عصاء رسولﷺ کس نے توڑا؟ حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ پر…

عصاء رسولﷺ کس نے توڑا؟ حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ پر الزام کا جواب

  محمد عدنان چشتی عطاری مدنی

صفحہ 1 از 3

عصائے رسولﷺ‎ کس نے توڑا؟

بعض کتابوں میں امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام کا ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے نبی پاکﷺ‎ کا مبارک عصا ہاتھ میں لیے جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اس نے نہ صرف حضرت عثمانِ غنیؓ سے ناروا سلوک کیا بلکہ نبیﷺ‎ کا عصا مبارک چھین کر اپنے گھٹنے پر مار کر توڑ دیا (العیاذ باللہ) عصا مبارک کی بے ادبی کی وجہ سے اس کے گھٹنے پر ایک پھوڑا نکل گیا جس کی وجہ سے وہ مر گیا۔ یاد رہے یہ وہی عصا مبارک تھا جسے سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ بھی خطبے کے دوران ہاتھ میں لیا کرتے تھے۔
(الکامل فی التاريخ: جلد، 3 صفحہ، 58 ملخصاً)
تاریخ کی بعض کتابوں میں حضرت جہجاہ بن سعید غفاریؓ کے تذکرے کے تحت مذکورہ بالا واقعہ بھی ذکر ہو گیا ہے، جس سے اس بات کا گمان ہوتا ہے کہ عصائے رسول توڑنے کا معاملہ بھی آپؓ سے ہوا تھا، حالانکہ یہ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا یاد رہے محض گمان خیال اور اندازے کی بنیاد پر کوئی بھی خلافِ شرع بات کسی بھی مؤمن مسلمان کی طرف منسوب کرنا درست نہیں چہ جائیکہ کوئی خلافِ شرع کام کسی صحابی رسولﷺ‎ کے ذمے لگادیا جائے۔
اللہ پاک کے فضل و کرم اور نبی کریمﷺ‎ کی نظر عنایت کے صدقے بیعتِ رضوان میں شریک صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ کی سیرت پر کام کے دوران درجنوں کتب سیرت و تاریخ کے مطالعے سے یہ بات روشن و عیاں ہوئی کہ عصا مبارک توڑنے کی نسبت صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ کی طرف کرنا درست نہیں کیونکہ یہ ناموسِ صحابیت کے ساتھ ساتھ تحقیق کے بھی خلاف ہے جیسا کہ ذیل میں اس کی تفصیلی وضاحت موجود ہے:
پہلے وہ حوالہ جات ملاحظہ فرمایئے جن سے پتہ چلتا ہے کہ عصاۓ رسول توڑنے والے سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ نہیں ہیں چنانچہ
1: علامہ مطہر بن طاہر مقدسیؒ (وفات:355ھ) لکھتے ہیں:
ثم قام الجهجاه بن سنام الغفاری فأخذ القضيب من يده وكسرها الخ۔
یعنی پھر جہجاہ بن سنام غفاری اٹھا اس نے عصا چھین کر توڑ دیا۔
(البدء والتاریخ: جلد 5 صفحہ 205)
مقدور بھر کوشش کے باوجود جہجاہ بن سنام غفاری کا صحابی ہونا معلوم نہ ہو سکا۔
2: علامہ اسماعیل بن محمد اصبہانیؒ (وفات:535ھ) لکھتے ہیں:
روي عن ابنِ عمرؓ أن رجلًا يقال له جهجاه أو ابنِ جهجاهؓ أخذ عصى كانت في يد عثمانؓ فكسرها على ركبته فأصيب فی ذلك الموضع الأكلة۔
ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ ایک آدمی جسے جہجاہ یا ابنِ جہجاہ کہا جاتا تھا نے سیدنا عثمانِ غنیؓ کے ہاتھ سے عصا لے کر توڑ دیا۔ الخ 
(سیر السلف الصالحین: صفحہ، 184 دار الراية للنشر والتوزيع، الرياض)
امام اصبہانیؒ کی عبارت بتاتی ہے کہ اس شخص کو جہجاہ یا ابنِ جہجاہ کہا جاتا تھا غور کیا جاۓ تو واضح ہے کہ صرف جہجاہ کہنے سے صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ کی ذات ہی مراد لینا بغیر کسی دلیل کے ہے کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ جہجاہ نامی یہ شخص کوئی اور ہے نیز ابنِ جہجاہ کے الفاظ بھی صحابی رسول مراد لینے سے منع کر رہے ہیں نیز مشہور قاعدہ ہے کہ: اذا جاء الاحتمال فبطل الاستدلال۔
