عصاء رسولﷺ کس نے توڑا؟ حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ پر…

عصاء رسولﷺ کس نے توڑا؟ حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ پر الزام کا جواب

  محمد عدنان چشتی عطاری مدنی

صفحہ 2 از 3
(العقوبات، صفحہ 212، رقم: 335)
5: امام مجد الدین فیروز آبادیؒ اپنی کتاب میں جہجاہ غفاری کے بارے میں لکھتے ہیں:
وجهجاه الغفاری: ممن خرج على عثمانؓ، كسر عصا النبیﷺ‎، بركبته، فوقعت الأكلة فيها۔
یعنی جہجاہ غفاری وه ہے کہ جس نے سیدنا عثمانؓ کے خلاف بغاوت کی ، نبی پاکﷺ‎ کا عصا اپنے گھٹنے پر مار کر توڑ دیا۔ الخ۔
القاموس المحيط: جلد، 2 صفحہ، 1635)
6: امام ابنِ اثیر جزریؒ (وفات:630ھ) نے ان الفاظ سے اس بات کو بیان فرمایا ہے:
قيل:وخطب يوما وبيده عصاكان النَّبِیﷺ وأبو بکرؓ و عمرؓ يخطبون عليها فأخذها جهجاه الغفاری من يده و كسرها على ركبته، فرمی فی ذلك المكان بأكلة۔
(الكامل فی التاريخ: جلد، 3 صفحہ، 58)
اس عبارت سے بھی یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ نے یہ کام کیا ہو کیونکہ عبارت پر غور کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ
1: قیل کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس کا قائل معلوم نہیں جو کہ بے سند ہونے کی دلیل ہے۔
2: صرف جہجاہ غفاری کہنے سے صحابی رسول ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ جہجاہ بن سنام اور جہجاہ بن عمرو نیز ابنِ جہجاہ کا نام بھی ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔ صحابی رسول کا عظیم وصف بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بے سند بات کے ذریعے ایسے کام کی نسبت ان کی جانب نہ کی جائے جو ان کے شایانِ شان نہیں۔
3: صرف نام میں یکسانیت یا قدرے مماثلت کی بناء پر ایک کے کام کی نسبت دوسرے کی جانب ہو جانے کی کئی مثالیں موجود ہیں جیسے بدری صحابی سیدنا ثعلبہؓ سے نام میں یکسانیت کی وجہ سے زکوٰۃ کے انکار کے واقعے کی نسبت بہت سی کتابوں میں انہی جنتی صحابی کی طرف ہو گئی ہے جو کہ ہرگز درست نہیں۔
7: امام عمر بن شبہ بصریؒ (وفات:262ھ) لکھتے ہیں:
حدثنا موسىٰ بن إسماعيل، قال: حدثنا يوسف بن الماجشون، قال: أخبرنی عتبة بن مسلم المدنی أن آخر خرجة خرجها عثمانؓ يوم جمعة وعليه حلة جبرة مصفرا رأسه ولحيته بورس، قال: فما خلص إلى المنبر حتىٰ ظن أن لن يخلص، فلما استوى على المنبر حصبه النّاس، وقام رجل من بنی غفار يقال له: الجهجاه فقال: والله لنغر بنك إلى جبل الدخان، فلمانزل جيل بينه وبين الصلاة، فصلى للنّاس أبو أمامة بن سهل بن حنيف۔
(تاريخ المدينة لابنِ شبة: جلد، 3 صفحہ، 1110)
اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس سے صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ کی تعیین کسی طرح بھی درست نہیں کیونکہ جہجاہ سے صحابی رسول مراد لینے پر عبارت میں کوئی دلیل نہیں بلکہ
رجل من بنج غفار يقال له: الجهجاة۔
کے الفاظ بتارہے ہیں کہ یہ کام کرنے والا کوئی غیر معروف شخص تھا۔
8: حضرت امام شمس الدین ذہبیؒ لکھتے ہیں:
وقال سليمان بن يسار: أخذ جهجاه الغفاری عصا عثمانؓ التی كان يتحضر بها، فكسرها على ركبته، فوقعت فی ركبته الأكلة۔
(تاريخ الاسلام: جلد، 3 صفحہ، 474)
