شیعہ علماء کی قرآن میں کمی بیشی اور تحریف کے عقیدہ کی…

شیعہ علماء کی قرآن میں کمی بیشی اور تحریف کے عقیدہ کی ابتداء کس طرح شروع ہوئی؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 3
یہ ابو عبد اللہ سے یہ روایت نقل کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا بے شک وہ قرآن جسے جبرائیل محمدﷺ پر لے کر نازل ہوا تھا اس کی سترہ ہزار آیات تھیں۔
(اصول الكافی: جلد، 2 صفحہ، 826 كتاب فضل القرآن، ح، 29 باب النوادر اہلِ سنت کے قرآن کی آیات کی تعداد 6236 ہے لہٰذا زائد کتنے ہزار ہوئے، شمار کر لیں)۔
5: پانچواں عالم علی بن احمد ابو القاسم الکوفی (متوفی 352ھ) نے اپنی کتاب الاستغاثہ میں شیعہ فرقہ کے اس اجماع پر یہ گواہی دی ہے کہ قرآن مجید میں تحریف کر دی گئی ہے۔
وہ کہتا ہے اہلِ قبلہ و آثار کے خواص و عوام کا اجماع ہے کہ یہ قرآن جو عوام کے ہاتھوں میں موجود ہے وہ پورا قرآن نہیں ہے۔ اور قرآن سے وہ چیز ختم کر دی گئی ہے جو کہ اب لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہے یہ اس کے ملحقات ہیں۔ اس لیے ہم کہتے ہیں اس قرآن میں کچھ ایسی چیزیں تھیں جو عثمانؓ کو ناپسند تھیں اس لیے اس نے اسے لوگوں سے لیکر ختم کر دیا۔ اس کی اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ کے ساتھ دشمنی پر یہی گواہی کافی ہے۔
(الاستغاثة فی بدع الثلاثة: جلد، 1 صفحہ، 92 فصل الخطاب: صفحہ، 26)
6: چھٹا عالم فرات بن ابراہیم الکوفی (متوفی 352ھ) ہے یہ سیدنا ابو جعفر باقرؒ پر جھوٹ گھڑتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ نے فرمایا یہ آیت رسول اللہﷺ پر اس طرح نازل ہوئی تھی:
(بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بَغۡيًا) (فی على)
(سورۃ البقرہ: آیت، 90)
(تفسير الفرات الكوفی: صفحہ، 60 ح، 23)
ترجمہ: وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنے نفس بیچ دیے یہ کہ وہ اس چیز کا انکار کرتے ہیں جو اللہ نے نازل کی، صرف اس حسد کی بناء پر (علی کے بارے میں)۔
7: ساتواں عالم محمد بن ابراہیم نعمانی (توفی 380ھ) ہے: یہ اصبغ بن نباتتہ سے من گھڑت روایت نقل کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے سیدنا علیؓ کو سنا وہ فرما رہے تھے گویا کہ میں کوفہ کی مسجد میں عجمی لوگوں کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوں، وہ لوگوں کو قرآن ایسے سکھا رہے ہیں جیسے وہ نازل کیا گیا تھا۔ میں نے کہا اے امیر المؤمنین! کیا یہ قرآن ویسے نہیں جیسے نازل کیا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، اس قرآن سے ستر قریشیوں اور ان کے آباء کے نام حذف کر دیے گئے ہیں اور ابو لہب کا نام صرف رسول اللہﷺ کی توہین کے لیے باقی رکھا گیا ہے کیونکہ وہ آپ کے چچا تھے۔
(الغيبة: صفحہ، 333، حدیث نمبر: 5 باب، 21، ما جاء فی ذكر أحوال الشيعة عند خروج القائم عليه السلام مستدرك سفينة البحار: جلد، 7 صفحہ، 108)
8: آٹھواں عالم محمد بن النعمان الملقب بالمفید: (متوفی 413ھ) اس نے اپنی کتاب اوائل المقالات صفحہ، 46 میں اس کفر پر اپنے شیوخ کا اجماع نقل کرتے ہوئے کہتا ہے:
امامیہ فرقہ کے ائمہ کا اجماع ہے کہ گمراہ ائمہ۔