کہ جب احتمال آ جائے تو استدلال باطل ہو جاتا ہے۔
لہٰذا قاعدے کے مطابق صحابی رسول کی جانب نسبت میں شک آ گیا اس لیے یقین سے ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ عصا توڑنے والا کام صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ نے کیا ہے۔
3: علامہ عبد الملک بن حسین شافعی مکیؒ (وفات: 1111ھ) اس واقعے کو یوں بیان فرماتے ہیں:
ولما أخذت من يد عثمانؓ العصا وهو قائم يخطب وكان الأخذلها جهجاه بن عمرو الغفاری وكسرها بركبته وقعت الآكلة فی ركبته والعياذ بالله تعالیٰ۔
ترجمہ: یعنی جہجاہ بن عمر و غفاری نے عصا لے کر توڑ دیا الخ۔
(سمط النجوم العوالی: جلد، 2 صفحہ، 525)
کوشش کے باوجود جہجاہ بن سنام اور جہجاہ بن عمرو کے بارے میں کسی بھی محدث کا یہ قول نہیں ملا کہ کسی صحابی رسول کا نام جہجاہ بن عمر و یا جہجاہ بن سنام ہو۔ اس لیے صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ کی طرف یقین کے ساتھ اس معاملے کی نسبت نہیں کی جا سکتی۔
4: امام محمد بن احمد مغربی افریقیؒ (وفات: 333ھ ) اس واقعے کو یوں ذکر فرماتے ہیں:
قال وحدثنی عمر بن يوسف قال حدثنی إبراهيم بن مرزوق قال حدثنی عارم عن حماد بن زيد عن يزيد بن حازم عن سليمان بن يسار أن رجلا يقال له جهجاه من غفارؓ دخل على عثمانؓ ومعه عصا رسول اللهﷺ‎ فأخذها الغفاریؓ فكسرها علی ركبتيه فوقعت الأكلة فی ركبتيه۔
ترجمہ: یعنی سیدنا سلیمان بن یسارؓ فرماتے ہیں کہ قبیلہ غفار کا ایک آدمی جسے جہجاہ کہا جاتا تھا سیدنا عثمانِ غنیؓ کے پاس اس وقت آیا جب آپؓ کے پاس رسول اللہﷺ‎ کا عصا مبارک تھا تو اس غفاری نے سیدنا عثمانِ غنیؓ سے عصا چھین کر اپنے گھٹنے پر مار کر توڑ دیا جس سے اس کے گھٹنے پر پھوڑا ہو گیا۔
( کتاب المحن: صفحہ، 86)
قارئین کرام غور فرمائیے! أن رجلا يقال له جهجاه من غفار۔
ذکر کردہ عبارت کا اسلوب اور رجلا کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہ جہجاہ کوئی غیر معروف شخص تھا نیز اس عبارت سے کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتا کہ اس سے صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ مراد ہیں۔ یہی حال امام ابوبکر ابنِ ابی شیبہؒ کی نقل کردہ روایت کا ہے جیسا کہ ذکر فرماتے ہیں:
حدثنا ابنِ إدريس، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع أن رجلا يقال له جهجاه تناول عصى كانت فی يد عثمانؓ فكسرها بركبته، فرمى من ذلك الموضع باكلة۔
(مصنف ابنِ ابی شیبہ: جلد، 17 صفحہ، 79 حدیث: 32698)
یہی سند اور أن رجلاً يقال له جھجاہ کے الفاظ امام آجریؒ نے بھی نقل فرماۓ ہیں۔
(الشریعۃ: جلد، 4 صفحہ، 1998 حدیث: 1469)
5: امام ابنِ ابی الدنیاؒ یہ واقعہ یوں ذکر فرماتے ہیں:
حدثنا عبدالله قال: حدثنا أحمد بن المقدام قال: أخبرنا حماد بن زيد، عن زيد بن حازم، عن سليمان بن يسار، أن رجلا، من غفار يقال له: جهجاه، أوجهجا الغفاری، دخل على عثمانؓ، فانتزع عصاكانت فی يده فكسرها على ركبته فوقعت الأكلة فی ركبته۔
ترجمہ: یعنی غفار کا ایک آدمی جسے جہجاہ یا جہجا غفاری کہا جاتا تھا الخ۔
صفحہ 1 از 3