ان تاویلات اور تفسیری بیانات کی اصل و اساس کیا ہے جنہیں…

ان تاویلات اور تفسیری بیانات کی اصل و اساس کیا ہے جنہیں شیعہ قرآن کریم کے لیے بیان کرتے ہیں مزید اس کی چند مثالیں بھی ذکر کریں؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 3 از 4
(رجال الكشی: جلد، 4 صفحہ، 367 حديث نمبر، 538 ما روى فی محمد بن ابی زینب اسمه مقلاص ابو الخطاب البراد الاجدع الأسدى، بحار الأنوار: جلد، 25 صفحہ، 294 حدیث نمبر، 53 باب نفى الغلو فی النبی و الائمة صلوات الله عليه و عليهمو بيان معانی التفويض اور معجم رجال الحديث: جلد، 15 صفحہ، 262)
2: ایسی تمام تاویلات اجتہادی آراء نہیں ہیں جو شیعہ علماء کے مابین بحث و تکرار کے قابل ہوں بلکہ یہ تو شیعہ علماء کے نزدیک قطعی الثبوت اور مقدس نصوص ہیں جن کا مقام و مرتبہ وحی کے برابر ہے بلکہ وحی سے بھی بلند تر کیونکہ یہ منسوخ نہیں ہو سکتیں۔ جبکہ قرآنِ کریم کی وحی کو تو ان کا امام منسوخ قرار دے سکتا ہے۔ انہوں نے روایت گھڑتے ہوئے کہا کہ سفیان السمط سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا ابو عبد اللہؒ سے عرض کیا میں آپ پر فدا ہوں کوئی شخص آپ کی طرف سے ہمارے پاس آتا ہے جو کذب بیانی میں مشہور و معروف ہے پھر وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرے جسے ہم بدمزہ اور بدنما پاتے ہیں، تو سیدنا ابو عبد اللہؒ نے فرمایا وہ تجھے کہتا ہے کہ میں نے رات کو دن کہا ہے یا دن کو رات کہا ہے۔ فرمایا اگر وہ شخص تجھے یوں کہتا ہے کہ میں ہی نے یہ بات کہی ہے تو تو اسے مت جھٹلا کیونکہ تو مجھے ہی جھٹلائے گا۔
(بحار الأنوار: جلد، 2 صفحہ، 211-212 حدیث نمبر، 11 باب ان حديثهم عليهم السلام صعب مستصعب وان كلامهم ذو وجوه كثيرة وفضل التدبر فى اخبارهم عليهم السلام اور مختصر بصائر الدرجات: 190 حدیث نمبر، 242 باب ماجاء فی التسليم لما جاء عنهم و ما قالوه)
3: شیعہ کے شیوخ کے نزدیک تفسیر کے دو پہلو میں ظاہری اور باطنی جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوا ہے اور دونوں ہی معتبر ہیں ظاہری تفسیر سبھی شیعہ کے لیے بیان کی جاتی ہے رہی باطنی تفسیر تو وہ صرف انہی خواص شیعہ کے لیے بیان کی جاتی ہے جو اسے برداشت کرنے اور اٹھانے کی استطاعت اور خوبی عطاء کیے جاتے ہیں۔ 
عبد اللہ بن سنان ذریع المحاربی سے روایت بیان کرتا ہے کہ اس نے کہا میں نے سیدنا ابو عبد اللہؒ سے عرض کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے میں اسے کرنا چاہتا ہوں، تو آپ نے دریافت کیا اور وہ کون سا کام ہے؟ میں نے جواب دیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: 
ثُمَّ لۡيَقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَھُم٘ وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ۝ 
(سورۃ الحج: آیت، 29)
ترجمہ: پھر (حج کرنے والے) لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کریں، اور اپنی منتیں پوری کریں، اور اس بیت عتیق کا طواف کریں۔
آپ نے فرمایا: ثم لیقضوا تفثھم لقاء الامام۔ 
ترجمہ: پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں، سے مراد امام کی ملاقات ہے۔
وليوفوا نذورهم تلك المناسك۔
ترجمہ: اور اپنی نذریں پوری کریں سے مراد وہ مناسک ہیں۔
عبداللہ بن سنان کہتا ہے: میں ابو عبد اللہؒ کے پاس آیا اور عرض کی میں آپ پر قربان! اس فرمانِ الٰہی 
