(تاویل مختلف الحدیث: صفحہ 189)

قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث سے استدلال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حجت نہ کرنا اجماع کو تسلیم کرنے کی دلیل ہے اور جب سیدہ فاطمہؓ کو حدیث پہنچ گئی اور اس کی وضاحت کر دی گئی تو سیدہ فاطمہؓ نے اپنی رائے کو ترک کر دیا اور اس کے بعد نہ تو سیدہ فاطمہؓ نے اور نہ آپ کی ذریت نے میراث کا مطالبہ کیا اور جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے فعل سے سر مو انحراف نہ کیا۔

(شرح صحیح مسلم للنووی: جلد 12 صفحہ 318)

حماد بن اسحق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عباس، سیدہ فاطمہ، سیدنا علی اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مطالبات سے متعلق جو صحیح روایات آئی ہیں وہ میراث سے متعلق ہیں اور جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور اکابر صحابہ نے ان کو نبی کریمﷺ کے اس ارشاد کی خبر دی 

لا نورث ما ترکنا صدقۃ

ترجمہ: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا،

ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں صدقہ ہوتا ہے تو ان سب نے اس کو قبول کیا اور جان لیا کہ یہی حق ہے۔ اگر رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد نہ فرمایا ہوتا تو سيدنا ابوبکر و سيدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی سيده عائشہ و سيده حفصہ رضی اللہ عنہما کی میراث کے ذریعہ سے وافر مقدار میں حصہ ملتا۔ لیکن انہوں نے رسولﷺ کے فرمان کو ترجیح دی اور سیدہ عائشہ و سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما اور دیگر لوگوں کو میراث سے روک دیا۔ اگر رسول اللہﷺ کا کوئی وارث ہوتا تو حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے لیے یہ انتہائی فخر کی بات تھی کہ ان کی بیٹیاں رسول اللہﷺ کے وارثین میں ہوتیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ،252، 253 ابن کثیر نے اس کی سند کو قوی اور جید قرار دیا ہے)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ناراض ہونے اور سیدنا ابوبکرؓ سے قطع تعلق کر لینے کے سلسلہ میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں وہ متعدد دلائل کی بناء پر بعید از قیاس اور بے بنیاد ہیں۔ ان دلائل میں سے چند یہ ہیں:

امام بیہقی رحمہ اللہ نے امام شعبی رحمہ اللہ کے طریق سے روایت کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ حضرت علیؓ نے سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: یہ حضرت ابوبکر صدیقؓ تشریف لائے ہیں، تمہارے پاس آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپؓ اجازت دینا پسند کرتے ہیں؟

فرمایا: ہاں۔

پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دی، آپؓ کے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے آپؓ کو خوش کرنے لگے اور آپؓ خوش ہو گئیں۔

(اباطیل یجب ان تمحی من التاریخ: صفحہ، 109)

اس سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قطع تعلق کا اشکال زائل ہو جاتا ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ آپؓ خود فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ کے قرابت دار میرے نزدیک اپنے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی سے زیادہ محبوب ہیں۔

(البخاری: صفحہ 4036)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا وہ رسول اللہﷺ کے حکم کی اتباع میں کیا۔

(العقیدۃ فی اہلِ البیت بین الافراط والتفریط: دیکھیے سالم السُّحیمی صفحہ 291)

ایک طرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہﷺ کی جدائی کے غم میں نڈھال تھیں، جس کے سامنے تمام مصیبتیں ہیچ تھیں اور خود بھی بیمار پڑ کر صاحب فراش ہو گئیں اور دوسری طرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ امور خلافت اور مرتدین سے تال میں اس قدر مشغول ہوئے کہ معمولی فرصت بھی نہ رہی اور پھر سیدہ فاطمہؓ کو معلوم تھا کہ وہ جلد وفات پا کر اپنے والد سے ملنے والی ہیں جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ان کو خبر دی تھی پس جس کی یہ صورت حال ہو وہ دنیاوی امور میں کہاں دلچسپی لے سکتا ہے۔ یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان زیادہ اتصال نہ رہ سکا، جن کو قطع تعلق پر محمول کر لیا گیا۔ مہلب رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات کہی ہے، جسے علامہ عینی نے نقل کیا ہے: سیدنا ابوبکر اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان میراث کے مسئلہ میں ملاقات ہوئی اور اس کے بعد سیدہ فاطمہؓ نے اپنے گھر کو لازم پکڑا جسے راوی نے قطع تعلق سے تعبیر کر دیا۔

(اباطیل یجب ان تمحی من التاریخ: صفحہ 108)

تاریخی حیثیت سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں مدینہ کے مال فے، فدک کے اموال اور خیبر کے خمس میں سے اہل بیت کے حقوق برابر ادا کرتے رہے لیکن نبی کریمﷺ کے ارشاد پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس میں میراث کا حکم جاری نہیں کیا۔

محمد بن علی بن حسین الباقر اور زید بن علی بن حسین سے روایت ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمارے آباء و اجداد کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہیں کی۔

(المرتضی للندوی: صفحہ 90، 91 نقلًا عن نہج البلاغۃ شرح ابن ابی الحدید)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال 3 رمضان المبارک 11 ہجری شنبہ کی رات، رسول اللہﷺ کے انتقال سے چھ ماہ بعد ہوا اور رسول اللہﷺ آپؓ کو پہلے سے بتا چکے تھے کہ آپؓ کے اہل بیت میں سب سے پہلے آپؓ ہی ان سے ملیں گی اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا تھا:

اما ترضین ان تکونی سیدۃ نساء اہل الجنۃ۔

ترجمہ: کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ تم جنتی عورتوں کی سردار ہو گی۔

(المرتضی للندوی: صفحہ 94 یہ روایت صحیح بخاری کی ہے۔ دیکھیے صحیح البخاری: المناقب صفحہ 3624 (مترجم)

علی بن حسین رحمہ اللہ کی روایت ہے: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال مغرب و عشاء کے درمیان ہوا۔ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا زبیر اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے اور جب نماز جنازہ کے لیے آپؓ کو رکھا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’ابوبکر آگے آیئے۔

سيدنا ابوبکرؓ نے کہا: سيدنا ابوالحسنؓ آپؓ موجود ہیں؟

فرمایا: ہاں میں موجود ہوں لیکن آپؓ آگے بڑھیں، واللہ آپؓ ہی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے۔

پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سيده فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور رات ہی میں تدفین عمل میں آئی اور ایک روایت میں ہے کہ: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں۔

(المرتضی للندوی: صفحہ، 94 الطبقات الكبري: جلد، 7 صفحہ 29)

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور یہی روایت راجح ہے۔

(مسلم: صفحہ 1759)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اہلِ بیت کے ساتھ تعلق محبت و تعظیم پر تھا، جو آپؓ اور اہل بیت کے شایان شان تھا اور یہ محبت و اعتماد حضرت ابوبکر و حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان طرفین سے پایا جاتا تھا، سیدنا علیؓ نے اپنے ایک بیٹے کا نام ابوبکر رکھا.

(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 98)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے آپ کے بیٹے محمد کو گود لیا اور پوری رعایت و توجہ کے ساتھ ان کی کفالت کی اور اپنی خلافت میں ان کو والی بنایا جس کی وجہ سے آپؓ کے خلاف لوگوں کی زبانیں کھلیں اور آپؓ پر اعتراض کیا گیا۔

(المرتضیٰ للندوی: صفحہ، 98)