Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لشکر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

لشکر اسامہ کو روانہ کرنا

عہد نبویﷺ میں جزیرہ عرب کے پڑوس میں روم و فارس کی دو عظیم سلطنتیں پائی جاتی تھیں۔ رومی، جزیرہ عرب کے شمال میں ایک بڑے حصہ پر قابض تھے اور ان علاقوں کے امراء رومی سلطنت کی طرف سے مقرر کیے جاتے تھے اور اس کے اوامر کے پابند ہوتے تھے۔

نبی کریمﷺ نے ان علاقوں میں مبلغین اور فوجی دستوں کو روانہ فرمایا اور سیدنا دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے شاہ روم ہرقل کو خط بھی بھیجا جس میں اس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔

(البخاری: الوحی: صفحہ 7)

لیکن اس نے سرکشی کی اور گناہ کا غرور اس پر سوار ہوا۔ عربوں کے دلوں سے روم کی ہیبت کو ختم کرنے کے سلسلہ میں رسول اللہﷺ کا منصوبہ بالکل واضح تھا چنانچہ اسلامی افواج ان علاقوں کو فتح کرنے کے لیے نکلنا شروع ہوئیں۔ رسول اللہﷺ نے 7 ہجری میں ایک فوج بھیجی، جس نے معرکہ موتہ میں عرب کے نصرانیوں اور رومیوں سے ٹکر لی، اور اس معرکہ میں اسلامی فوج کے قائدین یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کرتے رہے۔ سیدنا زید بن حارثہ، پھر سیدنا جعفر بن ابی طالب، پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم ۔ آخر میں حضرت سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنھم نے اسلامی فوج کی قیادت سنبھالی اور انہیں بچا کر مدینہ لے آئے۔

(السیرۃ النبویۃ لصحیحۃ للعمری: جلد 2 صفحہ 467، 470)

اور 9 ہجری میں رسول اللہﷺ نے ایک بڑی فوج لے کر شام کا رخ کیا اور مقام تبوک تک پہنچے،

(مسلم: الفضائل جلد 4 صفحہ 4784)

اسلامی فوج کی رومیوں اور عرب قبائل کے ساتھ مڈبھیڑ نہیں ہوئی اور ان علاقوں کے امراء و حکام نے جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت کو ترجیح دی اور اسلامی فوج تبوک میں بیس (20) دن قیام کر کے مدینہ واپس ہو گئی۔

(السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ: جلد 2 صفحہ 535)

اور 11 ہجری میں رسول اللہﷺ نے بلقاء (اردن) و فلسطین میں رومیوں پر چڑھائی کرنے کے لیے لوگوں کو تیار کیا، ان میں کبار مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شریک ہوئے اور ان پر حضرت اسامہ بن زیدؓ کو امیر مقرر فرمایا۔

(قصۃ بعث جیش اسامہ: دیکھیے فضل الہٰی صفحہ 8)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لشکر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی تیاری رسول اللہﷺ کی وفات سے دو روز قبل بروز ہفتہ مکمل ہوئی اور اس کا آغاز آپﷺ کی بیماری سے قبل ہو چکا تھا۔ آپؓ نے ماہ صفر کے اواخر میں جنگ کی تیاری کا حکم دیا، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: اپنے والد کی شہادت گاہ کی طرف روانہ ہو جاؤ، میں نے تم کو اس لشکر کا امیر مقرر کیا ہے۔

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 152)

بعض لوگوں کو حضرت اسامہؓ کی امارت پر اعتراض پیدا ہوا، تو رسول اللہﷺ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: اگر آج تم سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو اس سے قبل اس کے والد زید کی امارت پر بھی تمہارا اعتراض تھا، اللہ کی قسم وہ امارت کے قابل تھا اور وہ میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور اس کے بعد یہ اسامہ میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔

(البخاری: المغازی صفحہ 4469)

تیاری شروع ہونے کے دو دن بعد رسول اللہﷺ بیمار پڑ گئے اور آپﷺ کی بیماری بڑھ گئی، جس کی وجہ سے یہ لشکر روانہ نہ ہو سکا اور مقام جرف میں ٹھرا رہا۔ (یہ مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر شام کی طرف واقع ہے) نبی کریمﷺ کی وفات کی خبر سن کر مدینہ واپس چلا آیا۔

(السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ: جلد 2 صفحہ 552 السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الاصلیۃ: صفحہ 685)

وفات نبویﷺ کے بعد حالات میں تبدیلی آگئی۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہﷺ وفات پا گئے تو اکثر عرب ارتداد کا شکار ہو گئے، نفاق امڈ آیا، (تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ،م 102 ’’میرے والد پر‘‘ ہے) مجھ پر ایسی مصیبت ٹوٹی کہ اگر پہاڑوں پر ٹوٹتی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ کیفیت ہوئی کہ جیسے باغ میں بارش سے بھیگی ہوئی بکریاں بارش کی رات میں درندوں بھری زمین میں ہوں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 309)

اور جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زمام خلافت سنبھالی تو رسول اللہﷺ کی وفات کے تیسرے دن ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کرے کہ اب لشکر سیدنا اسامہؓ کو اپنی مہم پر روانہ ہونا ہے، لہٰذا ہر شخص جس کا نام لشکر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ میں ہے وہ مدینہ چھوڑ کر مقام جرف میں اپنی لشکر گاہ میں پہنچ جائے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 307)

پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب فرمایا:

