Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لشکر اسامہ کی روانگی سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی گفتگو

  علی محمد الصلابی

بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے لشکر اسامہ کے سلسلہ میں اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا: آپؓ کو معلوم ہے کہ اکثر مسلمان اور عرب آپؓ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، لہٰذا یہ مناسب نہیں کہ آپؓ مسلمانوں کی جماعت کو اپنے سے جدا کریں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 308)

اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جرف میں اپنی لشکر گاہ میں سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لوگوں کے ساتھ مدینہ لوٹ آنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے بھیجا اور کہا: میرے ساتھ مسلم قائدین اور ان کی اکثریت موجود ہے اور مجھے خلیفہ رسول، حرم رسول اور مسلمانوں کے سلسلہ میں مشرکین سے خطرہ لاحق ہے۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 226)

لیکن حضرت ابوبکرؓ نے اس کی مخالفت کی اور لشکر اسامہ کو شام کی مہم پر روانہ کرنے کے سلسلہ میں اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ احوال و ظروف اور نتائج کیسے بھی ہوں، سیدنا اسامہؓ اور دیگر قائدین جنگ، خلیفہ کی اپنی رائے پر اصرار سے مطمئن نہ ہوئے اور متعدد طریقوں سے اس بات کی کوشش کی کہ خلیفہ کو اپنی رائے پر مطمئن کر سکیں۔ جب خلیفہ سے اس طرح کے مطالبات بڑھ گئے تو آپؓ نے اس موضوع پر بحث و گفتگو کے لیے مہاجرین و انصار کی عام مجلس بلائی اور اس اجتماع میں مختلف پہلوؤں سے اس موضوع پر طویل گفتگو ہوئی۔ لشکرِ اسامہ کی روانگی کے سب سے بڑے مخالف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ وہ ایسی صورت میں خلیفہ، ازواج مطہرات، مدینہ اور اس کے باشندگان کے لیے سخت خطرہ محسوس کر رہے تھے کہ کہیں مشرکین اور مرتدین چڑھ نہ دوڑیں اور کہیں ان پر قابض نہ ہو جائیں اور جب عمائدین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس سلسلہ میں خلیفہ پر زور دیا اور ان عظیم خطرات کا خوف دلایا جو لشکر اسامہ کی روانگی سے پیدا ہو سکتے تھے تو آپؓ نے لوگوں کے مشورے سنے، انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دیا، ان سے وضاحت طلب کی۔

(الشوری بین الأصالۃ والمعاصرۃ: عزالدین التمیمی: صفحہ 82، 83)

پھر آخر میں سیدنا ابوبکرؓ نے مجلس برخاست کرنے کا حکم دے دیا۔

(ملامح الشوری فی الدعوۃ الاسلامیۃ، عدنان النحوی: صفحہ 257)

پھر مسجد میں دوسرا عام اجتماع منعقد کیا اور اس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مہم کے عدم نفاذ کو بھول جائیں جسے رسول اللہﷺ نے خود تیار کیا ہو، اور انہیں آپؓ نے خبر دی کہ وہ اس منصوبہ کو عنقریب نافذ کر کے رہیں گے۔ اگرچہ اس تنفیذ کے نتیجہ میں مرتدین مدینہ پر قابض ہو جائیں۔

(الشوری بین الأصالۃ والمعاصرۃ: صفحہ 38)

آپؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یہ یقین ہو کہ درندے مجھے نوچ کر کھائیں گے تب بھی میں لشکر اسامہ کو بھیج کر رہوں گا جیسا کہ رسول اللہﷺ کا حکم ہے، اگر بستی میں میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں اس کو ضرور نافذ کروں گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 45)

جی ہاں! لشکرِ اسامہ کو اس کی مہم پر بھیجنے کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا عزم بالکل صحیح تھا اگرچہ یہ تمام مسلمانوں کی رائے کے خلاف تھا کیونکہ لشکر اسامہ کو بھیجنے کے لیے رسول اللہﷺ کا حکم موجود تھا اور بعد کے حالات و واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے درست تھی اور آپؓ کی قرارداد صحیح تھی، جس کی تنفیذ کا سیدنا ابوبکرؓ نے عزم کر رکھا تھا۔

(الشوری بین الاصالۃ والمعاصرۃ: صفحہ 83)

