شیعہ علماء کی قرآن میں کمی بیشی اور تحریف کے عقیدہ کی…

شیعہ علماء کی قرآن میں کمی بیشی اور تحریف کے عقیدہ کی ابتداء کس طرح شروع ہوئی؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 3 از 3
یہ بڑے میاں اس کتاب کے مقدمہ میں لکھتا ہے: یہ انتہائی لطیف کتاب اور عمدہ تحریر ہے، جسے میں نے قرآن میں تحریف ثابت کرنے کے لیے لکھا ہے میں نے اس میں نے ظالم اور سرکش لوگوں کی رسوائی کو طشت ازبام کیا ہے۔ اور میں نے اس کا نام رکھا ہے 
فصل الخطاب فی اثبات تحريف كتاب رب الأرباب۔ 
اس میں میں نے تین مقدمات تحریر کئے ہیں اور دو باب ہیں۔ اور اس میں میں نے حکمت کی ایسی باتیں جمع کی ہیں جن سے ہر ایک کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ اور میں اس ذات سے امید کرتا ہوں جس کی رحمت سے گنہگاروں کو امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ یہ کتاب مجھے اس دن کام آئے جس دن نہ ہی مال فائدہ دے گا اور نہ ہی اولاد۔ 
(فصل الخطاب فی تحریف کتاب رب الارباب: صفحہ،1)
اس طرح یہ کتاب تا قیامت شیعہ کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث بن گئی۔

صفحہ 3 از 3