عصاء رسولﷺ کس نے توڑا؟ حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ پر…

عصاء رسولﷺ کس نے توڑا؟ حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ پر الزام کا جواب

  محمد عدنان چشتی عطاری مدنی

صفحہ 3 از 3
امام ابنِ ابی حاتم رازیؒ (وفات: 327ھ) فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد امام ابوحاتمؒ سے ان (عبد اللہ بن مصعب) کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا:
هو شيخ بابة عبد الرحمٰن بن أبی الزناد۔
(الجرح والتعدیل: جلد، 5 صفحہ، 178)
امام ابوحاتمؒ کے نزدیک عبد الرحمٰن بن ابی الزناد کی حیثیت ملاحظہ فرمایئے چنانچہ امام ابنِ ابی حاتمؒ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے ان کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: يكتب حديثه ولا يحتج به۔
(الجرح و التعديل: جلد، 5 صفحہ، 252)
جب ثابت ہو گیا کہ یہ روایت ضعیف ہے تو ایسی روایت کے ذریعے صحابی رسول کی جانب اس کام کی نسبت میں شک آ گیا جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس بات کی صحابی رسول کی جانب یقینی نسبت درست نہیں۔
2: ذکر کردہ چوتھی روایت میں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ مدرج ہو کیونکہ: وقام جهجاه بن سعد الغفاري وكان ممن بايع تحت الشجرۃ۔ کے الفاظ کسی دوسری روایت میں موجود نہیں اس لیے انہیں راوی کا اضافہ بھی کہا جاسکتا ہے۔
امام ابنِ اثیر جزریؒ کی (اسد الغابہ: جلد، 1 صفحہ، 452، الکامل فی التاریخ: جلد، 3 صفحہ، 58 ابنِ قتیبہؒ کی المعارف: صفحہ، 141، امام سخاویؒ کی  التحفة اللطيفة فی تاريخ المدينة الشريفة: جلد، 1 صفحہ، 431، حافظ ابنِ کثیرؒ کی جامع المسانید و السنن: جلد، 3 صفحہ، 165، اور البدایۃ و النہایۃ: جلد، 5 صفحہ، 260، امام ابنِ عبد البرؒ کی الاستیعاب: جلد، 1 صفحہ، 334، امام صفدیؒ کی الوافی بالوفیات: جلد، 11 صفحہ، 160 وغیرہ کتب میں یہ واقعہ یا تو مجہول صیغے کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے یا بغیر کسی سند کے ذکر کیا گیا ہے، جس کی شرعی حیثیت پہلے ہی ذکر کر دی گئی ہے نیز امام بخاریؒ کی التاریخ الاوسط: جلد، 2 صفحہ، 176 رقم:271)  میں مذکور اس سند: حدثنا قتيبة ثنا محمد بن فليح بن سليمان عن أبيه عن عمته عن أبيها وعيها أنهما خضرا عثمانؓ۔ میں مجہول اور مجروح راوی موجود ہیں یہی سند امام ابنِ عساکرؒ (وفات: 571ھ) نے بھی ذکر کی ہے۔ 
(تاریخ مدینہ دمشق: جلد، 39 صفحہ، 329) 
امام ابنِ ناصر الدین دمشقیؒ (وفات:842ھ) فرماتے ہیں:
ورواہ فی تاريخه الصغير عن قتيبةؒ بنحوه، إلا أنه قال: یعنی امام بخاریؒ نے انہی قتیبہؒ وغیرہ سے تاریخ صغیر میں یہ الفاظ: فقام إليه فلان ابنِ سعد لم يسمہ۔ یعنی پھر فلاں بن سعد کھڑا ہوا نام ذکر نہیں کیا۔
(جامع الآثار: جلد، 6 صفحہ، 3157)
سوال: اس بات کا احتمال تو ہے کہ یہ کام انہی صحابی رسول نے کیا ہو؟
