ان تاویلات اور تفسیری بیانات کی اصل و اساس کیا ہے جنہیں…

ان تاویلات اور تفسیری بیانات کی اصل و اساس کیا ہے جنہیں شیعہ قرآن کریم کے لیے بیان کرتے ہیں مزید اس کی چند مثالیں بھی ذکر کریں؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 1 از 4

ان تاویلات اور تفسیری بیانات کی اصل و اساس کیا ہے جنہیں شیعہ قرآن کریم کے لیے بیان کرتے ہیں مزید اس کی چند مثالیں بھی ذکر کریں؟ 

جواب: شیعہ کی تفاسیر میں سے سب سے پہلی کتاب جس نے اس انداز تفسیر کو بنیاد فراہم کی وہ ان کے شیخ جابر بن یزید بن الحارث الجعفی الکوفی المتوفی سنہ 127 کی تفسیر القرآن ہے یہ شخص اصحابِ رسول اللہﷺ کو کافر قرار دینے میں بہت مشہور تھا۔
عجیب بات: احادیث کو ضعیف اور صحیح قرار دینے میں شیعہ مذہب کی کتب متضاد باتوں پر مبنی ہیں کچھ باتیں تو ایسی ہیں جو اسے اہلِ بیتؓ کے علم کے واقف کاروں میں سے یاد کرواتی ہیں اور اس پر صفاتِ الٰہی کی جھلک بھی ڈالتی ہیں کہ وہ علم غیب جانتا ہے اور وہ کچھ بھی جانتا ہے جو ماؤں کے رحموں میں ہے الخ۔ شیعہ محمد بن حسین الامین نے کہا ہے جابر نے سیدنا الباقرؒ سے ستر ہزار احادیث روایت کی ہیں۔
(اعيان الشيعة: جلد، 1 صفحہ، 45 اور الامام الصادق تالیف محمد حسین 143)
 جبکہ ہم شیعی مصادر میں ایسی روایات بھی پڑھیں گے جو جابر جعفی پر تنقید کرتی نظر آتی ہیں اور اسے کذاب اور دجال قرار دیتی ہیں۔
لہٰذا شیعی شیوخ نے ایک اور روایت نقل کی زرارہ نے کہا ہے میں نے ابو عبداللہؒ سے جابر کی احادیث کی بابت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا میں نے اسے اپنے باپ کے پاس کبھی نہیں دیکھا سوائے ایک مرتبہ کے اور وہ میرے پاس بھی کبھی نہیں آیا۔
(رجال الكشی: جلد، 3 صفحہ، 264 ح، 335 جابر بن يزيد الجعفی)
 یہ ہے تناقض و تضاد اور ایسا تناقض شیعہ افراد اور ان کے شیوخ کے متعلق ثقہ اور ضعیف کا حکم بکثرت ملتا ہے۔ 
اہم ترین بات: 
شیعہ اثناء عشری کتابوں نے اپنے شیخ جابر جعفی سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی: 
كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ‌ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّنۡكَ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏۝
(سورۃ الحشر: آیت، 16)
ترجمہ: ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ کافر ہوجا۔ پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں، میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
کی تفسیر نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مراد سیدنا عمر فاروقؓ ہے اور آپ کو ابلیس سے زیادہ عذاب دیا جاتا ہے۔ بعینہٖ یہی تفسیر اثناء عشریہ وراثت میں پاتے ہیں ان کے شیوخ اپنے اصلی اور قابل اعتماد مصادر میں اسے لکھتے ہیں اس پر اعتماد کرتے ہیں اور پھر اسے آگے نقل کرتے ہیں بلکہ جو شخص یہ بات نہ کہے تو اسے کافر قرار دیتے ہیں باوجود اس امر کے کہ یہ مرجع و مصدر یہودی ہے۔
(تفسير العياشی جلد، 2 صفحہ، 240 ح، 8 ح، 9 سورة ابراہيم اور تفسیر الصافی: جلد، 3 صفحہ، 84 سورة ابراہيم اور تفسیر البرہان: جلد، 4 صفحہ، 317 سورة ابراہيم)
شیعہ نے سیدنا ابو جعفرؒ پر جھوٹ و افتراء باندھتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا اسے ہماری ولایت کے اظہار اور ہمارے دشمنوں سے برأت کا اظہار کرنے کے لیے بھیجا اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: 