انصار کا مطالبہ تھا کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ عمر والے شخص کو امیر الجیش بنایا جائے، انہوں نے سیدنا عمر فاروقؓ کو اس سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کے لیے روانہ کیا۔ سیدنا عمرؓ نے آپؓ سے عرض کیا کہ انصار اسامہ سے زیادہ عمر والے شخص کو امیر الجیش مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپؓ بیٹھے ہوئے تھے اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑ لی اور فرمایا: خطاب کے بیٹے! اسامہ کو رسول اللہﷺ نے امیر مقرر فرمایا ہے اور تم مجھے حکم دے رہے ہو کہ میں اسے معزول کر دوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر لوگوں کے پاس آئے، لوگوں نے دریافت کیا: کیا ہوا؟ فرمایا: چلے جاؤ، تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، تمہارے سلسلہ میں خلیفہ رسول سے کچھ نہیں ملا۔

(تاریخ الطبری: جل، 4 صفحہ 46)

پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے اور لشکر کے پاس پہنچے، ان کو روانہ کیا اور الوداع کرنے کے لیے ان کے ساتھ چلے۔ حضرت اسامہؓ سوار تھے اور آپؓ پیدل چل رہے تھے اور حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ آپؓ کی سواری لے کر چل رہے تھے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: خلیفہ رسول! یا تو آپؓ سوار ہو جائیں ورنہ میں اتر جاتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: واللہ نہ آپؓ سواری سے اتریں گے اور نہ میں سوار ہوں گا۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ میں اپنے قدم اللہ کی راہ میں گرد آلود کروں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپؓ مناسب سمجھیں تو سیدنا عمرؓ کو میرے تعاون کے لیے چھوڑ جائیں۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرؓ کو اجازت دے دی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

پھر سیدنا ابوبکرؓ فوج کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! ٹھہرو، میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں اسے یاد کر لو: خیانت نہ کرنا، مال غنیمت مت چھپانا، غداری نہ کرنا، لاشوں کا مثلہ نہ بنانا، پھل دار درختوں کو مت کاٹنا، بکری، گائے، اونٹ کو مت ذبح کرنا، مگر یہ کہ کھانے کی ضرورت ہو، اور عنقریب ایسے لوگوں کے پاس سے تمہارا گزر ہو گا جو گرجا گھروں میں مشغول عبادت ہوں گے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دینا، اور عنقریب تمہارا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہو گا جو تمہارے سامنے انواع و اقسام کے کھانے پیش کریں گے، اس میں سے جو چیز بھی کھاؤ اس پر بسم اللہ کہو، اور تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو اپنے سر کے بال درمیان سے صاف کیے ہوں گے اور چاروں طرف بال چھوڑے ہوں گے جیسے اس پر پٹی بندھی ہوئی ہو، ان کو تلوار سے اڑا دینا، اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

آپؓ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ کے اوامر کو نافذ کرنے کی وصیت فرمائی، فرمایا: تم وہی کرنا جس کا تمہیں رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔ قضاعہ کے علاقہ سے شروع کرو۔(اردن کے جنوب میں ایک دن کے فاصلے پر واقع ہے)

آبل پہنچو اور رسول اللہﷺ کے کسی حکم میں کوتاہی ہرگز نہ کرنا اور جس عہد میں تاخیر ہو گئی ہے جلد بازی مت کرنا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 47)

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر روانہ ہو گئے اور قضاعہ کے قبائل میں پہنچے، جہاں رسول اللہﷺ نے شہسواروں کے پھیلا دینے کا حکم دیا تھا اور آپؓ کے حکم کے مطابق آبل پر حملہ کیا، فتح یاب ہوئے اور مال غنیمت حاصل کیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 47)

 اس مہم پر آنے جانے میں چالیس روز لگے۔

(تاریخ الطبری:جلد 4 صفحہ 47 تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 101)

ہرقل کو رسول اللہﷺ کی وفات اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے حملے کی خبر ایک ساتھ پہنچی۔ رومی کہنے لگے یہ کیسے لوگ ہیں؟ ایک طرف تو ان کا نبی فوت ہو رہا ہے پھر بھی یہ ہمارے ملک پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

(عہد الخلفاء الراشدین للذہبی: صفحہ، 20)

اور عرب کہنے لگے: اگر مسلمانوں کے پاس قوت نہ ہوتی تو یہ لشکر روانہ نہ کرتے

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: د/ فضل الٰہی صفحہ، 14)

اور وہ اپنے بہت سے عزائم سے باز آ گئے۔

(الکامل لابن اثیر: جلد، 2 صفحہ، 227)