’’لوگو! یقین جانو میں تم جیسا ہوں، مجھے نہیں معلوم شاید تم لوگ مجھے ایسی باتوں کا مکلف کرو گے جس کی رسول اللہﷺ کو طاقت تھی، اللہ نے آپﷺ کو سارے عالم پر منتخب فرمایا تھا، اور آپﷺ کو آفات سے محفوظ رکھا تھا۔ میرا کام اتباع ہے۔ میں بدعت ایجاد کرنے والا نہیں۔ اگر میں سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دینا اور اگر کجی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دینا۔ رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی آپﷺ نے کبھی کسی پر ظلم نہ کیا کہ وہ آپ سے مطالبہ کرے۔ لیکن میرے ساتھ شیطان ہے وہ جب سوار ہو جائے تو مجھ سے دور رہو۔ تم موت کے سائے میں صبح و شام کرتے ہو جس کا علم تم سے اوجھل ہے، اللہ کے بغیر تمہیں اس کی استطاعت نہیں۔ لہٰذا تم نیکیوں میں سبقت کرو قبل ازیں کہ موت اعمال کا سلسلہ کاٹ دے۔ کچھ لوگ اپنی موت بھول گئے اور اپنے اعمال دوسروں کے لیے کیے۔ خبردار! تم اس طرح نہ ہو جانا۔ محنت کرو، محنت کرو، سبقت کرو، سبقت کرو، جلدی کرو، جلدی کرو۔ تمہارے پیچھے تیز رفتار طلب کرنے والا لگا ہوا ہے۔ موت سے بچو، گزرے ہوئے آباء و اجداد اور بھائیوں سے عبرت پکڑو، زندوں پر رشک نہ کرو، مگر اس چیز میں جس میں مردوں پر رشک کرتے ہو۔

(البدایہ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 307 تاریخ الطبری: جلد 2 صفحہ 241، 245 الکتب العلمیۃ)

نیز سیدنا ابوبکرؓ نے پھر خطاب فرمایا اور اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا:

اللہ تعالیٰ صرف وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو صرف اس کی رضا کے لیے کیے جائیں۔ لہٰذا تم اعمال اللہ کی رضا کے لیے کرو، ایسی صورت میں تم اس کو اپنی محتاجی و فقر کے وقت کے لیے خالص کر لو گے۔ تم میں سے جو مر گئے ان سے عبرت حاصل کرو اور ان میں غور و فکر کرو جو تم سے قبل گزرے ہیں۔ کل وہ کہاں تھے اور آج کہاں ہیں؟ اور کہاں گئے وہ قوت و طاقت والے جنہیں میدان جنگ میں قوت و غلبہ رہتا تھا، وہ سب زمانے کی نذر ہو گئے اور بوسیدہ ہو گئے اور ان پر تباہی و بربادی آئی، کہاں گئے وہ ملوک و سلاطین جنہوں نے زمین کو آباد کیا؟ وہ دور ہوئے، انہیں بھلا دیا گیا، اور بھلا دیے گئے جیسے تھے ہی نہیں۔ لیکن اللہ عزوجل نے ان پر تاوان باقی رکھا اور ان کی لذتوں کو ختم کر دیا۔ وہ چلے گئے ان کے اعمال ان کے ساتھ رہے، دنیا دوسروں کے ہاتھ آئی۔ ان کے بعد ہم بھیجے گئے۔ اگر ہم نے ان سے عبرت حاصل کی تو ہمیں نجات ملے گی اور اگر ہم ان کی ڈگر پر چلے تو ہمارا بھی انہی کی طرح انجام ہوگا۔ حسین چہرے والے اور اپنی جوانی پر ریجھنے والے کہاں ہیں؟ وہ مٹی میں مل گئے، انہوں نے جو کوتاہی کی وہ ان کے لیے حسرت بن گئی۔ کہاں گئے وہ سلاطین جنہوں نے شہر بسائے، انہیں فصیلوں کے ذریعہ سے محفوظ کیا اور ان کے اندر عجیب و غریب چیزیں بنائیں اور آخر میں اپنے بعد والوں کے لیے چھوڑ گئے، ان کے یہ محلات خالی پڑے ہیں اور وہ قبر کی تاریکیوں میں بسیرا کیے ہوئے ہیں۔

ارشاد الہٰی ہے:

وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا(سورۃ مریم: آیت 98)

ترجمہ: ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتیں تباہ کر دی ہیں، کیا ان میں سے ایک کی بھی آہٹ تو آپ پاتے ہیں یا ان کی آواز کی بھنک بھی آپ کان میں پڑتی ہے؟

کہاں گئے وہ لوگ جنہیں تم اپنے آباء و اجداد اور بھائیوں سے پہچانتے ہو؟ ان کی زندگیاں ختم ہو گئیں اور اپنے کیے کی طرف لوٹا دیے گئے اور موت کے بعد شقاوت یا سعادت کے لیے وہیں جا ٹھہرے۔ خبردار ہو جاؤ! اللہ کا کوئی شریک نہیں اللہ اور کسی مخلوق کے درمیان کوئی رشتہ و ناطہ نہیں، جس کی وجہ سے وہ اس کو خیر سے نوازے اور اس کی وجہ سے اس سے تکلیف دور کرے۔ صرف اس کی اطاعت اور اتباع کی اساس پر معاملہ ہوتا ہے۔ یاد رکھو! تم سب مقروض غلام ہو۔ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اس کی اطاعت ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کیا تمہارے لیے وہ وقت قریب نہیں آیا کہ جہنم تم سے دور ہو جائے اور جنت قریب ہو جائے؟

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 307 تاریخ الطبری: جلد 2 صفحہ 241، 245 الکتب العلمیۃ)