Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اس خطبہ کے اندر مختلف دروس وعبر ہیں

  علی محمد الصلابی

یہاں خلیفہ رسول کی طبعی حالت کو بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ اللہ کے خلیفہ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کے خلیفہ تھے، سیدنا ابوبکرؓ ایک بشر غیر معصوم تھے، رسول اللہﷺ کے مقام نبوت و رسالت کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اس لیے آپؓ اپنی سیاست میں متبع اور پیروکار تھے، مبتدع اور نئی راہ اختیار کرنے والے نہ تھے۔ یعنی آپؓ عدل و احسان کے ساتھ حکومت کرنے میں منہج نبوی پر قائم تھے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 423)

حاکم کی نگرانی کے سلسلہ میں امت کی ذمہ داری کو بیان کیا گیا تا کہ امت نیکی و احسان اور صلاح و تقویٰ میں حاکم کی مدد کرے اور اس کو نصیحت کرتی رہے تا کہ حاکم اتباع کے راستہ پر قائم رہے، ابتداع اور نئی راہ اختیار نہ کرے۔

یہ بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے امت کے درمیان عدل کو قائم رکھا، کسی پر ظلم نہ کیا، اسی لیے رسول اللہﷺ کے ذمہ کسی کا کوئی حق باقی نہ رہا، نہ چھوٹا نہ بڑا۔ اس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اسی منہج پر چلیں گے، عدل کو عام کریں گے، ظلم کو مٹائیں گے۔ لہٰذا امت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سیدنا ابوبکرؓ سے اس سلسلہ میں تعاون کرے اور جب کوئی آپؓ کو غصہ کی حالت میں دیکھے تو آپؓ سے اجتناب کرے تا کہ آپؓ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، جس سے نبی کریمﷺ کی اتباع کی مخالفت نہ ہو، جسے حضرت ابوبکر صديقؓ نے اپنی سیاست کا محور و مرکز قرار دیا ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 423)

اور شیطان جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لاحق ہوتا ہے وہ تمام کو لاحق ہوتا ہے، ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک قرین (ہمہ وقتی ساتھی) ملائکہ میں سے اور ایک قرین جن میں سے لگا دیا ہے۔

(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: محمد مال اللہ صفحہ 196)

اور شیطان انسان کے خون کے ساتھ دوڑتا ہے۔ 

چنانچہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

ما من احد الا وقد وکل بہ قرینہ من الملائکۃ وقرینہ من الجن قیل: وانت یا رسول اللہ؟ قال: وانا الا ان اللہ اعاننی علیہ فاسلم فلا یامرنی الا بخیر۔

ترجمہ: ہر ایک کے ساتھ ایک قرین (ہمہ وقتی ساتھی) ملائکہ میں سے اور ایک قرین جن میں سے لگا دیا گیا ہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپﷺ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: میرے ساتھ بھی، لیکن اللہ نے میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا۔ وہ مجھے بھلائی ہی کا حکم دیتا ہے۔

(مسلم: جلد 4 صفحہ 2167، 2168 صفات المنافقین: صفحہ 2814)

اور حدیث میں آیا ہے کہ ایک رات رسول اللہﷺ اپنی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے، ادھر سے بعض انصار کا گزر ہوا تو آپﷺ نے ان سے فرمایا: ذرا ٹھہرو یہ صفیہ بنت حی ہیں۔ پھر آپﷺ نے بتلایا:

انی خشیت ان یقذف الشیطان فی قلوبکما ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم۔

ترجمہ: میں ڈرا کہ کہیں شیطان تمہارے دلوں میں شک و شبہ نہ پیدا کر دے، کیونکہ شیطان انسان کے خون کے ساتھ دوڑتا ہے۔

(البخاری: بدء الخلق جلد 4 صفحہ 124)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اس بیان سے یہ مقصود ہے کہ میں معصوم نہیں ہوں، معصوم صرف رسول اللہﷺ تھے اور یہ بالکل حق ہے۔

(حضرت ابوبکر الصدیقؓ: محمد مال اللہ: صفحہ 197)

اس خطاب کے ذریعہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو وعظ فرمایا اور موت اور گزشتہ ملوک و سلاطین کے حالات یاد دلائے اور عمل صالح پر ابھارا تا کہ اللہ کی ملاقات کے لیے تیار رہیں اور اپنی زندگی میں منہجِ الہٰی پر ثابت رہیں۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 423)

یہاں ہم اس بات کو اچھی طرح ملاحظہ کر رہے ہیں کہ آپؓ نے اپنی قوت بیان کو امت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا، آپ نبی کریمﷺ کے فصیح ترین خطباء میں سے تھے۔ استاذ عقاد فرماتے ہیں: آپؓ کا کلام اخلاق و حکمت کے میزان میں سب سے زیادہ وزنی ہے۔ آپؓ نے مواقع کلام سے متعلق نادر مثالیں چھوڑی ہیں، ان میں سے ایک مثال ہی کافی ہے جو آپؓ کے اس ملکہ پر دلالت کرتی ہے، زیادہ کی ضرورت نہیں۔ جس طرح ایک ہی پھول پورے گلشن سے کافی ہے، اسی طرح ان کی ایک بات کا سن لینا ہی ان کی ذات و فکر میں موجود حکمت کے خزانوں کا پتہ دیتا ہے۔ جیسے آپؓ کا یہ ارشاد: موت کے حریص بنو زندگی ملے گی یا یہ قول: سب سے بڑی سچائی امانت ہے اور سب سے بڑا جھوٹ خیانت ہے۔ صبر نصف ایمان ہے، یقین پورا ایمان ہے۔ یہ تمام کلمات جس طرح بلاغت اور حسن تعبیر سے پر ہیں اسی طرح اعتدال و میانہ روی سے لبریز ہیں اور اس سر چشمہ کا پتا دیتے ہیں جہاں سے یہ نکلے ہیں۔ یہ انسان کو موجودہ ثقافت کے نشان سے بے نیاز کر دیتے ہیں جس کو جمع کرنے میں لوگ لگے ہوئے ہیں، اس لیے کہ حقیقی فہم ہی ثقافت کا مقصود و مغز ہوا کرتا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جس طرح کلام میں بلاغت پر عبور تھا اسی طرح خطابت میں بھی لیاقت حاصل تھی۔

(عبقریۃ الصدیق: صفحہ 139)