ثُمَّ لۡيَقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ الخ۔ کی تفسیر کیا ہے؟
انہوں نے فرمایا: مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا اور اسی طرح کے دیگر میل کچیل دور کرنے والے کام مراد ہیں۔
 کہتے ہیں، میں نے عرض کی:
میں آپ پر فدا ہو جاؤں، بلاشبہ ذریح المحاربی نے مجھے آپکے نام سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ نے اسے فرمایا تھا: 
وَلْيَقْضُوا تَفَثهُمْ امام کی ملاقات اور وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ 
حج کے مناسک مراد ہیں، تب فرمانے لگے: ذریح نے بالکل بجا فرمایا اور تو نے بھی عین سچ بولا، بیشک قرآن کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور یہ علم کون حاصل کر یگا؟ ذریح جیسی علمی صلاحتیں اور کس میں ہیں؟
(فروع الكافی جلد، 4 صفحہ، 743 كتاب الحج، باب اتباع الحج بالزيارة، حديث نمبر، 4 مزید دیکھئے: من لا يحضره الفقيه: جلد، 2 صفحہ، 373 حدیث نمبر 3037 باب قضاء التفث تفسير البرہان: جلد، 5 صفحہ، 286 حدیث نمبر، 13 سورة الحج وسائل الشيعة: جلد، 10 صفحہ، 437 حديث نمبر، 4 باب تاكد استحباب زيارة النبیﷺ والائمة عليهم السلام وخصوصاً بعد الحج اور بحار الانوار: جلد، 24 صفحہ، 360 حدیث نمبر، 84 باب جوامع تاويل ما نزل فيهم عليهم السلام و نوادرها)
تعلیق:
 اس واضح نص اور دیگر نصوص میں اس امر کی تصریح موجود ہے کہ قرآنِ کریم کے ظاہری معانی ہیں جو عام لوگوں سے بیان کیے جاتے ہیں اور اس کے کچھ باطنی معانی بھی ہیں جو صرف خواص کے لیے ذکر کیے جاتے ہیں اور خاص بھی وہ جو ان معانی کو اٹھانے کی استطاعت رکھتے ہوں اور وہ انتہائی قلیل تعداد میں ہوتے ہیں اور کبھی کبھار وہ پائے ہی نہیں جائیں گے (اور کون اسے حاصل کرے گا جیسے ذریح حاصل کر رہا ہے)
ایک سوال:
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شیعہ کے ائمہ اس باطنی علم کے ساتھ اس درجہ بخل رکھتے ہیں اور سبھی شیعہ کے پاس اسے ذکر کرنے سے کنارہ کشی کرتے ہیں ماسوائے ذریح جیسی سطح کے لوگوں کے تو پھر اثناء عشری کتابوں نے اپنے ائمہ کے مسیح و طریق کی کیوں مخالفت کی ہے اور پھر اس بخل زدہ علم کو غیر اہل، خاص و عام کے لیے کیوں شائع کیا ہے بلکہ اپنی ملت کے دشمنوں اہلِ سنت وغیرہ کے سامنے بھی؟ 
إِنَّ هَـٰذَا لَشَىۡءٌ عُجَابٌ۝ ( ورۃ ص: آیت، 5)
واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔
 لیکن یہ امر قابلِ تعجب نہیں ہے ان لوگوں نے خود کو کم علم اور علم چھپانے کی کمی کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا ہے۔ شیعہ شیخ الکلینی نے علی بن الحسین سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا: میں پسند رکھتا ہوں، اللہ کی قسم! کہ میں اپنے شیعہ میں موجود دو کوتاہیوں کے عوض اپنے بازو کا گوشت فدیہ میں دے دوں یعنی کم عقلی و حماقت اور چھپائے رکھنے کی کمی۔
(اصول الکافی: جلد، 2 صفحہ، 575 حدیث نمبر، 1 باب الكتمان وسائل الشيعة، جلد، 11 صفحہ، 258 حدیث نمبر، 2 باب وجوب كتم الدين عن غير اهله مع التقية بحار الأنوار، جلد، 28 صفحہ، 416 حدیث نمبر، 40 باب الحلم والعفو و كظم الغيظ الحضال)
 شیعہ علماء کی یہ سب باطنی تاویلات جن کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں اور جن کی دعوت پیش کرتے ہیں یہ سب کی سب کتاب اللہ کی آیات میں کجی اور الحاد کے باب میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: 
صفحہ 3 از 4