وَلَـقَدۡ بَعَثۡنَا فِىۡ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ‌ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ هَدَى اللّٰهُ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ الضَّلٰلَةُ‌ الخ۔
(سورۃ النحل: آیت، 36)
ترجمہ: اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر اس ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو اللہ نے ہدایت دے دی اور کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی مسلط ہوگئی۔ 
یہ اہلِ سنت کا ترجمہ ہے جبکہ شیعہ کہتے ہیں سیدنا ابو جعفرؒ فرماتے ہیں: آلِ محمد کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ان پر ضلالت ثابت ہو گئی- 
(تفسير العياشی: جلد 2 صفحہ 280 آیت نمبر 25 سورة النحل تفسير الصافی جلد 3 صفحہ 134 تفسير البرهان جلد 4 صفحہ 435 تفسير نور الثقلين جلد 3 صفحہ 53 آیت نمبر 79 سورة النحل) 
شیعہ کے متقدمین شیوخ سورۃ النساء کی آیت 51
بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ ای ابوبکرؓ و عمرؓ۔
اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔
سے مراد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ لیتے ہیں۔ 
شیعہ کے ثقہ اسلام کلینی نے سیدنا ابو جعفرؒ پر ایک اور جھوٹ گھڑ کر روایت نقل کی ہے جب کہ وہ اس سے بری ہیں۔ الجبت اور الطاغوت سے مراد فلاں فلاں ہیں۔
(أصول الكافی: جلد، 1 صفحہ، 324۔325 كتاب الحجة، ح، 83 باب فيه نكت ونتف من التنزيل فی الولاية)
جب کہ شیعہ عالم مجلسی کہتا ہے فلاں فلاں سے مراد سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ ہے۔
(بحار الأنوار: جلد، 23 صفحہ، 306 حدیث نمبر: 2 باب انهم أنوار الله وتأويل آيات النور فيهم عليهم السلام)
اسی طرح یہ شیعہ سیدنا عمرؓ کو ثانی قرار دیتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا۝
(سورۃ الفرقان: آیت، 55) کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: کافر ثانی (یعنی سیدنا عمرؓ) سیدنا علیؓ کے خلاف مدد گار تھا۔
 (تفسير القمی: صفحہ، 472 سورة الفرقان على بن ابراهيم القمی اور تفسیر نور الثقلين: جلد، 4 صفحہ، 25 حديث نمبر: 82 سورة الفرقان)
 شیعہ الصفار نے سیدنا ابو جعفرؒ پر یہ جھوٹ گھڑ لیا ہے وہ اس غلط تاویل سے بری ہیں کہ آپ فرماتے ہیں:
 اس کی باطنی تفسیر قرآن یہ ہے کہ یعنی سیدنا علیؓ ہی ولایت اور اطاعت میں آپ کے رب ہیں۔
(بصائر الدرجات الكبرى: جلد، 1 صفحہ، 129 ح، 5 النوادر من أبواب فی الولاية)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد:
قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِۚ-اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ (سورۃ النحل: آیت، 51) کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ تم دو امام نہ بناؤ بے شک امام ایک ہی ہے( سیدنا علیؓ)
اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اقدس کے بارے میں انھوں نے یہ کہا ہے
 قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ الخ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ یعنی دو امام نہ بناؤ۔
إِنَّمَا هُوَ إِلَّهُ وَاحِدٌ أَی إِمَامٌ وَاحِدٌ۔
معبود تو صرف وہی اکیلا ہے یعنی امام ایک ہی ہے۔
صفحہ 1 از 4