ان تاویلات اور تفسیری بیانات کی اصل و اساس کیا ہے جنہیں…

ان تاویلات اور تفسیری بیانات کی اصل و اساس کیا ہے جنہیں شیعہ قرآن کریم کے لیے بیان کرتے ہیں مزید اس کی چند مثالیں بھی ذکر کریں؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 4
(تفسير العياشی: جلد، 2 صفحہ، 283 ح، 36 سورة النحل اور تفسیر نور الثقلين: جلد، 3 صفحہ، 60 حديث نمبر: 12 سورة النحل)
 اسی طرح مفضل سے ایک من گھڑت روایت نقل کرتے ہیں کہ اس نے سنا سیدنا ابو عبد اللہ فرما رہے تھے وہ اس غلط تاویل سے بری ہیں کہ 
وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا الخ۔ (سورۃ الزمر: آیت، 69)
ترجمہ: اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔
 ابو عبد اللہؒ کہتے ہیں: رب الأرض یعنی امام الأرض۔
ترچمہ: کہ زمین امام کے نور سے چمک اٹھے گی۔
میں نے کہا جب امام نکل آئے گا تو کیا ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: اس وقت لوگ سورج کی روشنی اور چاند کی چاندنی سے مستغنیٰ ہو جائیں گے اور امام کے نور سے روشنی لیں گے۔
(تفسير القمی: صفحہ، 595 سورة الزمر تفسير الصافی جلد، 4 صفحہ،331)
اور اللہ تعالیٰ کے فرمان اقدس کی تفسیر یوں کرتے ہیں: وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ای الا ائمہ علیھم السلام۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا، بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اس کا چہرہ یعنی بجز ائمہ کے۔ 
قمی نے کہا سیدنا ابو جعفرؒ نے روایت گھڑی کہ انہوں نے فرمایا (جبکہ ایسا ممکن نہیں کہ انہوں یہ بات فرمائی ہو) ہم اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہیں جس سے اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور ایک روایت میں ہے ہم اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہیں جو ہلاک نہیں ہوگا۔
(تفسير القمی صفحہ، 505 سورة القصص، بحار الانوار: جلد، 24 صفحہ، 192 حدیث نمبر، 7 باب انهم عليهم السلام جنب الله و وجه الله ویدالله امثالها)
 سیدنا صادقؒ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ الخ۔ (سورۃ الرحمٰن: آیت، 26)
ترجمہ: تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا۔
کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہم اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہیں۔
(التوحيد لابنِ بابويہ: صفحہ، 145حدیث نمبر، 4 تفسير قول الله كل شيئ هالك الأوجهه، تفسير الصافی: جلد، 4 صفحہ، 108 سورة القصص، بحار الأنوار: جلد، 24 صفحہ، 201 حديث نمبر: 33 باب أنهم جنب الله)
شیعہ کا امام اکبر خمینی کہتا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: 
یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ۝
(سورۃ الرعد: آیت، 2)
 وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، کھول کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کر لو۔
یہاں پر ربکم اپنے رب سے مراد امام ہے۔
(مصباح الهداية إلى الخلافة والولاية: صفحہ، 145 للخمينی)
وضاحتی نوٹ:
 علمائے شیعہ کی تفسیر قرآن کے چند نمونے جو قبل ازیں بیان ہوئے ہیں بلاشبہ ان کے بارہ ائمہ کے ذکرِ خیر اور ان کے مخالفین کے ذکر پر مشتمل ہیں، شیعہ علماء نے اس مسئلہ کے ثبوت کے لیے ہزاروں نصوص اکٹھی کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کر دی ہیں۔ ابو عبداللہؒ کے سامنے آیاتِ الہٰیہ کی ایسی ہی باطنی تاویلات اور باطنی تفسیروں کا ذکر کیا گیا اور ان کے سامنے یہ بات عرض کی گئی آپ کی طرف سے الخمر، المیسر ،الا نصاب اور الازلام کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ لوگ ہیں تو آپ نے فرمایا: 
مَا كَانَ اللَّهُ عَزّوَجَلَّ لِيُخَاطِبَ خَلْقَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُونَ
اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے اس طرح کی باتیں کرے جنہیں وہ جانتے ہی نہ ہوں۔
(رجال الكشی: جلد، 4 صفحہ، 360حدیث نمبر: 513 ماروى فی محمد بن أبی زينب وسائل الشيعہ: جلد، 12 صفحہ، 383 حدیث نمبر: 13 باب تحریم كسب القمار حتٰى الكعاب یہ سوال اس آیت مبارکہ کے متعلق تھا: 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝
(سورۃ المائدة: آیت، 90)
ترجمہ: اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔ (مترجم آغا دلدار حشر حسرت)
 ابو عبد اللہؒ کا مذکورہ فرمان جو شیعہ مذہب کی قابل اعتماد کتب الرجال میں وارد ہے ان کے شیوخ کی تعمیر کردہ ایسی تمام تحریفات کی عمارتوں کو منہدم کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اور اس کی آیات میں اس رویہ کا نام ہی الحاد ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تو اس طرح فرما رہے ہیں: 
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ۝ (سورۃ يوسف: آیت، 2) 
ترجمہ: ہم نے اس کو ایسا قرآن بنا کر اتارا ہے جو عربی زبان میں ہے، تاکہ تم سمجھ سکو۔
 اور اللہ تعالیٰ نے یوں بھی فرمایا ہے: 
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ۝ (سورۃ الحجر: آیت، 9)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
شیعہ مشائخ کے لیے کمر شکن:
1: شیعہ علماء کی قابل اعتماد اور ان کے ہاں متفق علیہ کتابوں میں مروی ایسی باطنی تاویلات اور تفسیری بیانات کے متعلق سیدنا ابو عبد اللہؒ نے ان کے گھڑنے والوں پر یہ حکم لگایا ہے کہ یہ لوگ یہود، نصاریٰ، مجوس اور مشرکین سے بھی بدتر ہیں اور شیعہ علماء نے بذاتِ خود ان سے یہ روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے ان کے متعلق یہ فرمایا ہے: یہ لوگ یہودیوں عیسائیوں، مجوسیوں اور مشرکوں سے بھی زیادہ برے ہیں، اللہ تعالیٰ کی قسم ان کے کسی بھی چیز کو حقیر و ذلیل قرار دینے سے وہ چیز حقیر و ذلیل نہیں بن سکتی۔ جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت و سر بلندی عطا فرمائی ہو اور اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت میں کچھ بھی فرق نہیں آسکتا۔ اللہ کی قسم! اگر میں ان باتوں کا اقرار کر لوں جو اہلِ کوفہ میرے حوالے سے کہتے ہیں تو زمین مجھے دبوچ لے۔ میں تو صرف عبد مملوک ہوں اور میں کسی چیز کو نقصان اور نفع پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتا۔
صفحہ 2 از 4