(شیعہ گمراہ ائمہ سے مراد کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لیتے ہیں) نے قرآن جمع کرنے میں بہت ساری چیزوں کی خلاف ورزی کی اور اسے مؤجب تنزیل اور سنتِ نبوی سے تبدیل کر کے پیش کیا۔ معتزلہ خوارج زیدیہ مرجئہ اور محدثین کا ہمارے ذکر کردہ امور میں امامیہ کے خلاف اجماع ہے۔
(أوائل المقالات: صفحہ، 46 القول فی الرجعة والبداء و تأليف القرآن)
تنبیه: شیعہ علماء اپنے ائمہ کا ذکر کرتے ہوئے ع لکھتے ہیں جو یہ علیہ السلام کا اختصار بنا رکھا ہے انہوں نے بغیر کسی دلیل کے اسے سیدنا علیؓ اور اپنے دوسرے ائمہ کے لیے مخصوص کر لیا ہے، اور وہ ص کا حرف ﷺ کے اختصار کے طور پر لکھتے ہیں جو کہ نبی کریمﷺ کے حق میں کوتاہی شمار ہوتی ہے۔
اس نے اپنی کتاب الارشاد میں ایک اور بات بھی گھڑلی ہے۔ کہتا ہے سیدنا ابو جعفرؒ نے فرمایا ہے:
جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ خیمے نصب کرے گا جہاں پر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا قرآن سکھایا جائے گا۔ اور آج کے قرآن کی نسبت اس کا حفظ کرنا بہت مشکل ہو گا کیونکہ اس کی تالیف اس سے مختلف ہے۔
(الإرشاد: صفحہ، 365 فی ذكر قيام القائم، بحار الأنوار: جلد، 57 صفحہ، 339 ح، 85)
9: نواں عالم: ان میں الاحتجاج کا مؤلف الطبرسی بھی شامل ہے۔
(الاحتجاج: جلد، 1صفحہ، 153 أصول الكافی: جلد، 2 صفحہ، 634 فصل الخطاب: صفحہ، 31)
10: دسواں عالم: نعمت الله الجزائری (متوفی 1112ھ) ہے، یہ کہتا ہے ہمارے اصحاب و مشائخ نے اصولِ حدیث کی اور دوسری کتب میں اتنی تعداد میں روایت کیا ہے کہ یہ بات متواتر کی حد کو پہنچتی ہے کہ: قرآن میں تحریف کی گئی ہے۔ اس میں سے بہت ساری چیزیں کم کر دی گئی ہیں اور (بہت) کچھ اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔
(نور البراہين و أنيس الوحيد فی شرح التوحيد: جلد، 1 صفحہ، 526 للجزائری)
11: گیاہواں عالم: ابوالحسن العاملی (متوفی 1140ھ) ہے یہ کہتا ہے:
جان لو کہ وہ حق جس سے درج ذیل متواتر اخبار اور دیگر روایات کی بناء پر فرار ممکن نہیں، وہ یہ ہے کہ وہ قرآن جو ہمارے پاس آج موجود ہے؟ اس میں رسول اللہﷺ کے بعد کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جنہوں نے آپ کے بعد اسے جمع کیا انہوں نے بہت سارے کلمات اور آیات اس سے نکال دی ہیں۔ اور وہ قرآن جو نازل ہونے کی شکل میں محفوظ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کلام کے موافق ہے اور جسے سیدنا علیؓ نے جمع کیا تھا وہ آپ کے بعد آپ کے بیٹے سیدنا حسنؓ کے ہاتھ آیا پھر وہاں سے قائم تک پہنچا اور آج اس کے پاس محفوظ ہے۔
(مرأة الأنوار: صفحہ، 62 المقدمة الثانية: فی بيان ما يوضح وقوع بعض تفسير فی القرآن۔ ) اور ایک شیعہ عالم ہاشم بن سلیمان البحرانی الکتکانی نے کہا ہے یہ بات جان لے کہ بلاشبہ یہ قرآن جو ہمارے ہاتھوں میں ہے یقیناً ان میں رسول اللہﷺ کے بعد کچھ تغیرات رونما ہوچکے ہیں اور جن لوگوں نے اسے آپﷺ کے بعد جمع کیا ہے انہوں نے بہت سے الفاظ اور آیات کو اس سے ساقط کر دیا ہے۔ مقدمہ تفسیرہ: صفحہ، 36 مترجم)
تیرہویں صدی ہجری کے آخر میں شیعہ کی عظیم ذلت و رسوائی:
تیرہویں صدی ہجری کے آخر میں شیعہ شیخ الشیوخ حسین نوری طبری (متوفی 1320ھ) نے اس کفر کے بارے میں شیعی شیوخ کے اعتقاد پر مشتمل ایک ضخیم کتاب لکھی اور اس کا نام فصل الخطاب فی اثبات تحريف كتاب رب الأرباب رکھا یعنی پروردگار عالم کی کتاب میں تحریف کا فیصلہ کن ثبوت۔
صفحہ 2 از 3