امام ذہبیؒ نے یہاں حضرت سلیمان بن یسارؒ کا قول نقل فرمایا ہے اس میں بھی جہجاہ غفاری کے الفاظ ہیں جس سے صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ مراد لینا درست نہیں پھر بھی اگر کوئی اس سے صحابی رسول ہی مراد لے تو عرض ہے کہ اس بات کو بیان کرنے والے حضرت سلیمان بن یسارؒ کے بارے میں امام ذہبیؒ خود فرماتے ہیں:
ولد فی خلافة عثمانؓ.
یعنی آپ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی خلافت میں پیدا ہوئے۔
(سیر اعلام النلا: صفحہ، 4)
امام ابنِ حبانؒ (وفات:354ھ) حضرت سلیمان بن یسارؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
كان مولده سنة أربع و ثلاثین۔
یعنی آپ کی ولادت 34ھ میں ہوئی۔
(مشاحر علاء الأمصار: صفحہ، 84 رقم: 432)
جب کہ سیدنا عثمانِ غنیؒ کی شہادت مبارک 18 ذوالحجۃ الحرام 35 سن ہجری میں ہوئی۔
(المنتظم: جلد، 5 صفحہ، 58)
اس طرح سیدنا عثمانِ غنیؒ کی شہادت کے وقت حضرت سلیمان بن یسارؒ کی عمر ایک سال تھی اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ معاملہ آپ نے خود نہیں دیکھا بلکہ کسی نے آپ کو بتایا تھا وہ بتانے والا کون تھا؟ ثقہ یا غیر ثقہ کچھ معلوم نہیں۔
نوٹ: یاد رہے حضرت سلیمان بن یسارؒ سے ذکر کردہ تمام روایات میں یہ احتمال بہر حال موجود رہے گا۔
9: البدایہ و النہایہ میں یہ واقعہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے:
قال الواقدی : حدثنی أسامة ابنِ زيد عن يحيىٰ بن عبد الرحمٰن بن خاطب عن أبيه قال: بينا أنا أنظر إلى عثمان يخطب على عصا النَّبِیﷺ التی كان يخطب عليها وأبو بکرؓ و عمرؓ، فقال له جهجاه: قم يانغثل فانزل عن هذا المنبر و أخذ العصا فكسرها على ركبته اليمنى فدخلت شظية منها فيها فبقی الجرح حتىٰ أصابته الأكلة فرأيتها ندود، فنزل عثمانؓ وحملوه وأمر بالعصا فشدوها۔
(البداية والباية: جلد، 5 صفحہ، 260)
اس عبارت میں بھی صرف جہجاہ کے الفاظ ہیں جس سے صحابی رسول سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ کی تعیین درست نہیں کیونکہ جہجاہ سے صحابی رسول مراد لینے پر عبارت میں کوئی دلیل نہیں۔
10: امام عمر بن شبہ بصریؒ (وفات:262ھ) نے اس واقعے کو اپنی کتاب تاریخ المدینہ میں چار سندوں سے ذکر کیا ہے:
ایک روایت سات نمبر کے تحت گزری جس میں یہ الفاظ ہیں:
وقام رجل من بنی غفار يقال له :الجهجاه،
دوسری روایت میں یہ: أن جهجاة الغفاری،
تیسری میں یہ: آن جهجاها
جب کہ چوتھی روایت میں یہ الفاظ ہیں: وقام جهجاه بن سعد الغفاری وكان متن بايع تحت الشجرة۔
پہلی تین روایات کی تو پہلے حوالوں جیسی کیفیت ہے کہ جہجاہ اور ایک شخص جسے جہجاہ کہا جاتا تھا سے صحابی رسول مراد لینے پر کوئی دلیل نہیں البتہ چوتھی روایت کے ذریعے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کام صحابی رسول نے ہی کیا ہے اس کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے:
1: اس روایت کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن مصعب ہے اس کے بارے میں امام ذہبیؒ لکھتے ہیں:
وسئل ابنِ معين عن عبد الله بن مصعب فقال: ضعيف الحديث لم يكن له كتاب۔
(تاریخ الاسلام: جلد، 12 صفحہ، 250)
اسی طرح امام ابنِ حجر عسقلانیؒ نقل فرماتے ہیں: ضعفه ابنِ معين۔
(لسان المیزان: جلد 4 صفحہ، 165 رقم: 4854)
امام ذہبیؒ میزان الاعتدال: میں بھی لکھتے ہیں: ضعفه ابنِ معین۔
(میزان الاعتدال: جلد، 2 صفحہ، 389 رقم: 4992)
صفحہ 2 از 3