جواب: کسی خلاف شرع کام کی نسبت صرف احتمال، گمان، تخمینے اور اندازے کی بنیاد پر کسی صحابی رسول کی طرف کوئی بھی صحیح العقیدہ مسلمان ہر گز نہیں کر سکتا، اس بات کو اس عبارت سے سمجھا جاسکتا ہے:
ایک معاملے کی نسبت کسی نے امام ابو یوسفؒ کی طرف کر دی اس کے بارے میں بحث کرتے ہوئے امام اہلِ سنت، حضرت امام احمد رضا خانؒ لکھتے ہیں: تحقیق کے بغیر کسی مسلمان کی نسبت کبیرہ گناہ کی طرف کرنا جائز نہیں البتہ یہ کہنا جائز ہے کہ خارجی ابنِ ملجم نے امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اور ابو لولو مجوسی نے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ کو شہید کیا کیونکہ یہ تواتر کے ساتھ ثابت ہے، لہٰذا بغیر تحقیق کے کسی مسلمان پر فسق و گفر کی تہمت لگانا جائز نہیں۔
(احیاء العلوم: جلد، 3 صفحہ، 154)
امام اہلِ سنت مزید فرماتے ہیں: کیونکر حلال ہو گیا کہ ایسے سخت کبیرہ شدید نہ کبیرہ بلکہ اکبر الکبائر کو ایک مسلمان نہ صرف مسلمان بلکہ امام المسلمین کی طرف بلا تواتر نہ فقط ہے تواتر بلکہ محض بلاسند صرف حکی کی بنا پر نسبت کر دیا جائے۔ امام ابو یوسفؒ کی طرف ایسی شدید عظیم بات نسبت کرنا حلال ٹھہرے حالانکہ تواتر چھوڑ کر اصلا کوئی ٹوٹی پھوٹی سند بھی نہیں۔
( فتاویٰ رضویہ: جلد، 10 صفحہ، 194 ملخصا)
اس عبارت کے تناظر میں جلیل القدر قطعی جنتی صحابی سیدنا جہجاہ بن سعید غفاریؓ کی جانب نظر کر میں تو ان کا جنتی ہونا، نبی کریمﷺ کی بارگاہ اور آپ سے نسبت رکھنے والی اشیاء کا ادب و احترام کرنا لازمی یقینی اور قطعی ہے کہ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ جب کہ عصائے رسول کی معاذاللہ بے ادبی والا واقعہ صحت کے اعتبار سے اس درجے کا نہیں کہ جو یقین کو ختم کر سکے تو لازم ہے کہ اليقين لا يزول بالشک۔
قاعدے کے تحت صحابی رسول کی جانب اس فعل کو منسوب نہ کیا جائے۔
آخر میں امام شہاب الدین خفاجیؒ کی عبارت ملاحظہ کیجئے جو کہ اس معاملے میں حرفِ آخر کی حیثیت رکھتی ہے چنانچہ امام خفاجی فرماتے ہیں:
وئی جرأته على قضيب رسول اللهﷺ‎ مع أنه من الصحابة الذين شهدوا المشاهد معهﷺ‎ إشكال لا يخفى فان الظاهر أنه يعرف القضيب وحرمته، وغضبه على عثمانؓ كان مجتهدأ متأولا فيما انكرون عليه، وما هذه الازلة عظيمة لاتليق بمن كان مؤمنا صحابیا۔
ترجمہ: یعنی نبی پاکﷺ‎ کے ساتھ غزوات میں شریک ہونے والے صحابی کا عصا مبارک کے ساتھ ایسی بے باکی کرنا اگر تسلیم کر لیا جائے تو اس میں کئی ایسے اشکالات ہیں جو ڈھکے چھپے نہیں یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ وہ عصا مبارک اور اس کی حرمت کو اچھی طرح جانتے تھے کچھ کلام کے بعد مزید فرماتے ہیں: بہر حال یہ اتنی بڑی غلطی ہے کہ جسے ایک مؤمن صحابی رسول سے جوڑنا ہرگز مناسب نہیں۔
(نسیم الریاض: جلد، 4 صفحہ، 27 طفلا)
الغرض صحابی رسول سیدنا ہجاہ بن سعید غفاریؓ کی جانب اس معاملے کو یقینی اور قطعی طور پر منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

صفحہ 3 از 3